مُلحَد اور موحد

904
0
Share:

مُلحَد اور موحد

1۔ مُلحَد انسان وہ ہوتا ہے جو شک میں مبتلا ہوتا ہے، اسے اللہ کریم کے نظام کی سمجھ نہیں آتی، وہ ایمان بالغیب نہیں لانا چاہتا بلکہ ہر مسئلے کو عقلی و سائنسی بنیادوں پر حل کرنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے مذہب کے بارے میں اُلٹے پُلٹے سوالات کرتا ہے، اسلئے اس کو بے دین، دھریہ (Atheist) کہا جاتا ہے۔

2۔ مُلحدعوام میں کوئی ایک عالم نہیں ہوتا بلکہ درجہ بدرجہ جتنا زیادہ پریشان (confused) ہے اُتنے زیادہ سوالات اُس کے اندر پیدا ہوں گے، یہ اسیطرح ہے کہ ہر انسان علم کے لحاذ سے اپنے اپنے درجے پر ہوتا ہے مگر اپنے آپ کو سب سے بڑا عالم ہی سمجھتا ہے۔ مُلحد انسانوں کی متفقہ کوئی کتاب نہیں ہوتی، اگر ان کی کوئی کتاب ہو تو اُس کے حوالے سے اُن سے سوال کئے جا سکتے تھے اور اُن کے سوالوں کے جواب دئے جا سکتے تھے۔

3۔ ملحد کو چاہئے کہ اپنے سوالات کو سمجھنے کے لئے علماء کرام سے رابطہ کرے جو اُس کے علمی مذاق کی طرح اُسے سمجھا سکتے ہوں، علماء کرام کو بھی چاہئے کہ اُن پر کوئی شرعی فتوی نہ لگائیں کیونکہ اگر وہ خود کومسلمان سمجھتاہے تو مُرتد کہلائے گا، اگر مسلمان نہیں تو کونسے دین پر کہلائے گا۔ اسلئے اُس کی عقل کے مطابق بات کر کے اللہ کریم سے دُعا کریں کہ یا اللہ مُلحد کو ہدایت عطا کر دے ورنہ مُلحد پہلے ہی مولوی کو تنگ نظر سمجھتا ہے اور سائنس کو روشنی سمجھتا ہے۔

4۔ مُلحد کو اگر سمجھنا ہے تو اس سے پہلے اُس کی تعلیم پوچھیں،اُس سے پوچھیں مذہب سے بیزار کیوں ہے، اس کائنات کی ذمہ داری کس پر ڈالتا ہے، کیا ریاست کو ذمہ دار مانتا ہے؟ کیا مذہب کو سائنس کے مطابق سمجھنا چاہتا ہے یا سائنس کو مذہب سے ثابت کرنا چاہتا ہے؟

5۔ البتہ مُلحد سے وہ بحث کرے جس کے پاس قرآن، تفاسیر، احادیث، فقہ، تاریخ، عربی زبان و ادب، فلسفہ، مشہور سائینٹفک تھیوریز مثلاً بگ بینگ تھوری اور نظریہ ارتقاء جیسی اہم معلومات ہوں ورنہ کسی ایسے گروپ کو جوائن کرے جہاں مُلحد کے سوالوں کے جواب دئے جاتے ہوں۔

6۔ سیکولرازم، لبرل ازم، الحادازم، قادینیت، رافضیت اور بے راہ روی اسلئے زیادہ ہے کہ ہمارے علماء کی آپس میں لڑائی ہے۔ اسلئے مُلحد لوگ سوال کرتے ہیں کہ تم مولوی آپس میں کیوں لڑتے ہو اگر ایک دین پر ہو؟ اس سوال کا دُکھ بھی ہے اسلئے اگر تمام مسلمان پاکستان میں اتحاد امت چاہتے ہیں تو علماء کرام سے سوال کر یں تاکہ مُلحد کو بھی توحید کی سمجھ آ جائے۔

Share:

Leave a reply