قبر پر اذان

960
0
Share:

قبر پر اذان

1۔ ہم قبر پر اذان دینے کے قائل نہیں لیکن اگر کوئی دیتا ہے تو منع نہیں کرتے مگر اذان نہ دینے والے کو اگر کوئی وہابی یا دیوبندی کہتا ہے تو اسے اہلسنت نہیں مانتے کیونکہ دیوبندی صرف وہی علماء یا ان کے متبعین ہیں جو دیوبندی اکابر کی چار کفریہ عبارتوں پر توبہ نہیں کرتے اورباقی سب اہلسنت ہیں۔ وہابی علماء سعودی عرب کے وہی ہیں جنہوں نے دیوبندی اور بریلوی سمیت ساری دنیا کے اہلسنت علماء کرام کو بدعتی و مشرک کہا۔

2۔ جناب احمد رضاخاں صاحب نےقبر پر اذان دینے کے متعلق ایک رسالہ لکھا ہے جسکو عام عوام سمجھ نہیں پائے گی، چند پڑھے لکھے سمجھیں گے، رسالہ میں سے عربی نکال دی ہے تاکہ مزید لمبی پوسٹ نہ ہو، دلائل مضبوط ہیں لیکن قبر پر اذان دینا پھر بھی فرض نہیں بلکہ مستحب کہلائے گا۔

استفتاء: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دفن کے وقت جو قبر پر اذان کہی جاتی ہے۔ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟بینوا توجروا۔

الجواب:بعض علمائے دین نے میت کو قبر میں اتارتے وقت اذان کہنے کو سنت فرمایا۔ امام ابن حجر مکی وعلامہ خیر الملۃ والدین رَملی استاذِ صاحب درمختار علیہم رحمۃ الغفار نے ان کا یہ قول نقل کیا: مکی نے اپنے فتاوٰی اور شرح العباب میں نقل کیا اور اس نے معارضہ کیا، رملی نے حاشیہ بحرالرائق میں نقل کیا اور اسے کمزور کہا)۔ حق یہ ہے کہ اذان مذکور فی السوال کا جواز یقینی ہے۔ ہرگز شرع مطہر سے اس کی ممانعت پر کوئی دلیل نہیں اور جس امر سے شرع منع نہ فرمائے اصلاً ممنوع نہیں ہوسکتا۔ قائلانِ جواز کے لئے اسی قدر کافی۔ جو مدعی ممانعت ہو دلائل شرعیہ سے اپنا دعویٰ ثابت کرے پھر بھی مقام تبرع میں آکر فقیر غفراﷲ تعالیٰ بدلائل کثیرہ اس کی اصل شرعِ مطہر سے نکال سکتا ہے جنہیں بقانون مناظرہ اسانید سوال تصور کیجئے فاقول وباﷲ التوفیق وبہٖ الوصول الٰی ذری التحقیق۔

دلیل 1: جب بندہ قبر میں رکھا جاتا اور سوال نکیرین ہوتا ہے شیطانِ رجیم وہاں بھی خلل انداز ہوتا اور جواب میں بہکاتا ہے۔ امامِ ترمذی محمد بن علی نوادرالاصول میں امام اجل سفیانِ ثوری رحمۃ ﷲ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں: جب مردے سے سوال ہوتا ہے کہ تیرارب کون ہے۔ شیطان اس پر ظاہر ہوتا ہے اور اپنی طرف اشارہ کرتا ہے کہ میں تیرا رب ہوں۔ اس لئے حکم آیا کہ میت کے لئے ثابت قدم رہنے کی دعا کریں۔

