قرآن،تصوف اور آئمہءتفسیر

192
0
Share:

قرآن،تصوف اور آئمہءتفسیر

بہت سے دیگر سوالات کی طرح تصوف کے متعلق یہ بھی عام پوچھا جانے والا سوال ہے کہ تصوف کی اصل کیا ہے؟ اور اِس کا اصُول کیا ہے؟ تصوف کہاں سے اخذ ہوا ہے؟ تصوف کی بنیاد، اس کی اُٹھا ن اور اس کی جو پوری فکری عمارت ہے وہ کس استدلال اور کس بیانیےپر کھڑی ہے؟ بالخصوص یہ کہ کیا قرآن سے اس کے فکر و عمل کی کوئی تائید یا مُطابقت و موافقت ثابت ہے ؟

اس لئے آج پوری گفتگو جس ایک بنیادی موضوع کے باغیچہ کے گرد گھوم کر مختلف اطراف سے خوشبوئیں لائے گی وہ بنیادی موضوع قرآن اور تصوف ہے کہ قرآن کریم میں اس علم کے متعلق کس طرح تائید یا مُطابقت و موافقت ہے- موضوع اور مسائل تصوف کے ہوں گے لیکن اس کی وضاحت اور استدلال ہم آئمہ تصوف سے نہیں بلکہ اُن آئمہ کرام کی تفاسیر میں سے کریں گے جنہوں نے فقہی اور علمی اعتبار سے تفاسیر مرتب کی ہیں-کیونکہ عمومی طور پر صوفیاء کرام اپنی بے شمار کتب میں تصوف کو آیاتِ قرآنی سے بیان کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایک یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ شاید صوفیوں نے یہ تشریحات (interpretations ) قرآن کریم سے خود اختراع کی ہیں جبکہ فقہ یا احکام میں ان باتوں کا رجحان نہیں پایا جاتا-اس لئے اس تاثر کے سامنے جو اس کا دوسرا پہلو ہے کہ کس طریقہ سے آئمہ قرآن نے اس کو پیش کیا ہے اس کاہم جائزہ لیں گے-لیکن ساتھ ساتھ اس پر صوفیاء کا جو نکتہ نظر ہے وہ میں اس کی تمہید میں واضح کردوں گا لیکن اس سے پہلے ایک ضروری عرض کرنا چاہوں گا کہ پنجاب، سندھ، پختونخوا، پاک و ہند حتی کے ایران میں بھی جو تصوف رائج ہے، میرے خیال میں یہ علِم تصوف کی بد قسمتی ہے کہ یہاں پر عصرِ حاضر میں تصوف و روحانیت کی بحث زیادہ تر اشعار اور فصاحت و بلاغت سے رہی ہے جس سے ذوق کی تسکین تو ہوتی رہی مگر وہ اصل مقصد جو تصوف ہمیں سمجھانا چاہتا تھا وہ ہم سے اوجھل ہوگیا-جس سے معترضینِ تصوف کو سادح لوح لوگوں میں یہ تاثر قائم کرنے کا موقعہ ملا کہ تصوف کتاب اللہ سے موافقت و مطابقت نہیں رکھتا اور نیز یہ کہ علمِ تصوف کی قرآن حکیم میں بُنیاد موجود ہی نہیں ہے –

لیکن اگر آپ متقدمین علمائے عرب میں دیکھیں مثلاً آپ کبھی امام ابوبکر کلابازیؒ کی تصنیف ’’التعرف لمذہب اہل التصوف‘‘، سیدی شیخ عبدالقادر جیلانی (رضی اللہ عنہ) کی تصنیف ’’فتوح الغیب‘‘،جس کی شرح علامہ ابن تیمیہ اور شاہ عبد الحق محدث دہلویؒ نے کی،اس کے علاوہ ’’سر الاسرار‘‘، ’’رسائل جنید بغدادی‘‘ اور ’’کشف المحجوب‘‘ کو دیکھیں، امام قشیری کا رسالہ قشیریہ ، شیخ ابو طالب مکی کی قُوت القلوب، حجۃ الاسلام امام غزالیؒ کی کیمیائے سعادت اور احیاء العلوم کو دیکھیں ، کیونکہ یہ وہ تصانیف ہیں جن میں علمائے عرب علمِ تصوف کو محض تسیکن و ذوق کے لئے استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے نزدیک تصوف ایک عمل تھا جو ایک انسان کی زندگی میں انسان کے اندر سے ایک انقلاب پیدا کرتا ہے-نفسیات کی زبان میں علِم تصوف انسان کے اندر کی وہ ’’پوزیٹو انرجی‘‘ ہے جو اس کو قدرت کا قرب عطا کرتی ہے-

صوفیاء کرامؒ قرآن حکیم سے تصوف کو کیسے اخذ کرتے ہیں؟ اور قرآن کریم میں ان علوم باطنیہ کی اہمیت کیا ہے؟ یہ معلوم کرنے کے لئے سب سے پہلے صوفیاء کرام (رحمتہ اللہ علیھم)کا عقیدہ مختصراً جان لیں کہ وہ تصوف کو کس نکتۂ نظر سے دیکھتے ہیں-اس لیے میں اُن چھ (6) صوفیاء کرام کے اقوال نقل کروں گا جن کا عرب و عجم میں بہت احترام کیا جاتا ہے-

1-شیخ ابو بکر الاسحاق کلاباذیؒ ’’اَلتَّعَرُّفْ لِمَذْهَبِ أَهْلِ التَّصَوُّفْ‘‘اور السید الشریف الجرجانی ؒ جو نہ صرف آئمہ تصوف کے ہاں بلکہ دیگر علوم،نحو اورمنطق میں بھی ایک اعلیٰ مقام رکھتے ہیں اور ان کی کتب اُمّت میں نصابی کتب میں بھی شامل ہیں- وہ ’’کتاب التعریفات‘‘ میں لکھتے ہیں کہ جب حضرت جنید بغدادی ؒ سے تصوف کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؒ نے فرمایا:

