مذہب انسانیت کا حل

1606
0
Share:

مذہب انسانیت کا حل

پاکستان کے دانشوروں کا مقبول ترین جملہ یہ ہے کہ ’’انسانیت‘‘ ہونی چاہئے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر’’ انسان‘‘ انسانوں کی قدر نہیں کر رہا؟ انسانیت کا درس دینے والے ہر انسان سے یہ سوال پوچھا جائے کہ انسانیت کا درس ’’مذہب‘‘ کو مٹانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے یا انسانوں کا خیال رکھنے کی دعوت دی جا رہی ہے؟ اس پر یہ چند نُکات بیان کرتے ہیں:

1۔ انسانیت کے لئے بڑے بڑے سیمینار کروانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وزیر اعظم، MPA، MNA،اسٹیبلشمنٹ، سرکاری اداروں میں کام کرنے والے CSPآفسیرز سے لے کر ایک عام نائب قاصد کو انسانیت کا درس دیا جائے کیونکہ یہ ادارے اپنا کام نہیں کر رہے بلکہ خالی کاغذی کاروائی کی جا رہی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ بتا دیں کہ ادارے میں آنے والے ہر انسان سے کیا سلوک کیا جاتا ہے اور کیا ادارے ’’انسانیت ‘‘ کے لئے کام کر رہے ہیں؟

2۔ انسانیت کا رونا رونے والوں سے یہ بھی سُنا ہے کہ عُمرہ کرنے کی کیا ضرورت ہے، قربانی کرنے کی کیا ضرورت ہے، یہی پیسہ غریبوں میں بانٹ دینا چاہئے حالانکہ ہر کوئی اپنے اپنے رسم و رواج پر عمل کرتا ہے تو مذہب پر چلنے والوں کو کیوں یہ تلقین کی جاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسانیت کا درس دینے کی آڑ میں مذہب کو بدنام کیا جا رہا ہے اور پھر اُمید بھی مذہبی لوگوں سے لگائی جاتی ہے۔

3۔ ایک ٹرین میں ایک مولوی صاحب اور ان کے دوست اپنی اپنی سیٹوں پربیٹھے تھے تو ایک داڑھی مُنڈے نے ان سے کہا کہ مجھے بھی ساتھ بٹھا لیں تو مولوی صاحب نے تنگ ہو کر بیٹھنے کی بجائے ان کو ساتھ بٹھانے سے انکار کر دیا۔ اُس نے مولوی صاحب کی خوب بے عزتی کی لیکن کسی اور داڑھی مُنڈھے نے اُس کو جگہ نہیں دی کیوں؟کیا انسانیت مولوی صاحب کیلئے لازمی ہے؟

4۔ انسانیت کے لئے حضرت عُمر رضی اللہ عنہ نے جو قانون بنائے ان سے مغربی ممالک نے فائدہ اُٹھایا۔ہمارے مُلک میں قانون ہے لیکن قانون پر عمل کروانے والے ادارے وڈیرے، جاگیر دار، دو نمبر پیروں کے ہاتھوں یرمغال ہیں اور بعض اوقات قرضے پکڑ کر ہم اپنے ہی ملک کے انسانوں کو گروی رکھ چُکے ہیں۔اس کا خاتمہ انسانیت کی معراج ہے لیکن انسانیت کا درس دینے والے وہاں نہیں بول سکتے۔

5۔ ہمارے مُلک کی تجزیاتی رپورٹ کہتی ہے کہ ہماری نسلیں2025کے بعد پانی کو ترسیں گی۔ ڈیم بنانے میں کون کون رکاوٹ ہیں، کیا وہ انسانیت کے خلاف نہیں ہیں؟ اب کیوں نہیں بول رہے کیونکہ ہم کوئی کام مستقل مزاجی سے نہ کرتے ہیں اور نہ سوچتے ہیں اسلئے ہم ایک قوم نہیں بلکہ ہجوم ہیں۔

6۔ ہمارا معاشرتی نظام ہی درست نہیں ہے کیونکہ سادگی سے ہم کوئی کام نہیں کرتے بلکہ بچہ پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک سارے کام رسماً اور قرضہ پکڑ کرکئے جاتے ہیں جن پر ثواب نہیں ملتا اور کسی میں ہمت نہیں ہوتی کہ رسم و رواج کے خلاف لڑ سکے کیونکہ ہمت کس انسان نے کرنی ہے؟