امام ترمذی فرماتے ہیں: وہ حدیثیں اس کی مؤید ہیں جن میں وارد کہ حضور حضورﷺ میت کو دفن کرتے وقت دعا فرماتے: الٰہی اسے شیطان سے بچا اگر وہاں شیطان کا کچھ دخل نہ ہوتا تو حضور اقدس حضورﷺ یہ دعا کیوں فرماتے اور صحیح حدیثوں سے ثابت کہ اذان شیطان کو دفع کرتی ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہما میں حضرت ابوہریرہ رضیﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی حضور اقدس حضورﷺ فرماتے ہیں: جب مؤذن اذان کہتا ہے۔ شیطان پیٹھ پھیر کر گوززناں بھاگتا ہے‘‘۔ صحیح مسلم کی حدیث جابر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے واضح کہ چھتیس میل تک بھاگ جاتا ہے اور خود حدیث میں حکم آیا کہ جب شیطان کا کھٹکا ہو، فوراً اذان کہو کہ وہ دفع ہوجائے گا۔ اخرجہ الامام ابوالقاسم سلیمٰن بن احمد الطبرانی فی اوسط معاجیمہٖ عن ابی ھریرۃ رضیﷲ تعالٰی عنہ ہم نے اپنے رسالے ’’نسیم الصبا فی ان الاذان یحول الوبا‘‘ میں اس مطلب پر بہت احادیث نقل کیں اور جب ثابت ہولیا کہ وہ وقت عیاذًا باﷲ مداخلت شیطان لعین کا ہے اور ارشاد ہوا کہ شیطان اذان سے بھاگتا ہے اور ہمیں حکم آیا کہ اس کے دفع کو اذان کہو تو یہ اذان خاص حدیثوں سے مستنبط بلکہ عین ارشادِ شارع کے مطابق اور مسلمان بھائی کی عمدہ امداد واعانت ہوئی جس کی خوبیوں سے قرآن و حدیث مالامال۔

دلیل 2: جب سعد بن معاذ رضیﷲ تعالیٰ عنہ‘ دفن ہوچکے اور قبر درست کردی گئی نبیﷺ دیر تک سبحانﷲ، سبحانﷲ فرماتے رہے اور صحابہ کرام بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے۔ پھر حضور ﷲ اکبرﷲ اکبر فرماتے رہے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے، پھر صحابہ نے عرض کی یا رسول ﷲ حضور اول تسبیح پھر تکبیر کیوں فرماتے رہے؟ ارشاد فرمایا اس نیک مرد پر اس کی قبر تنگ ہوئی تھی۔ یہاں تک کہﷲ تعالیٰ نے وہ تکلیف اس سے دور کی اور قبر کشادہ فرمادی۔ (احمدو طبرانی و بیہقی)

علامہ طیبی شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں: حدیث کے معنی یہ ہیں کہ برابر میں اور تمﷲ اکبر ﷲ اکبرسبحٰن ﷲ سبحٰنﷲ کہتے رہے یہاں تک کہ ﷲ تعالیٰ نے اس تنگی سے انہیں نجات بخشی۔

اقول اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خود حضور اقدس صلی ﷺ نے میت پر آسانی کے لئے بعد دفن کے قبر پرﷲ اکبر، ﷲ اکبر بار بار فرمایا ہے۔ اور یہی کلمہ مبارکہ اذان میں چھ بار ہے تو عین سنت ہوا۔ غایت یہ کہ اذان میں اس کے ساتھ اور کلمات طیبات زائد ہیں سو ان کی زیادت نہ معاذ ﷲ مضر، نہ اس امر مسنون کے منافی بلکہ زیادہ مفید ومؤید مقصود ہے کہ رحمت الٰہی اتارنے کے لئے ذکرِ خدا کرنا تھا، دیکھو یہ بعینہٖ وہ مسلک نفیس ہے جو دربارہ تلبیہ اجلہ صحابۂ عظام مثل حضرت امیر المومنین عمر و حضرت عبدﷲ بن عمر و حضرت عبدﷲ بن مسعود وحضرت امام حسن مجتبیٰ و غیرہم رضیﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین کو ملحوظ ہوا اور ہمارے ائمہ کرام نے اختیار فرمایا۔ ہدایہ میں ہے:ان کلمات میں کمی نہ چاہیئے کہ یہی نبیﷺ سے منقول ہیں تو ان سے گھٹائے نہیں اور اگر بڑھائے تو جائز ہے کہ مقصودﷲ تعالیٰ کی تعریف اور اپنی بندگی کا ظاہر کرنا ہے تو اور کلمے زیادہ کرنے سے ممانعت نہیں۔ فقیر غفرﷲ تعالیٰ لہ نے اپنے رسالہ ’’صفائح للجین فی کون التصافح بکفی الیدین(۱۳۰۶)‘‘وغیرہا رسائل میں اس مطلب کی قدرے تفصیل کی۔