’’ تَصْفِيَةُ الْقَلْبِ عَنْ مُّوَافَقَةِ الْبَرِيَّةِ ‘‘[1]

’’مخلوق کی موافقت سےدل کی صفائی کرنے کا نام ہے‘‘-

2-امام ابو نعیم الاصبہانیؒ ’’حلیہ الاولیاء‘‘ میں لکھتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر شبلیؒ سے پوچھا گیا کہ تصوف کیا ہے؟ تو آپؒ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ:

’’تَسْلِیْمُ تَصْفِیَّۃِ الْقُلُوْبِ لِعَلَّامِ الْغُیُوْبِ‘‘[2]

’’علا م الغیو ب (اللہ پا ک )کیلئے دلو ں کے تزکیے کو اچھی طرح کرنا‘‘-

3- علامہ ابن عساکر ’’تاریخ مدینۃ الدمشق‘‘میں ابوالحسن علی بن احمد البُوشَنْجِیؒ کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’التَّصَوُّفُ عِنْدِیْ فَرَاغُ الْقَلْبِ ‘‘[3]

’’تصوف میرے نزدیک دل کا (ماسوی اللہ سے) فراغت کا نام ہے‘‘-

یعنی ہر طرف سے دل کو ہٹا کر صرف اللہ کی جانب اپنے دل کی لو لگا لینا یہ تصوف ہے-

4- امام تاج الدين السبكیؒ المتوفی :(771ھ) ’’طبقات الشافعیۃ الكبرى‘‘میں لکھتے ہیں کہ جب شیخ ابو عبد اللہ محمد بن خفیف الشیرازیؒ (المتوفی :371ھ) سے تصوف کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؒ نے فرمایا کہ:

’’تَصْفِیَۃُ الْقَلْبِ عَنْ مُّوَافَقَۃِ الْبَشَرِیَّۃِ‘‘[4]

’’بشریت کی موافقت سے دل کا تصفیہ کرنا ‘‘-

5-الشیخ الکبیر حضور شہنشاہ بغداد حضور شیخ عبد القادر الجیلانی (رضی اللہ عنہ)’’سرالاسرار فی مایحتاج الیہ الابرار‘‘میں لکھتے ہیں کہ:

’’وَلَمْ یُسَمِّ اَھْلُ ا لتَّصَوُّفِ اِلَّالِتَصْفِیَّۃِ بَاطِنِھِمْ‘‘[5]

’’صوفیا کو ان کے باطن کی صفائی کی وجہ سے اہل تصوف کہا جاتا ہے‘‘-

6-حضور سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو صاحب (قدس اللہ سرّہٗ) سےجب پوچھا گیا کہ تصوف کیا ہے ؟ تو اس کا جواب آپ (قدس اللہ سرّہٗ) نےیوں ارشادفرمایا:

’’تصوف دل کی کامل صفائی کا نام ہے‘‘-

یعنی جس کا قلب آسائشِ دنیا سے صاف ہو کر راغب الی اللہ ہو جائے تو وہ صوفی ہو جاتا ہے-مختلف زمانہ و مختلف ادوار کے اکابرین کی عبارات یہ واضح کرتی ہیں کہ تصوف طہارتِ باطنی کا نام ہے –

آپ فرض کریں کہ صوفیاء کی جانب سے یہ وضاحت قائم کردہ ہے کہ تصوف دل سے کلام کرنے کا علم ہے- صُوفیہ کے اِس نظریہ پہ بہت سے سوالات داغے جا سکتے ہیں بلکہ داغے جاتے ہیں – مثلاً : انسان کیا محض اپنے دل کے اوپر موقوف ہے؟ اگر قلبِ انسانی کو آپ اتنی زیادہ ترجیح دیں گے تو انسان کے دیگر جتنے بھی بشری تقاضے ہیں ان کو آپ کہاں رکھیں گے؟ اور پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسانی زندگی میں دل کی اتنی اہمیت ہے یا دل کو اتنی فوقیت و ترجیح دی جا سکتی ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی کو دل کی حفاظت / پروٹیکشن کے اوپر صرف کرے؟اور کیا قرآن کریم دل کو اتنا زیادہ اہمیت و توجہ کے قابل سمجھتا ہے کہ قرآن آپ کو بار بار یہ درس دے کہ تم نے اپنی پوری زندگی دل کی حفاظت کرنے میں گزارنی ہے؟

اگر قرآن نے ایساکوئی علم حاصل کرنے کی تلقین نہیں کی پھر تو واقعتاً یہ علم ایک رائیگاں مشقّت ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ محض لفظی باتیں رہ جاتی ہیں عمل کی دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہ جاتا- مگر آپ جب آنکھ کا بھینگا پن ختم کر کے قرآن میں نظر دوڑاتے ہیں تو اِس کے بڑے دلچسپ جوابات قرآن کریم خود ارشاد کرتا ہے – درج بالا سوالات کے جواب میں اس موضوع کے پورے ذخیرۂ قرآنی سے صرف نو (9)آیات تلاوت کرکے ان کا مختصر ترجمہ عرض کروں گاجن سے آپ خود یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ قرآن کریم کے نزدیک حیات انسانی میں کیا قلب کی اتنی اہمیت ہے کہ انسان اپنی قلب کی ماہیت پر غور کرے اور اپنے قلب کو آلائشوں سے پاک رکھے- قرآن کریم اس کے اوپر جو آپ کی رہنمائی کرتا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں–!

