کراؤنا وائرس اور خانہ کعبہ کا طواف

856
0
Share:

کراؤنا وائرس اور خانہ کعبہ کا طواف

1۔ سعودی عرب کی حکومت نے کراؤنا وائرس کی وجہ سے بیت اللہ کے ”طواف“ پر پابندی لگا دی ہے۔عوام یہ کہہ رہی ہے کہ بخاری شریف کی حدیث کے مطابق یہ قیامت کی نشانی ہے کہ طواف بند ہو جائے گاحالانکہ صحیح روایت کے مطابق قیامت کی نشانی یہ ہے کہ حج و عُمرہ زبردستی بندکیا جائیگا۔

2۔ عوام علماء سے پوچھیں کہ کیا علماء کرام متفقہ طور پر کوئی فیصلہ دے سکتے ہیں کہ یہ اقدام مسلمانوں کی عبادت کے خلاف ہے اور کیایہ قیامت کی نشانی ہے کیونکہ ابھی 2020کاحج نہیں آیاجو فرض ہے، ابھی عُمرہ ہے جو کہ ایک مستحب عمل ہے، اُسے وقتی طور پر بند کیا گیا ہے؟ اسلئے حج موقوف کرنے کا مطلب بھی یہی ہو گا کہ ایک بندہ بھی حج نہ کر پائے، اگر چند بندے بھی حج کر لیں تو اسے موقوف نہیں کہا جائے گا۔

3۔ کراؤنا وائرس کے متعلق ایک ویڈیو بھی عوام کی طرف سے وائرل ہے کہ قرآن پاک کھولو، سورہ بقرہ میں سے بال نکلے گا، اُس کو دھو کر پی لو، یہ حضورﷺ کی طرف سے مسلمانوں کو کراؤنا وائرس سے نجات کا تحفہ ہے۔ تین دفعہ ہم نے بھی قرآن کھول کر عوام کو دکھایا لیکن بال نہیں نکلا۔ عجیب بات ہے کہ اگر کسی نے قرآن کھولا اور بال نکل آتا ہے حالانکہ کراؤنا وائرس اُس کو نہیں ہے مگر وہ بال دھو کر پی رہا ہے کہ شایداب مجھے کراؤنا وائرس نہیں ہوگا۔

4۔ جس جس عوام نے یہ بال پی لیا ہے اُن کا ایمان اس ویڈیو پر ہے تو اللہ کا نام لیں اور پاکستان میں کراؤنا وائرس کے جتنے کیس رپورٹ ہوئے ہیں، اُن کے ساتھ صرف چند گھنٹے گذار لیں، اُن سے سلام و دعا اور گلے ہی مل لیں لیکن جب بال دھو کر پینے والوں سے یہ بات کی گئی تو خوفزدہ ہو گئے۔ عوام کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جدھر ہوا چلے ادھر ہو جاتی ہے۔

5۔ جہالت کا کوئی علاج نہیں ہے۔ کراؤنا وائرس ایک بیماری کا نام ہے، اس میں ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق احتیاط کرنی چاہئے ورنہ ڈینگی یا کسی اور مرض کے تدارک کےلئے دوائی یا احتیاط کیوں کرتے ہیں؟ البتہ ہمارا اس ویڈیو پر کوئی ایمان نہیں ہے اور احتیاطی تدابیر سب کو اختیار کرنی چاہئے تاکہ ہم ایک قوم نظر آئیں۔

6۔ دعا، دم درود، تعویذ دھاگے بیماری کا علاج نہیں کرتے بلکہ یہ دوائی کی طرح سمجھے جاتے ہیں کہ شفا ہو گئی تو اللہ کریم کی طرف سے ہو گی، اگر موت آ گئی تو وہ بھی اللہ کریم کی طرف سے ہو گی مگر دوا اور دعا سنت ہے۔ توکل کرنے والے دعا اور دوا کے بعد بھی صبر و شکر کے مالک ہوتے ہیں۔

7۔ ہر ایک کا یقین اللہ کریم پر علیحدہ علیحدہ ہے۔ البتہ عوام کو توکل کی ٹریننگ دینی چاہئے۔ اس تربیت سے ہر مسلمان کے اندر یہ شوق پیدا ہوگا کہ میرا مالک مجھے جس حال میں رکھے وہ بہتر ہے، بیماری ہو یا صحت دونوں میرے لئے آزمائش ہیں۔ استاد اور شاگرد ایک جیسے نہیں ہوتے، پیر اور مرید کا حال ایک جیسا نہیں ہوتا، باپ اور بیٹے میں کمال ایک جیسا نہیں ہوتا۔اسلئے ہر ایک کا ایمان دیکھ کر اس کی تربیت تعویذ سے تعلیم اور تعلیم سے توکل کی طرف کی جاتی ہے۔

Share:

Leave a reply