دلیل 3: بالاتفاق سنت اور حدیثوں سے ثابت اور فقہ میں مثبت کہ میت کے پاس حالت نزع میں کلمۂ طیبہ لا الہ الاﷲ کہتے رہیں کہ اسے سن کر یاد ہو۔ حدیث متواتر میں ہے حضورِ اقدس ﷺ فرماتے ہیں:اپنے مردوں کو لا الٰہ الاﷲ سکھائو رو اہ احمد ومسلم و ابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجہ

اب جو نزع میں ہے وہ مجازاً مردہ ہے اور اسے کلمہ سکھانے کی حاجت کہ بحولﷲ تعالیٰ خاتمہ اسی پاک کلمے پر ہو اور شیطانِ لعین کے بہلانے میں نہ آئے اور جو دفن ہو چکا حقیقۃً مردہ ہے اور اسے بھی کلمہ پاک سکھانے کی حاجت کہ بعونﷲ تعالیٰ جواب یاد ہوجائے اور شیطانِ رجیم کے بہکانے میں نہ آئے اور بے شک اذان میں یہی کلمہ لا الٰہ الا ﷲ تین جگہ موجود بلکہ اس کے تمام کلمات جوابِ نکیرین بتاتے ہیں۔ ان کے سوال تین ہیں من ربک تیرا رب کون ہے؟ ما دینک تیرا دین کیا ہے؟ ما کنت تقول فی ھذا الرجل تو اس مرد یعنی نبی ﷺ کے باب میں کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ اب اذان کی ابتداء میںﷲ اکبرﷲ اکبرﷲ اکبرﷲ اکبر اشھدان لا الٰہ الاﷲ اشھدان لا الٰہ الاﷲاور آخر میںﷲ اکبرﷲ اکبر لا الٰہ الاﷲ سوال من ربک کا جواب سکھائیں گے ان کے سننے سے یاد آئے گا کہ میراربﷲ ہے اور اشھد ان محمدًا رسولﷲ اشھد ان محمدًا رسولﷲ سوال ماکنت تقول فی ھٰذا الرجل کا جواب تعلیم کریں گے کہ میں انہیںﷲ کا رسول جانتا تھا اور حی علیٰ الصلٰوۃ حی علی الفلاح جواب مادینک کی طرف اشارہ کریں گے۔ کہ میرا دین وہ تھا جس میں نماز رکن و ستون ہے کہ الصلٰوۃ عماد الدین تو بعد دفن اذان دینا عین ارشاد کی تعلیم ہے جو نبیﷺنے حدیث صحیح متواتر مذکورمیں فرمایا۔

دلیل 4:حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں:آگ کو تکبیر سے بجھائو۔ ابن عدی حضرت عبدﷲ بن عباس وہ اور ابن السنی و ابن عساکر حضرت عبداﷲ بن عمروبن عاص رضیﷲ تعالیٰ عنہم سے راوی حضور ﷺفرماتے ہیں: جب آگ دیکھو ﷲ اکبرﷲ اکبر کی بکثرت تکرار کرو وہ آگ کو بجھادیتا ہے۔

علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ’’فکبروا‘‘ سے مراد یہ ہے کہﷲ اکبرﷲاکبر کثرت کے ساتھ بار بار کہو)۔ مولانا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری اس حدیث کی شرح میں کہ حضور ﷺ قبر کے پاس دیر تک ﷲ اکبر ﷲ اکبر فرماتے رہے، لکھتے ہیں:اب یہ ﷲ اکبر ﷲ اکبر کہنا غضبِ الٰہی کے بجھانے کو ہے ولہٰذا آگ لگی دیکھ کر دیر تک تکبیر مستحب ٹھہری‘‘۔