1) ’’خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْ وَعَلٰٓی اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ وَّلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ‘‘[6]

’’اللہ نے (ان کے اپنے اِنتخاب کے نتیجے میں) ان کے دلوں اور کانوں پر مُہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑ گیا) ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے‘‘-

یعنی جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگادی ہے ان کےلئے سخت عذاب ہے-

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

2) ’’فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ فَزَادَہُمُ اللہُ مَرَضًا وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌمْ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ‘‘[7]

’’ان کے دلوں میں بیماری ہے، پس اللہ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے‘‘-

یعنی جن کے دلوں میں مرض ہے اور اس مرض کی بدولت ان کے اوپر اللہ نے عذاب مقرر کر رکھا ہے-

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

3) ’’اَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰـہُ وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنْ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْکٰفِرِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ‘‘[8]

’’بھلا وہ شخص جو مُردہ (یعنی ایمان سے محروم) تھا پھر ہم نے اسے (ہدایت کی بدولت) زندہ کیا اور ہم نے اس کے لیے (ایمان و معرفت کا) نور پیدا فرما دیا (اب) وہ اس کے ذریعے (بقیہ) لوگوں میں (بھی روشنی پھیلانے کے لیے) چلتا ہے اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ (وہ جہالت اور گمراہی کے) اندھیروں میں (اس طرح گھِرا) پڑا ہے کہ اس سے نکل ہی نہیں سکتا-اسی طرح کافروں کیلئے ان کے وہ اعمال (ان کی نظروں میں) خوشنما دکھائے جاتے ہیں جو وہ انجام دیتے رہتے ہیں‘‘-

قرآن کریم جو زندہ اور مردہ کا معیار بیان کر رہا ہےاس سے مراد محض انسان کی یہ مادی زندگی، انسانی کا یہ مادی وجود یا محض انسان کے بظاہر نظر آنے والے اعضاء نہیں ہیں-بلکہ حیاتِ انسانی سے روحانی پہلو مراد ہے-یعنی قرآن کریم کے نزدیک زندگی اور موت کا انحصار محض اس جسد میں سانس ہونےیا نہ ہونے سےنہیں ہوتا بلکہ اس زندگی اور موت کا انحصار انسان کے حیاتِ قلبی اور حیاتِ باطنی کے اوپر ہوتا ہے- اسی آیت کی تشریح میں قاضی ثنااللہ پانی پتیؒ فرماتے ہیں کہ :

’’ومن کان میتا یعنی کافرا غافلا قلبہ عن الحق‘‘[9]

’’میت سے مراد یہاں پر ایک ایسے جھٹلانے والےکا دل ہےکہ جس کا دل اللہ کی حقانیت سے غافل ہو چکا ‘‘-

اور زندہ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

’’فاحیینہ یعنی احیینہ قلبہ بنور الایمان‘‘

’’زندہ وہ ہے جس کے دل کو اللہ نے نور ایمان سے زندہ فرما دیا‘‘-

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

4) ’’وَ اِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ نَّظَرَ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ ھَلْ یَرٰکُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا صَرَفَ اللہُ قُلُوْبَھُمْ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَھُوْنَ[10]‘‘

’’اورجب بھی کوئی سورۃ نازل کی جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں (اور اشاروں سے پوچھتے ہیں) کہ کیا تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا پھر وہ پلٹ جاتے ہیں- اللہ نے ان کے دلوں کو پلٹ دیا ہے کیوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے‘‘-

یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیت یا اس کے پیغام سے اپنے آپ کو پلٹانا چاہتے ہیں اور اس کی تکذیب کی طرف جانا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم پھر ان کے دلوں کو ہی پلٹ دیتے ہیں-اس لئے قرآن کریم نے ہدایت کے فلسفے کو بار بار انسان کے قلب کے ساتھ مشروط کر کے بیان فرمایا ہے-

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

5) ’’وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا‘‘[11]

’’اور اس شخص کی اطاعت (بھی) نہ کر وجس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے‘‘-

ایسا شخص جس کا دِل غفلت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہو اور اُسے تصفیہ و تزکیہ نصیب نہ ہوا ہو، از روئے قرآن ایسے شخص کی پیروی منع ہے-یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو تصوف کو ضلالت کہتے ہیں فی الحقیقت وہ اپنی غفلتِ قلبی کا اعلان کرتے ہیں کیونکہ وہ خود ضلالت کا شکار ہیں ، ایسے لوگوں کی پیروی سے بچنا اہلِ ایمان پہ لازم ہے –

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

6) ’’ فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیثَاقَہُمْ لَعَنّٰـہُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَہُمْ قٰـسِیَۃً[12]

’’پھر ان کی اپنی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کر دیا ‘‘-

دلوں کی سختی عذابِ الٰہی کے طور پہ بیان کی گئی ہے اور اِس آیت میں بطور سزا کے متعارف کروائی گئی ہے –

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

7) ’’اَفَرَءَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوَاہُ وَاَضَلَّہُ اللہُ عَلٰی عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃًط فَمَنْ یَّہْدِیْہِ مِنْم بَعْدِاللہِط اَفَـلَا تَذَکَّرُوْنَ[13]‘‘

’’کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ ٹھہرا دیا ہے اور اس کے کان اور اس کے دل پر مُہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے، پھر اُسے اللہ کے بعد کون ہدایت کر سکتا ہے، سو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے‘‘-

