ماہ شعبان اور شب برات

1076
0
Share:

ماہ شعبان اور شب برات

کراونا: ہمیں موت سے ڈر نہیں لگتا اسلئے کراونا کو امتحان اور مجاہدہ سمجھ کر حفاظتی تدابیر کر تے ہوئے ساتھ ساتھ عبادت بھی کر رہے ہیں تاکہ پھر بھی موت آ جائے توایمان کی حالت میں آئے اور مسائل سیکھنا سکھانابند نہیں کریں کیونکہ ماں کی گود سے قبر کی گود تک علم حاصل کرنا ہے۔

1۔ شعبان حضورﷺ کا مہینہ ہے اور اس مہینے میں حضورﷺ کثرت سے روزے رکھتے تھے۔ اسلئے اگر کسی مسلمان کے روزے قضا نہیں ہیں تو وہ اس ماہ میں حضورﷺ کی سنت ادا کرتے ہوئے نفلی روزے رکھے مگر ماہِ شعبان کے روزوں کا ثواب کہیں نہیں لکھا، اگر لکھا ہے تو ضرور بتائیں۔ البتہ ایسے بھی اہلسنت ہیں جو اس ماہ میں انفرادی طور پرکثرت سے روزے رکھتے ہیں۔

2۔ حضورﷺ کی احادیث کے مطابق 15شعبان کی رات کو شب برات کہتے ہیں کیونکہ اس میں کثیر تعداد میں مسلمانوں کی بخشش ہوتی ہے مگر بخشش سے پہلے اور اس رات کے آنے سے پہلے ہر مسلمان کو (1) شرک (2) بغض (3) ناحق قتل (4) زنا (5) شراب (6) قطع تعلقی (7) والدین کی نافرمانی او کبیرہ گناہوں سے توبہ کر لے، اگر توبہ نہیں کرنی تو بخشش کیسے ہو گی۔بخشش ہونے کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے کہ جس کی بخشش ہو جائے اللہ کریم اُس سے گناہوں کی طاقت کم کر دیتا ہے اور اُس کے اندر حضورﷺ کی محبت بڑھا دیتا ہے۔

3۔ ایک مولوی صاحب نے 15 شعبان کی رات تقریر کے دوران پوچھا کہ آج بخشش کی رات ہے، کیا سب بخشش کروانے آئے ہیں، سب نے کہا ہاں جی! مولوی صاحب نے پوچھا بخشش گناہ گاروں کی ہوتی ہے، کیا تم سب گناہ گار ہو، سب کہنے لگے ہاں جی!مولوی صاحب نے پوچھا کہ کون کون سے گناہ چھوڑو گے؟ سب خاموش رہے کیونکہ ہم گناہ چھوڑنا نہیں چاہتے البتہ بخشش بغیر عمل کے مانگتے ہیں۔کیا ایسا نہیں ہے؟؟

4۔ 15شعبان کی رات اور فضائل کی راتیں خاص لوگوں کے لئے ہیں ورنہ عوام کے لئے لازم ہے کہ ہر دن و رات میں توبہ کرے، اپنے فرائض اورواجبات پورے کرے اور جو نمازیں روزے قضاہیں وہ ادا کرے، چاہے رات معراج، شب برات، چاند رات یا لیلتہ القدر ہو۔ عام عوام کو خاص بننے کے لئے یہ مشورہ ہے۔

اعلان: اللہ کریم کاشکر ہے کہ ہم عید، شب برات اور معراج شریف پر اپنی ”بہن بیٹیوں“ کو حلوائی کی دُکان سے پھیونیاں اور پھول ٹکیاں نہیں بھیجتے۔یہ بھی عرض ہے کہ عورت سے نکاح کے وقت جہیز، معراج شریف شب برات پر پھیونیاں، عید پر عیدی اور سُسر ساس کے مرنے پر دیگیں لینے والے شرم کریں اور اس شیطانی رسم و رواج کا بائیکاٹ کریں۔کل قیامت والے دن کیا منہ دکھائیں گے؟

اتحاد اُمت: دو حرفی بات ہے دیوبندی اور بریلوی علماء اہلسنت ہیں جن کو سعودی عرب کے وہابی علماء نے بدعتی و مشرک کہا۔ دیوبندی علماء کی چار کفریہ عبارتوں پر کفر کا فتوی ہے جو ملک حجاز، چار مصلے، 36 اہلسنت علماء کرام(حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) نے دیا اور وہ فتاوی واپس نہیں ہوئے، ان فتوؤں سے توبہ کرنے پر ہم ایک اہلسنت بن جائیں گے۔ اہلحدیث حضرات صرف اتنا بتا دیں کہ تقلید کو شرک فی الرسالت، بدعت و شرک کس نے کہا۔ اُس محدث اور مجتہد کا نام بتائیں جس نے ان کو محمدی نماز سکھائی؟

توبہ: ہر جماعت اپنی اپنی غلطی پر توبہ کر لے ورنہ قیامت والے دن عوام کو گمراہ کرنے کے جرم میں سزا ہو گی۔

Share:

Leave a reply