وسیلۃ النجاۃ میں حیرۃ الفقہ سے منقول ہے:اہل قبرستان پر تکبیر کہنے میں حکمت یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: جب تم کسی جگہ آگ بھڑکتی ہوئی دیکھو اور تم اسے بجھانے کی طاقت نہ رکھتے ہو، تو تکبیر کہو کہ اس تکبیر کی برکت سے وہ آگ ٹھنڈی پڑجائے گی چونکہ عذاب قبر بھی آگ کے ساتھ ہوتا ہے اور اسے تم اپنے ہاتھ سے بجھانے کی طاقت نہیں رکھتے لہٰذﷲ کا نام لو تاکہ فوت ہونے والے لوگ دوزخ کی آگ سے خلاصی پائیں گے)۔ یہاں سے بھی ثابت کہ قبر مسلم پر تکبیر کہنا فردسنت ہے تو یہ اذان بھی قطعاً سنت پر مشتمل اور زیادات مفیدہ کا مانعِ سنیت نہ ہونا تقریر دلیل دوم سے ظاہر ہے۔

دلیل 5:ابن ماجہ و بیہقی میں حضرت عبدﷲ بن عمررضیﷲ تعالیٰ عنہما کے ساتھ ایک جنازہ میں حاضر ہوا۔حضرت عبدﷲ رضیﷲ تعالیٰ عنہ نے جب اسے لحد میں رکھا کہا۔ بسم ﷲ وفی سبیلﷲ، جب لحد برابر کرنے لگے کہا الٰہی اسے شیطان سے بچا اور عذاب قبر سے امان دے پھر فرما یا میںنے اسے رسول اللہ ﷺسے سنا۔ امام تر مذی حکیم قدس سرہ الکریم بسند جید عمرو بن مرۃ تا بعی سے روایت کرتے ہیں: صحابہ کرام یا تابعین عظام مستحب جانتے تھے کہ جب میت کو لحد میں رکھا جائے تو دعا کریں الٰہی اسے شیطان رجیم سے پناہ دے۔

ابن ابی شیبہ مستحب جانتے تھے کہ جب میت کو دفن کریں یو ں کہیں اللہ کے نام سے اور اللہ کی راہ میں اور رسول اللہ ﷺ کی ملت پر ، الٰہی اسے عذاب قبر وعذاب ِدوزخ و شیطان ملعون کے شرسے پناہ بخش۔ ان حدیثوں سے جس طرح یہ ثابت ہو اکہ اس وقت عیاذابااللہ شیطان رجیم کا دخل ہوتا ہے یونہی یہ بھی واضح ہواکہ اس کے دفع کی تدبیر سنت ہے کہ دعا نہیں مگر ایک تدبیر اور احادیث سابقہ دلیل اول سے واضح کہ اذان دفع شیطان کی ایک عمدہ تدبیر ہے تو یہ بھی مقصودشارع کے مطابق اور اپنی نظیر شرعی سے موافق ہوئی۔

دلیل 6: ابو داؤد و حاکم وبیہقی: حضوراقدس ﷺجب دفن میت سے فارغ ہو تے قبر پر وقوف فرماتے اور ارشاد کرتے اپنے بھائی کیلئے استغفار کر و اور اس کے لیے جواب نکیر ین میں ثابت قدم رہنے کی دعا مانگو کہ اب اس سے سوال ہو گا‘‘۔ سعید بن منصور اپنے سنن میں:’’جب مردہ دفن ہو کر قبر درست ہو جاتی تو حضورسید عالم ﷺقبر پر کھڑے ہو کر دعا کرتے الٰہی ہمار ا ساتھی تیرا مہمان ہو ا اور دنیا اپنے پس پشت چھوڑ آیا ۔الٰہی سوال کے وقت اسکی زبان درست رکھ اور قبر میں اس پروہ بلا نہ ڈال جس کی اسے طاقت نہ ہو‘‘۔