اس آیت مبارکہ کی تفسیر بذاتِ خود ایک الگ موضوع ہے- پہلی بات تو یہ فرمائی جا رہی ہے کہ خواہشاتِ نفس پہ قابو نہ ہونا شرکِ خفی کا باعث ہے، تصوف کا پہلا قاعدہ اور اوّلین سبق ہی ’’ضبطِ نفس‘‘ ہے – دوسری بات یہ کہ اگر باطن صاف اور پاک نہیں ہے تو محض علمیّت کے بل بوتے پہ گمراہی سے نہیں بچا جا سکتا ذرا اِن الفاظ کو غور سے دیکھ لیں } وَاَضَلَّہُ اللہُ عَلٰی عِلْمٍ {علم کے ساتھ ساتھ باطن کا تزکیّہ و تصفیہ بھی ضروری ہے-جس کان اور دل پر مہر لگا دی جائے اور آنکھوں پہ پردے پڑ جائیں اور وہ گمراہی میں مبتلا ہو جائے تو وہ دل نورِ الٰہی سے قطعی طور پر محروم ہو جاتا ہے-

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

8) ’’اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَھُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِھَآ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَاج فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰـکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ‘‘[14]

’’تو کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی کہ (شاید ان کھنڈرات کو دیکھ کر) ان کے دل (ایسے) ہو جاتے جن سے وہ سمجھ سکتے یا کان (ایسے) ہو جاتے جن سے وہ (حق کی بات) سن سکتے، تو حقیقت یہ ہے کہ (ایسوں کی) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں‘‘-

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

9) ’’ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِصلے لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ بِہَاز وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِہَاز وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِہَاط اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ‘‘[15]

’’اور بے شک ہم نے جہنم کے لیے جنوں اور انسانوں میں سے بہت سے (افراد) کو پیدا فرمایا وہ دل رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) سمجھ نہیں سکتے اور وہ آنکھیں رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) دیکھ نہیں سکتے اور وہ کان (بھی) رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) سن نہیں سکتے، وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ (ان سے بھی) زیادہ گمراہ، وہی لوگ ہی غافل ہیں‘‘-

ان تمام آیات مبارکہ میں ہمارے سامنے بنیادی مقدمہ ایک تمہید کے طور پر یہ کھلتا ہے کہ اہل تصوف جو پاکیزگیٔ قلب کو اتنی زیادہ اہمیت کا حامل قرار دیتے ہیں،اس سب کے پیچھے جو فلاسفی یا نکتۂ نظر کارفرما ہے وہ قرآن کریم نے کھول کر بیان کر دیا ہے کہ ہدایت کا تعلق انسان کے قلب کے ساتھ ہے-اگر قلب کے اوپر مہر لگادی جائے یا پردے ڈال دے جائیں تو انسان کے لئے ہدایت کا حصول ممکن ہی نہیں ہے-

اس لئے اہل تصوف نے قرآن کریم کے اس نکتۂ نظر کو اپناتے ہوئے علِم تصوف کو تشکیل دیا تاکہ انسان کا تعلق کائناتِ قلبی کے ساتھ استوار ہوجائے-یہ ہے وہ جواز، جو صوفیاء کرام نے قرآن مجید سے اخذ کیا جس کے اوپر علم تصوف کی بنیاد رکھی-یعنی جب دل یادِ الٰہی سے غافل ہوتا ہے تو اس دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرض پیدا ہوجاتا ہے جس سے انسان کی تمام ریاضات و عبادات از روئے قرآن رائیگاں چلی جاتیں ہیں-اس لئے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے عذاب کی وعید سنا رکھی ہے جن کے دلوں میں کجی ہے-

بنیادی طور پر انسانی زندگی میں یہ تین تقاضے ہیں:

1. حقوق اللہ:(اللہ تعالیٰ کے حقوق)

2. حقوق العباد:(بندوں کے حقوق)

3. حقوق النفس:(بندے کے اپنے اوپر حقوق)

صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ بندے کے اپنے اوپر بھی یہ حقوق ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ہر طرح کی ظلمت، غفلت اور تاریکی وگمراہی سے دور رکھے جس کے لئے وہ یہ تجویز فرماتے ہیں کہ اپنے رب سے یہ دعا مانگا کرو جو اس نے قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے:

’’رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃًج اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ‘‘[16]

’’اے ہمارے رب! ہمارے دلوں میں کجی (ٹیرھا پن/دہرا پن)پیدا نہ کر اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت سے سرفراز فرمایا ہے اور ہمیں خاص اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت عطا فرمانے والا ہے‘‘-

’’کج‘‘کہتے ہیں ٹیڑھا پن کو-یعنی آدمی اپنے رب کی بارگاہ میں یہ دعا کرتا ہے کہ اے ہمارے رب! جب تونے ہمیں اپنی ہدایت سے فیض یاب کر دیا ہے تو پھر ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا بلکہ ہمارے دلوں کو اپنی جگہ پر قائم رکھنا اور دلوں کی اپنی جگہ سے مراد یہ ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کی جانب راغب رہیں-

افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں فی زمانہ خود اہلِ تصوف میں تصوف کا تصور ہی بالکل مختلف ہے-ہمارے ہاں تو کرامت دکھانے، محض کلام پڑھ لینے اور رقص کر دینے کو اور دَم تعویذ دھاگے گنڈے کو ہی تصوف کہا جاتا ہے-ہر کسی کا اپنا نکتۂ نظر ہوسکتا ہے لیکن جو اصل میں روحِ تصوف ہے وہ ایک لائٹ موڈ بات نہیں ہے یعنی محض تفریح نہیں ہے بلکہ اس کو جذب کرنا بالکل ایسے ہے جیسے ایک آدمی روزانہ دو پیڑے مکھن کھاتا ہے اور اس کو جذب کرنے کیلئے مشقت بھی اتنی ہی کرنی پڑتی ہے-آپ جتنی سخت خوراک لیتے ہیں اس کو جسم میں حل کرنے کے لئے اتنی ہی ریاضت و ورزش درکار ہوتی ہے کیونکہ خوراک کی تاثیر اپنی طاقت کے تناسب سے ہوتی ہے-