7۔ ہمارے مُلک میں ایک کروڑ ’’نشہ‘‘ کرنے والے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہر24واں انسان نشائی ہے ، آپ قبرستان میں موجود نشے کے اڈے نہیں بند کرا سکتے کیونکہ وہ بھی کسی کی سرپرستی میں چلتے ہیں، انسانیت کا درس دینے والوں کو یہ بھی انسانوں پر ظلم نظر نہیں آتا۔

8۔ انسانیت کا درس وزیر اعظم، قانون بنانے والے اداروں، جاگیر داروں، وڈیروں، مولویوں یا کس کو دینا چاہئے کیونکہ جو نماز نہیں پڑھتا اُس کوبے نمازی کہا جائے۔اسلئے جو انسان انسانیت کا حق ادا نہیں کرتا کیا وہ انسان ہو سکتا ہے؟

9۔ یہاں عوام امام کو پسند نہیں کر رہی اور امام عوام سے نالاں ہے۔اگر ہم سارے مل کر سسٹم کے خلاف بولتے رہیں گے توکچھ نہیں ہو گا لیکن اگر ہم قیامت کا خوف رکھتے ہوئے اپنی زندگی میں اپنے اپنے کام سے مخلص ہو جائیں گے تو سسٹم ٹھیک ہو نہ ہو ہماری آخرت ضرور ٹھیک ہو جائے گی۔

10۔ یہاں لڑنےمرنے کے لئے مذہبی عوام اور علماء سب تیار مگر اتحاد امت کے سوال پر موت پڑ جاتی ہے ورنہ دیوبندی علماءیہ بتائیں کہ اگر بریلوی عوام کو دیوبندی بنانا ہے تو بریلوی کن کن غیر شرعی اعمال یا کُفریہ عقائد سے توبہ کرے اور وہ عقائد ان کی کس عالم کی کتابوں میں لکھے ہیں، کسی بھی مزار یا میلاد کرنے والی عوام کا حوالہ نہیں دینا۔ اگر دیوبندی کو بریلوی بنانا ہے تو بریلوی علماءیہ بتائیں کہ دیوبندی کن کن غیر شرعی اعمال یا کُفریہ عقائد سے توبہ کرے اور وہ عقائد ان کی کس عالم کی کتابوں میں لکھے ہیں۔اہلحدیث جماعت بھی یہ بتائےکہ بریلوی اور دیوبندی خود بخود قرآن و احادیث پڑھ کر اہلحدیث بن جائیں گے یا کسی امام کی پیروی کریں کرنا لازمی ہے۔ اگر کسی کی پیروی کی ضرورت نہیں تو سارے لبرل (liberal) عوام اپنے مطلب کی احادیث پڑھ رہی ہے تو کیا وہ بھی اہلحدیث ہے؟

اتحاد امت:اس سے پہلے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اہلسنت، سلطنت عثمانیہ کے مُلک حجاز، خانہ کعبہ میں چار مصلے رکھنے والے، چار امام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے ماننے والوں کے متفقہ عقائد والے ہیں، جن کو سعودی عرب کے وہابی علماء نے بدعتی و مُشرک کہہ کر قتال کیا۔ دیوبندی اور بریلوی کا اصولی اختلاف دیوبندی علماء کی چار کفریہ عبارتیں ہیں جن پر کفر کا فتوی بھی ملک حجاز کے 36اہلسنت علماء کرام نے دیا جس پر توبہ کرنے سے ایک اہلسنت بن سکتے ہیں کیونکہ ہمیں دیوبندیت اور بریلویت میں پھنسنا نہیں۔البتہبریلوی علماء کی کسی عبارت پر کفر کا فتوی نہیں ہے۔ سعودی عرب کے وہابی علماء کو چاہئے ترکی، ملائشیا، پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، افغانستان وغیرہ جہاں پر فقہ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی علماء کرام ہیں ان سے علمی مذاکرات کرکے مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے پر توبہ کریں۔

Share:

Leave a reply