ان حدیثوں اور احادیثِ دلیل پنجم و غیرہ سے ثابت کہ دفن کے بعد دعا سنت ہے۔ امام محمد بن علی حکیم ترمذی قدس سرہ دعا بعد دفن کی حکمت میں فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ بجماعت مسلمین ایک لشکر تھا کہ آستانۂ شاہی پر میت کی شفاعت وعذر خواہی کیلئے حاضر ہوا اوراب قبر پر کھڑے ہو کر دعا یہ اس لشکر کی مدد ہے کہ یہ وقت میت کی مشغولی کا ہے اسے اس نئی جگہ کا ہو ل اور نکیرین کا سوال پیش آنے والا ہے، نقلہ المولی جلال الملۃ والدین السیو طی رحمہﷲ تعالیٰ فی شرح الصدور اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہاں استحباب دعا کا عالم میں کوئی عالم منکر ہو ۔

امام آجری فرماتے ہیں:مستحب ہے کہ دفن کے بعد کچھ دیر کھڑے رہیں او رمیت کیلئے دعا کریں‘‘۔ اسی طرح اذکارامام نووی و جوہرہ نیرہ ودر مختار وفتاوی عالمگیر یہ و غیرہا اسفار میں ہے طرفہ یہ کہ امام ثانی منکرین مولوی اسحق صاحب دہلوی نے مائۃ مسائل میں اسی سوال کے جواب میں کہ بعد دفن قبر پر اذان کیسی ہے؟فتح القدیر وبحر الرائق و نہر الفائق و فتاوی عالمگیریہ سے نقل کیا کہ قبر کے پاس کھڑے ہو کر دعا سنت سے ثابت ہے او ربراہ بزرگی اتنا نہ جانا کہ اذان خود دعا بلکہ بہترین دعا سے ہے کہ وہ ذکرالٰہی ہے اور ہر ذکر الٰہی دعا تو وہ بھی اسی سنت ثابتہ کی ایک فرد ہو ئی پھر سنیت مطلق سے کراہت فرد پر استدلال عجب تما شا ہے۔ مولانا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری مرقاۃ شرح مشکوۃمیں فرماتے ہیں کل دعا ذکرٌوکل ذکر دعائٌ ہر دعا ذکر ہے او رہر ذکر دعا ہے۔ رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں افضل الد عا ء الحمد ﷲ سب دعا ؤں سے افضل دعا الحمد للہ ہے‘‘اخرجہ التر مذی و حسنہ والنسا ئی وابن ماجۃ وابن حبان والحا کم و صححہ عن جا بر بن عبد ﷲ رضی ﷲ تعالٰی عنہما۔

صحیحین میں ہے ایک سفر میں لو گوں نے بآواز بلند اللہ اکبر اللہ اکبر کہنا شروع کیا نبی ﷺنے فرمایا اے لوگو اپنی جانوں پر نرمی کر و ’’تم کسی بہرے یا غائب سے دعا نہیں کرتے سمیع بصیر سے دعا کرتے ہو‘‘۔ دیکھو حضور اقدس ﷺاللہ تعالیٰ کی تعریف اور خاص کلمہ اللہ اکبر کو دعا فرما یا تو اذان کے بھی ایک دعا اور فرد مسنون ہو نے میں کیا شک رہا۔

دلیل 7: یہ تو واضح ہو لیا کہ بعد دفن میت کے لیے دعا سنت ہے ۔ا ور علماء فرماتے ہیں آداب دعا سے ہے کہ اس سے پہلے کو ئی عمل صالح کرے ۔امام شمس الدین محمد بن الجزری کی حصن حصین شریف میں ہے: آداب دعا میں سے ہے کہ اس سے پہلے عمل صالح ہو اور ذکر الٰہی مشکل وقت میں ضرور کرنا چاہیئے۔