اسی طرح سیدی جنید بغدادی، سیدی با یزید بسطامی، حضرت ابراہیم بن ادھم، حضرت علی ہجویری اور سیدنا شیخ عبد القادر جیلانیؒ کے تصوف کو جذب کرنے کیلئے بھی آپ کو اچھی خاصی مشقت کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ لائٹ موڈ باتیں یا محض گائیکی و رقص نہیں ہے بلکہ یہ حقیقتِ روح کی بات ہے-

دل کی کجی سے بچنا اور دور ہونا یہ مومن کی دعاؤں میں شامل فرمایا گیا ہے-کیونکہ دل کے ٹیڑھے پن سے نجات کو قرآنی اصطلاح میں تزکیہ کہتے ہیں اور باعتبارِ قرآنی نہ صرف امت عربیہ یا امت اسلامیہ میں بلکہ رسول پاک (ﷺ) سے قبل کی امتوں میں بھی تزکیہ کی اہمیت اتنی ہی نظر آتی ہے جتنی آقا کریم (ﷺ) کی امت کے لئے ہے-مثلاً جد الانیباء سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعا دیکھیں جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور کی:

’’رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ یُزَکِّیْہِمْط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ‘‘[17]

’’اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے رسول(ﷺ) مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے (کر دانائے راز بنا دے) اور ان (کے نفوس و قلوب) کو خوب پاک صاف کر دے، بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے‘‘-

اصطلاحِ قرآنی میں قلب کی صفائی کو تزکیہ کہتے ہیں-امام قرطبیؒ ’’تفسیر قرطبی‘‘جو احکام کی تفاسیر میں شمار کی جاتی ہے،میں’’ یُزَکِّیْہِمْ ‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئےفرماتے ہیں کہ:

’’أَيْ يَجْعَلَهُمْ أَزْكِيَاءَ الْقُلُوْبِ بِالْاِيْمَانِ‘‘[18]

’’یعنی آپ (ﷺ)ان کے قلو ب کو ایما ن کے ساتھ نہایت پاکیزہ کر دیتے ہیں‘‘-

گویا دلوں کو نورِ ایمان سے مکمل طور پر پاکیزہ کردینا تزکیہ کہلاتا ہے-

حافظ ابن کثیرؒ نے بھی تزکیہ کو انسان کے باطن کی جانب لوٹایا ہے:

’’أَيْ: يُطَهِّرُهُمْ مِنْ رَذَائِلِ الْأَخْلَاقِ وَدَنَسِ النَّفُوْسِ وَأَفْعَالِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّوْرِ‘‘[19]

’’یعنی رسول ِمکرم (ﷺ)اپنے غلاموں کی اخلا ق ِ رذیلہ اور نفوس کی گندگی اور جاہلیت کے افعال سے تطہیر فرما تے ہیں اور آپ (ﷺ) ان کو ظلما ت سے نکال کر نور کی طرف لے جا تے ہیں‘‘-

یعنی انسان کی توجہ بدن کی بجائے روح کی جانب کرواتے ہیں کیونکہ بدن ظلمت کی مثل ہے اور روح نور کی-بعض صوفیاء نے یہ وضاحت کی ہے کہ اپنے بدن سے اپنی روح کی جانب سفر کرنا یہ ظلمت سے نور کی جانب سفر کرنا کہلاتا ہے تاکہ انسان اپنے افعالِ بشریہ کے اوپر اپنے افعالِ روحانیہ کو غالب کرے-کیونکہ جب انسان بشری تقاضوں کے اوپر اپنے روحانی تقاضوں کوغالب کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بدن روح کے تابع ہو جاتا ہے-چونکہ روح اپنی فطرت میں لطیف ہے اس لئے وجود کے تمام اعمال برکتِ روح اور نورِ روح کی بدولت لطیف ہوجاتے ہیں-

یہ جو ہم اکثر سنتے اور کہتے ہیں کہ انبیاء کرام (علیھم السلام)کو اللہ تعالیٰ نے معصوم فرمایا اور اولیاء کرام (رضی اللہ عنھم)کو گناہوں سے محفوظ رہنے کی توفیق سے سرفراز کیا -اس کی وجہ ہی یہ ہے کہ اُن کی روح ان کے بدن پر غالب آجاتی ہے اس لئے بدن کثافت کی جانب مائل ہی نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ لطافت کی جانب مائل رہتا ہے-جیسا کہ امام فخر الدین رازیؒ ’’تفسیر کبیر‘‘ میں فرماتے ہیں کہ:

’’وَأَكْمَلُ أَنْوَاعِ التَّزْكِيَّةِ هُوَ تَزْكِيَّةُ الْقَلْبِ‘‘[20]

’’اور تزکیہ کی تما م قسموں سے سب سے اعلی ٰ قسم وہ دل کا تزکیہ ہے‘‘-

اس بنیاد پر اہل تصوف یہ کہتے ہیں کہ عباداتِ باطنی کو اختیار کرنا چاہیے اور عبادتِ باطنی میں ذکر، مراقبہ اور اپنے ارادے کواللہ کی چاہت کے تابع کرنا، آتے ہیں یعنی وہ عبادت جو بدن سے ہوتی نظر نہیں آتی ، خاص کر سُلطان العارفین حضرت سُلطان باھُو کے ہاں جسے ذکرِ پاس انفاس کہا جاتا ہے وہ بالکل ایک خُفیہ عبادت ہے جس کا لاکھوں کے مجمع میں بھی کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ کرنے والا عبادت کر رہا ہے یا خاموش بیٹھا ہے -اس کے برعکس عبادتِ بدنیہ وہ ہے جس میں انسان کے اعضاء جواز دے ہوتے ہیں مثلاً آپ ارکانِ اسلام کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی ادائیگی کرتے ہیں تو ان ساری عبادتوں پر مخلوق گواہ ہے-اس لئے صوفیاء ادائیگیء فرائض کے بعد عبادتِ باطنیہ پر زیادہ زور دیتے ہیں کیونکہ ان عبادات میں مخلوق کی بجائے فقط اللہ تعالیٰ کی ذات گواہ ہوتی ہے-

