ہیپی کرسمس اور میلاد میں فرق

1257
0
Share:

ہیپی کرسمس اور میلاد میں فرق

1۔ عیسائی حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کی تاریخ 25 دسمبر پر متفق نہیں ہیں، البتہ 25دسمبرکو Christmas مناتے ہیں۔دو الفاظ کو جوڑنے سے Christmasبنتا ہے جس کا مطلب ہے حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے اکٹھا ہونا۔اپنے مُلک اور بیرون ممالک کے تمام عیسائی مذہب کو Happy Christmas کہنا کوئی شرک نہیں ہے۔ البتہ ہم ان کے چرچ میں جا کر عبادت نہیں کریں گے، اُن کے مذہبی رسم و رواج نہیں منائیں گے کیونکہ سب باتیں ناجائز اور گناہ ہیں۔

2۔ اس پر علماء کرام نے لکھا بھی ہے کہ اسلام میں دو اصطلاحات ہیں: ایک مداہنت اور دوسری مدارت۔ مُدَاہَنَت کے معنی ہیں: ’’ کسی دنیاوی مفاد کی خاطر دین کے معاملے میں رعایت دینا یا مفاہمت کرنا‘‘ اور مُدارات کے معنی ہیں: ’’دینی مصلحت کی خاطر کسی کے ساتھ نرمی برتنا ‘‘۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایمان لانے کے بعد سب سے بڑی دانائی مُدارات ہے (مصنف ابن ابی شیبہ:25428)‘‘۔

علامہ علی القاری لکھتے ہیں: ’’مُدَاہنَت ممنوع ہے اور مُدَارات مطلوب ہے، شریعت کی رُو سے مُدَاہَنت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص برائی کو دیکھے اور اُس کو روکنے پر قادر بھی ہو، لیکن برائی کرنے والے یا کسی اور کی جانب داری یا کسی خوف یا طمع کے سبب یا دینی بےحمیّتی کی وجہ سے اُس برائی کو نہ روکے۔ مُدَارات یہ ہے کہ اپنی جان یا مال یا عزت کے تحفظ کی خاطر اور متوقّع شر اور ضرر سے بچنے کے لیے خاموش رہے۔ الغرض کسی باطل کام میں بےدینوں کی حمایت کرنا مُدَاہَنَت ہے اور دین داروں کے حق کے تحفظ کی خاطر نرمی کرنا مُدَارَات ہے. (مرقاۃ المفاتیح ،ج:9،ص:331)‘‘۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں: ’’دین کی حفاظت اور ظالموں کے ظلم سے بچنے کے لیے جو نرمی کی جائے، وہ مُدَارات ہے اور ذاتی منفعت، طلبِ دنیا اور لوگوں سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے دین کے معاملے میں جو نرمی کی جائے، وہ مُدَاہَنَت ہے. (اَشِعَّۃُ اللَّمعات،ج:4،ص:174)‘‘

4۔ حضورﷺ کو عورت، مال اور سرداری کی پیشکش ہوئی مگر دین کے اصولوں پر مفاہمت نہیں کی۔ یہی پیشکش کفار کے کہنے پر جناب ابو طالب نے بھی کی مگر آپ نے فرمایا!اگر وہ سورج کو میرے دائیں ہاتھ اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ میں لا کر رکھ دیں کہ میں دعوتِ دین کو ترک کر دوں، تو ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا(سیرت ابن ہشام)

5۔ مُلک حجاز کے600سالہ اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کامتفقہ فیصلہ ہے کہ میلاد، گیارھویں، ایصالِ ثواب جائز ہے، اس کا کوئی مخصوص طریقہ کسی اہلسنت کتاب میں نہیں لکھا۔ میلاد کا تعلق 12ربیع الاول سے ہر گز نہیں ہے، اسی طرح گیارھویں شریف یا اپنے والدین کے لئے ایصالِ ثواب کرنے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے، اسلئے صدقہ یا خیرات جب مرضی کر کے بزرگان دین اور اپنے والدین کو ایصالِ ثواب کر سکتے ہیں۔

6۔ دیوبندی اور بریلوی دونوں جماعتیں مُلک حجاز کے اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے متفقہ عقائد پرہیں، دیوبندی اور بریلوی کا اصولی اختلاف چار کفریہ عبارتیں ہیں جن پر متفقہ طور پر کفر کا فتوی ہے۔ مُلک حجاز کے اہلسنت علماء کرام کو سعودی عرب کے وہابی علماء نے بدعتی و مُشرک کہا۔ اسلئے وہابی علماء کو چاہئے کہ اہلسنت میں شامل ہونے کے لئے علمی مذاکرات ساری دُنیا کے اہلسنت علماء سے کئے جائیں تاکہ حق ثابت ہو کہ مسلمان کو مشرک کیوں بنایا گیا اس پر توبہ کی جائے۔ یہ اسلئے عوام کو سمجھاتے ہیں کہ امت میں اتحاد پیدا ہو۔

Share:

Leave a reply