علامہ علی قاری حرز ثمین میں فرماتے ہیں یہ ادب حدیث ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ ابو داؤد و تر مذی و نسائی وا بن ماجہ وابن حبان نے رو ایت کی ثابت ہے اور شک نہیں کہ اذان بھی عمل صالح ہے تو دعا پر اس کی تقدیم مطابق مقصودِ سنت ہو ئی۔

دلیل 8:رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں:دو دعائیںرد نہیں ہوتیں ایک اذان کے وقت اور ایک جہاد میں جب کفار سے لڑائی شروع ہو‘‘۔ اخرجہ ابو داؤد وابن حبان والحاکم بسند صحیح عن سھل بن سعد السا عدی رضی ﷲ تعالٰی عنہ اور فرماتے ہیں حضور ﷺ: جب اذان دینے والا اذان دیتا ہے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دعا قبول ہو تی ہے ۔ اخرجہ ابو یعلی والحا کم عن ابی اما مۃ البا ھلی و ابو داؤد الطیالسی وابو یعلی والضیاء فی المختارۃ بسند حسن عن انس ابن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہما ان حدیثوں سے ثابت ہوا کہ اذان اسباب اجابت دعا سے ہے۔اور یہاں دعا شارع جل و علا کو مقصود تو اس کے اسباب اجابت کی تحصیل قطعا ًمحمود۔

دلیل 9: حضور سید عالم ﷺفرماتے ہیں: اذان کی آواز جہاں تک جاتی ہے مؤذن کیلئے اتنی ہی وسیع مغفرت آتی ہے اور جس ترو خشک چیز کو اس کی آواز پہنچتی ہے اذان دینے والے کیلئے استغفار کرتی ہے۔ اخرجہ الا مام احمد بسند صحیح واللفظ لہ و البزار والطبرانی فی الکبیر عن عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنھما و نحوہ عند احمد وابی داؤد والنسائی و ابن ماجۃ وابن خزیمۃ وابن حبان من حدیث ابی ھریرۃ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ و صدر ہ عندا حمد و النسائی بسندحسن جید عن البرآء بن عازب و الطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃولہ فی الا وسط عن انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہم یہ پانچ حدیثیں ارشاد فرماتی ہیں کہ اذان باعث مغفرت ہے اور بیشک مغفور کی دعا زیادہ قابل قبول و اقرب باجابت ہے اور خود حدیث میں دارد کہ مغفوروں سے دعا منگوانی چا ہیئے۔ امام احمد مسند میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے راوی حضور اقدس ﷺفرماتے ہیں: ’’جب تو حاجی سے ملے اسے سلام کراور مصافحہ کر اور قبل اس کے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو اس سے اپنے لئے استغفار کرا کہ وہ مغفورہے‘‘۔ پس اگر اہل اسلام بعد دفن میت اپنے میں کسی بندہ صالح سے اذان کہلوئیں تا کہ بحکم احادیث صحیحہ انشاء اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کی مغفرت ہو پھر میت کیلئے دعا کرے کہ مغفور کی دعا میں زیادہ رجائے اجابت ہو تو کیا گناہ ہوابلکہ عین مقا صد شرع سے مطابق ہوا۔

دلیل 10:اذان ذکر الٰہی ہے اور ذکر الٰہی دا فع عذاب۔ رسول اﷲﷺفرماتے ہیں:کوئی چیز ذکر خد اسے زیادہ عذاب خدا سے نجات بخشنے والی نہیں رواہ الامام احمد عن معاذ بن جبل وا بن ابی الدنیا وا لبیھقی عن ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہما اور خود اذان کی نسبت وارِد جہاں کہی جاتی ہے وہ جگہ اس دن عذاب سے مامون ہو جاتی ہے۔