اس لئے تصوف کی جو یہ تشریح کی جاتی ہے کہ قلب میں ایک نور داخل ہوتا ہے صوفیاء کرام نے اس تشریح کا مکمل استنباط قرآن کریم کی انہی آیات سے کیا ہے-جیسا کہ حجۃ الاسلام امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ:

’’عِلْمُ الْمُکَاشِفَۃِ فَھُوَ عِبَارَۃٌ عَنْ نُّوْرٍ یَّظْھَرُ فِیْ الْقَلْبِ عِنْدَ تَطْھِیْرِہٖ وَ تَزْکِیَّہُ مِنْ صِفَاتِہِ الْمَذْمُوْمَۃِ‘‘[21]

’’علمِ مکاشفہ پس وہ نور سے عبارت ہے اور وہ ظاہر ہوتا ہےدل میں، اُس کے صفات ِ مذمومہ سے طہارت اور پاکیزگی کے وقت‘‘-

یعنی جب انسان کے ظاہر اور باطن سے تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں پھر علم مکاشفہ ایک نور کی صورت میں آدمی کے قلب سے اپنا اظہار کرتا ہے-

اب آئیے اگلے سوال کی جانب کہ قرآن کریم سے یہ کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ انسان کے دل میں کوئی ایسی چیز رکھ دی جاتی ہے جس کو امام غزالی اور دیگر صوفیاء علم مکاشفہ کہتے ہیں؟ کیا انسانی دل میں واقعتاً کوئی ایسے فضائل موجود ہیں جس کے بارے سلطان العارفین حضرت سلطان باھو(قدس اللہ سرّہٗ) فرماتے ہیں کہ :

دل دریا سمندروں ڈوگھے کون دلاں دیاں جانے ھو
وچے بیڑے وچے جھیڑے وچے ونجھ موہانے ھو
چوداں طبق دلے دے اندر جتھے عشق تمبو ونج تانے ھو
جو دل دا محرم ہووے باھو سوئی رب پچھانے ھو

یہاں ایک قابل فکر بات کی جانب آپ کی توجہ دلوانا چاہوں گا کہ ہمارے معاشرے میں آج کل تعصب کی بنیاد پر مختلف قسم کی مُہریں (stamps)عام ہوگئی ہیں کہ جب دل کیا کسی کی پشت پر مشرک کی مہر لگاد ی، کافر کی مہر لگادی، اسی طرح مختلف قسم کی مہریں لگا دیں-کیونکہ ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھ کر، ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کی ہم نے کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ اگر ہم اپنے مسلمان بھائی کودائرہ دین سے خارج کررہے ہیں تو کم از کم اس کی بات تو سنیں کہ وہ کہتا کیا ہے-

اس لئے آپ میری بات سے اختلاف تو کرسکتے ہیں آپ کو پورا حق بھی ہے لیکن آپ اس کا رد نہیں کر سکتے-کیونکہ جو شخصیات بھی تصوف کی پہرہ دار رہیں یا اس کو ارتقاء بخشنے والی رہیں ان کے تقویٰ، خلوص اور یقین پر پوری امت میں سے کسی کو کوئی شک نہیں ہے-اس لئے ہمیں بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ ہمیں سمجھا نا کیا چاہتے ہیں اور جو وہ سمجھا رہے ہیں اس کو اخذ کہاں سے کرتے ہیں- مثلاً جب امام غزالی علم مکاشفہ کو علم نور کہتے ہیں تو ہم فوراً اس کو نورِ خداوندی سے تشبیہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’شرک، شرک،تم مشرک ہوگئے ہو نور تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہےجبکہ تم علم مکاشفہ کو نور کہتے ہو-خدا کے بندو! ترمذی شریف کی حدیث ہے حضرت ابو سعید خدریؒ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ)نے ارشاد فرمایا :

’’اِتَّقُوْا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُوْرِاللہِ‘‘[22]

’’مومن کی فراست (یعنی دور اندیشی) سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے‘‘-

اب قرآن کریم اس بات پر شہادت دیتا ہے کہ کیسے علمِ مکاشفہ کو مومن کے اوپر منکشف کیا جاتا ہے-قرآن کریم پڑھ کر تو دیکھیں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ فَمَنْ يُرِدِ اللہُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ‘‘[23]

’’پس اﷲ جس کسی کو (فضلاً) ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کشادہ فرما دیتا ہے ‘‘-

یعنی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و شفقت سے خوش ہوکر جس بندے کو ہدایت کے لئے چن لیتا ہے تو اس کے سینہ کو اسلام کے لئے کشادہ فرما دیتا ہے-ایک شرح صدر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آقا علیہ الصلوٰۃو السلام کے لئے بیان فرمایا:

’’اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ‘‘[24]

’’کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (انوارِ علم و حکمت اور معرفت کے لیے) کشادہ نہیں فرما دیا‘‘-

ایک وہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’(اِشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ) حَتَّی یَسِعَ فِیْہِ الْمَعَارِفُ الْحَقَّۃُ‘‘[25]

’’(حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے عرض کی) اے اللہ پا ک میرے سینہ کشادہ فرما دے یہاں تک کہ اس میں عرفان اور معارف سما جائیں‘‘-