طبرانی:حضور اقدس ﷺفرماتے ہیں: جب کسی بستی میں اذان دی جائے توﷲ تعالیٰ اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہے اور اس کی شاہد وہ روایت ہے جو معجم کبیر میں حضرت معقل بن یسار رضیﷲ عنہ سے مروی ہے) اور بے شک اپنے بھائی مسلمان کیلئے ایسا عمل کرنا جو عذاب سے منجی ہو شارع جل و علاکو محبوب و مرغوب، مولانا علی قاری رحمہ الباری شرح عین العلم میں قبر کے پاس قرآن پڑھنے اور تسبیح و دعائے رحمت و مغفرت کرنے کی وصیت فرماکر لکھتے ہیں: ذکر جس قدرہیں سب میت کو قبرمیں نفع بخشتے ہیں۔ امام بدرالدین محمودعینی شرح صحیح بخاری میں زیر باب ’’مو عظۃ المحدث عند القبر‘‘ فرماتے ہیں!میت کے لیے اس میں مصلحت ہے کہ مسلمان اس کی قبر کے پاس جمع ہو کر قرآن پڑھیں ذکر کریں کہ میت کو اس سے نفع ہو تا ہے۔ یارب مگر اذان ذکر محبوب نہیں یا مسلمان بھائی کو نفع ملنا شرعا ً مرغوب نہیں۔

دلیل 11: اذان ذکر مصطفی ﷺہے اور ذکر مصطفی ﷺباعث نزول رحمت، اولاً حضو رکاذکر عین ذکر خدا ہے امام ابن عطا پھر امام قاضی عیاض و غیر ہماائمہ کرام تفسیر قولہ تعالیٰ ورفعنالک ذکرک میں فرماتے ہیں: میں نے تمہیں اپنی یاد میں سے ایک یادکیا ۔ جو تمہارا ذکر کرے وہ میرا ذکر کرتا ہے، اور ذکرالٰہی بلا شبہ رحمت اترنے کا باعث۔ سید عالم ﷺصحیح حدیث میں ذکر کرنے والوں کی نسبت فرماتے ہیں: ’’انہیں ملائکہ گھیر لیتے ہیں اور رحمت الٰہی ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکینہ اور چین اتر تا ہے رواہ مسلم والتر مذی عن ابی ھر یرۃ وابی سعید رضیﷲ تعالیٰ عنھما۔ ثانیاًہر محبوبِ خدا کا ذکر محلِ نزولِ رحمت ہے۔امام سفین بن عیینیہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:نیکوں کے ذکر کے وقت رحمت الٰہی اترتی ہے۔ ابو جعفر بن حمدان نے ابو عمرو بن نجید سے اسے بیان کر کے فرمایا: رسول ﷺتو سب صالحین کے سردار ہیں، پس بلاشبہ جہاں اذان ہوگی رحمت الٰہی اترے گی اور بھائی مسلمان کیلئے وہ فعل جو باعث نزول رحمت ہو شرع کو پسند ہے نہ کہ ممنوع۔

دلیل 12: خود ظاہر او رحدیثوں سے بھی ثابت کہ مردے کو اس نئے مکان تنگ و تار میں سخت وحشت اور گھبراہٹ ہوتی ہےمگر جس پر میرا رب رحم فرمائے یقیناً میرا رب بخشش فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے) اور اذان دافع دحشت وباعث اطمینانِ خاطر ہے کہ وہ ذکر خدا ہے اور اللہ عزوجل فرماتا ہے:سن لو خدا کے ذکر سے چین پاتے ہیں دل‘‘ ۔ ابو نعیم وابن عسا کر حضرت ابوہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی حضور سرور عالم ﷺفرماتے ہیں:’’جب آدم علیہ الصلوٰۃ و السلام جنت سے ہندوستان میں اترے انہیں گھبراہٹ ہو ئی تو جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اتر کر اذان دی‘‘۔ پھر ہم اس غریب کی تسکین خاطر و دفع توحش کو اذان دیں تو کیا براکریں ۔ حاشا بلکہ مسلمان خصوصاً ایسے بیکس کی اعانت حضرت حق عزوجل کو نہایت پسند ہے حضور سید عالم ﷺفرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں ہے جب تک بندہ اپنے بھائی مسلمان کی مدد میں ہے۔رواہ مسلم و ابو داؤد و الترمذی وابن ماجۃ والحاکم عن ابی ہریرۃ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور فرماتے ہیں:جو اپنے بھائی مسلمان کے کام میں ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کی حاجت رو ائی میں ہو۔ اور جو کسی مسلمان کی تکلیف دور کرے اللہ تعالیٰ اس کے عو ض قیامت کی مصیبتوں سے ایک مصیبت اس پر سے دور فرمائے۔ رواہ الیشخان وابو داؤد عن ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہما۔