اللہ تعالیٰ نے یہ مومنین کیلئے ارشاد فرمایا ہے کہ مومنین میں سے بھی میں جن کو اپنی رحمت کے لئے چن لیتا ہوں تو ان کے سینوں کو کشادہ کردیتا ہوں- یہ ظاہر سی بات ہے کہ امتی کی اور نبی کی شرح صدر برابر نہیں ہوسکتی کیونکہ ان دونوں کے انتخاب، وجود اور تقاضے ایک دوسرے سے مختلف ہیں-

جن آئمہ کرام نے بھی تفاسیر بالماثور لکھیں، حدیث پاک سے قرآن کریم کی تفسیر کی، یعنی بکثرت آئمہ تفاسیر نے جن میں امام بیہقیؒ اور امام ابن ابی شیبہؒ نے ’’المصنف، کتاب الزہد‘‘ میں آقا کریم (ﷺ) کی اس حدیث پاک کو حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے روایت فرمایا ہے- امام ابن شیبہؒ صحیحین کے شیخ ہیں، امام احمد بن حنبلؒ کے شیخ ہیں اور ایک کثیر تعداد جلیل القدر آئمہ کرامِ حدیث کی ہے جو امام ابن ابی شیبہؒ کے تلامذہ میں سے ہیں-امام ابن شیبہؒ اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

’’حضرت ابن ِمسعود (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کی بارگاہ اقدس میں جب یہ آیت مبارکہ’’مَنْ يُرِدِ اللہُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ‘‘ نازل ہو ئی تو ( اس آیت کے بارے میں) سوال عرض کیا گیا-یا رسول اللہ (ﷺ) شرحِ صدر کیسے ہوتا ہے ؟)آپ(ﷺ)نے ارشاد فرمایا:

’’قَالَ: إِذَا دَخَلَ النُّوْرُ الْقَلْبَ اِنْفَسَحَ وَاِنْشَرَحَ قَالُوْا: فَهَلْ لِذَلِكَ مِنْ أَمَارَةٍ يُعْرَفُ بِهَا؟ قَالَ: اَلْإِنَابَةُ إِلَى دَارِ الْخُلُوْدِ، وَالتَّنَّحِيْ عَنْ دَارِ الْغُرُورِ وَالْاِسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ قَبْلَ الْمَوْتِ ‘‘

’’جب دل میں نور داخل ہوتا ہے،تو اس سے اس کا انشراح بھی ہوتا ہے اور وسیع بھی ہو جاتا ہے-صحابہ کرام (رضی اللہ عنہھم)نے عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ)کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے جس سے اس کو جانا جاسکے؟ تو آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: ہمیشہ کے گھر (آخرت)کی طرف متوجہ ہونا اور دھوکے کے گھر (دنیا ) سے کنارہ کشی اختیا ر کرنا اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیا ری کرنا ‘‘-[26]

آقا کریم (ﷺ) نے فرمایا کہ جس کاشرح صدر ہو جائے یعنی جس کا دل اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے کشادہ فرما دے تو وہ دنیا سے بے رغبت اختیار کر کے اپنی تمام تر توجہ آخرت اور اللہ تعالیٰ کی ذات کی جانب کر لیتا ہے- اس حدیثِ پاک میں سے صوفیہ کے تین خواص اخذ ہوتے ہیں : (1) توجہ الی اللہ (2) ترک ماسویٰ اللہ اور (3) ’’موتو قبل ان تموتو‘‘- یہی تین کام صوفیہ کرتے ہیں اور انہی کی جانب بُلاتے ہیں تو قرآن کے الفاظ میں ان کو شرح صدر نصیب ہو جاتی ہے اور امام غزالی کے الفاظ میں نُورِ علمِ مُکاشفہ اُن کے دلوں میں جگمگانے لگتا ہے-اکثر مفسرین نے امام غزالی کی طرح شرحِ صدر سے مُراد سینے میں نُور کا داخل ہونا مُراد لیا ہے –

امام بغویؒ اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’{ فَمَنْ يُرِدِ اللہُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ}أَيْ: يَفْتَحُ قَلْبَهٗ وَيُنَوِّرُهٗ‘‘[27]

’’{فَمَنْ يُرِدِ اللہُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ}یعنی اللہ پاک اس کے دل کو کھول بھی دیتا ہے اور اس کو منور بھی فرما دیتا ہے‘‘-

امام نسفی ؒ (710ھ) اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

’’{فَمَنْ يُرِدِ اللہُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ} يُوَسِّعُهٗ وَيُنَوِّرُ قَلْبَهٗ‘‘[28]

’’{فَمَنْ يُرِدِ اللہُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ}اللہ تعالیٰ اس کو وسیع کرتا ہے اور اس کے دل کومنوربھی فرماتا ہے‘‘-

یعنی اللہ تعالیٰ دل کوکشادہ کر کے اس میں اس نور کو رکھ دیتا ہے جس نور کو اما م غزالی علِم مکاشفہ کہتے ہیں-

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی یہ جو دعا ہے:

’’قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْo وَ یَسِّرْ لِیْٓ اَمْرِیْo وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْo یَفْقَھُوْا قَوْلِیْ‘‘[29]

’’(موسیٰ (علیہ السلام) نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کشادہ فرما دے اور میرا کارِ (رسالت) میرے لیے آسان فرما دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے کہ لوگ میری بات (آسانی سے) سمجھ سکیں‘‘-

قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں:

’’(اِشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ) حَتَّی یَسِعَ فِیْہِ الْمَعَارِفُ الْحَقَّۃُ الَّتِیْ لَا یَکْفِیْ فِیْ دَرْکِھَا عَقُوْلُ الْعُقَلَاءِ وَ مِنْھَا دَرْکٌ أَنَّہٗ لَا یَقْدِرُ أَحَدٌ غَیْرُ اللہِ سُبْحَانَہٗ عَلٰی شَیْءٍ مِّنَ الْإِنْفَاعِ وَ الْإِضْرَارِ، فَیَذْھَبُ مِنْ قَلْبِہٖ مُخَافَۃُ فِرْعَوْنَ وَ جُنُوْدِہٖ‘‘[30]

’’(حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے عرض کی) یا اللہ! میرے سینہ کشادہ فرما دے یہاں تک کہ اس میں عرفان اور معارف سما جائیں جن کا ادراک عقلِ انسانی سے ماورا ہےاور ان ادراکات میں سے ایک درک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی انسان کسی بھی چیز کے نفع و نقصان پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتا(جب اللہ پاک موسیٰ علیہ السلام کا شرح صدر فرماتے ہیں) تو آپ کے قلبِ اقدس سےفرعون اور اس کے لشکریوں کا خوف نکل جاتا ہے‘‘-

گویا انشراحِ صدر وہ تربیت ہےجس میں اللہ تعالیٰ اپنے ملائکہ کے ذریعے انسان کے سینے کو اتنا کشادہ اور منور فرما دیتا ہے کہ سوائے خوفِ خداوندی کے بندے کے وجود سے ہر ایک خوف زائل ہوجاتا ہے-

جس طرح موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے لشکر کے خوف کو زائل کرنے کے لئے یہ دعا کی ’’اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کشادہ فرما دے‘‘ تو میرے ذہن میں آرہا تھاکہ آج کی مسلم دنیا کے حکمرانوں کو یہ دعا بکثرت کرنی چاہیے کیونکہ لشکرِ اغیار سے یہ بہت خائف ہیں کیونکہ ان میں سے کسی کو بھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اپنی زبان کی گرہ کھول کر پچھلے گیارہ (11)ماہ سے کشمیر میں جو جبر ہو رہا ہے اور مظالم کے جو پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اس کے متعلق کوئی بات کر سکیں-جسے آپ ایک مایوسی کی یا یقین اٹھ جانے کی یا اپنی غلامی کا یقین ہوجانے کی کیفیت کہتے ہیں آج کل حکمرانی سطح پر کچھ اسی طرح کی ڈویلپمنٹ ہو رہی ہیں جیسا کہ اقبال نے کہا تھا:

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری[31]

یعنی جو ظلم و استبداد کے دیو ہیں وہ ایک نیلم پری کا لبادہ اوڑھ کر آئے ہیں جبکہ ہم نے سمجھا کہ یہ شاید ہمارے غموں کا مداوا کرنے کے لئے آئے بیٹھے ہیں- وہ آپ کو مسلسل جبر مزید کا پیغام دے کر گئے ہیں کہ اُمتِ مسلمہ اور لاشیں اٹھانے کے لئے تیار ہوجاؤ اور ہم اسے اپنے لئے نجات کا اور پتا نہیں کس کس سفر کا سامان سمجھے بیٹھے ہیں-اس لئے ایسے حکمران جن کے ذمہ قیادت ہو از روئے قرآن ان کی شرح صدر کی ضرورت ہے-جس سے لشکرِکفار کا خوف آدمی کے وجود سے زائل ہو جاتا ہے اور اللہ پر تقویٰ پختہ اور بلند ہوجاتا ہے-جیسا کہ اللہ تعالیٰ نےارشاد فرمایا:

’’وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوْبِهِمْ إِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَ مِنْ دُونِهٖ إِلٰهًا لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا‘‘[32]

’’اور ہم نے ان کے دلوں کو (اپنے ربط و نسبت سے) مضبوط و مستحکم فرما دیا، جب وہ (اپنے بادشاہ کے سامنے) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے: ہمارا رب تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا ہرگز کسی (جھوٹے) معبود کی پرستش نہیں کریں گے (اگر ایسا کریں تو) اس وقت ہم ضرور حق سے ہٹی ہوئی بات کریں گے‘‘-

امام بغویؒ (المتوفیٰ:510ھ)’’ وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوْبِهِمْ‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں کہ:

’’وَرَبَطْنَا، وَشَدَدْنَا، عَلَى قُلُوْبِهِمْ، بِالصَّبْرِ وَالتَّثْبِيْتِ وَ قَوَّيْنَا هُمْ بِنُوْرِ الْإِيْمَانِ حَتَّى صَبَرُوْا عَلَى هِجْرَانِ دَارِ قَوْمِهِمْ وَ مُفَارَقَةِ مَا كَانُوْا فِيْهِ مِنَ [الْعِزِّ] وَخِصْبِ الْعَيْشِ‘‘[33]

’’اور ہم نے ان کے دلوں کو صبر اورثابت قد می کے ساتھ مضبوط کیا اور ہم نے ان کے دلوں کو نورِا یما ن کے ساتھ تقویت دی،یہا ں تک( کہ اس وجہ سے) انہوں نے اپنی قوم کے گھروں کو چھوڑنے اور وہ گھر جس میں عیش و عشرت کے ساتھ تھے ایسے گھروں کی جدائی پر انہوں نے صبر کیا‘‘-

قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ ’’ وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوْبِهِمْ ‘‘کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:

’’(وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوْبِهِمْ )بِالصَّبْرِ عَلَى هِجْرِ الْوَطْنِ وَالْأَهْلِ وَ الْمَالِ وَ الْجُرْأَةِ عَلَى اِظْهَارِ الْحَقِّ وَالرَّدِّ عَلَى دِقْيَانُوْسِ

Share:

Leave a reply