دلیل13: مسند الفر دوس میں سیدنا علی مرتضیٰ سے مروی: ’’مجھے حضو رسید عالم ﷺنے غمگین دیکھا ارشاد فرمایا اے علی! میں تجھے غمگین پاتا ہوں۔ اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے۔ اذان غم و پریشانی کی دافع ہے‘‘ ۔ مولیٰ علی اور مولیٰ علی تک جس قدر اس حدیث کے راوی ہیں سب نے فرمایا:ہم نے اسے تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا ذکرہ ابن حجر کمافی المرقاۃ اور خود معلوم اور حدیثوں سے بھی ثابت کہ میت اس و قت کیسے حزن و غم کی حالت میں ہوتا ہے مگر وہ خاص عباد اللہ اکابر اولیا ء اللہ جو مر گ کو دیکھ کر مرحبا بحبیب جآء علیٰ فاقۃٍ (خوش آمدید اس محبوب کو جو بہت دیر سے آیا)فرماتے ہیں تو اس کے دفع غم والم کے لیے اگر اذان سنائی جائے کیا معذورِ شرعی لازم آئے حاشااللہ! بلکہ مسلمان کا دل خوش کرنے کے برابر اللہ عزوجل کو فرائض کے بعد کوئی عمل محبو ب نہیں۔ طبرانی معجم کبیر، معجم اوسط میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی حضور پر نورﷺ فرماتے ہیں:بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک فرضوں کے بعد سب اعمال سے زیادہ مسلمان کا خوش کرنا ہے۔ انہیں دونوں میں حضرت امام ابن الا مام سیدنا حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی حضور سید عالم ﷺفرماتے ہیں:بے شک موجبات مغفرت سے ہے تیرا اپنے بھائی مسلمان کو خوش کرنا۔

دلیل 14:قالﷲ تعالیٰ: اے ایمان والو اللہ کا ذکر کروبکثرت ذکر کرنا ، حضو راقدسﷺ فرماتے ہیں:اللہ کا ذکر اس درجہ بکثرت کرو کہ لوگ مجنون بتائیں۔ اخرجہ احمد وابویعلی وابن حبان والحا کم و البیھقی عن ابی سعید الخدری رضی ﷲ تعالٰی عنہ صححہ الحاکم و حسنہ الحا فظ ابن حجر اور فرماتے ہیں: ہر سنگ و شجر کے پاس اللہ کا ذکر کر اخرجہ الامام احمد فی کتا ب الزھد و الطبرانی فی الکبیر عن معاذ بن جبل رضی ﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔

عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کوئی فرض مقرر نہ فرمایا مگر یہ کہ اس کے لئے ایک حد معین کر دی۔ پھر عذر کی حالت میں لو گو ں کو اس سے معذور رکھا۔ سوا ذکر کے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے کو ئی حد مقرر نہ رکھی جس پر انتہا ہواور نہ کسی کو ا س کے ترک میں معذور رکھا مگر وہ جس کی عقل سلامت نہ رہے اور بندوں کو تمام احوال میں ذکر کا حکم دیا۔ ان کے شاگرد امام مجا ہد فرماتے ہیں:ذکر کثیر یہ ہے کہ کبھی ختم نہ ہو۔ ذکر الٰہی ہمیشہ ہر جگہ محبوب و مرعوب و مطلوب و مندوب ہے جس سے ہرگز ممانعت نہیں ہو سکتی۔ جب تک خصوصیت خاصہ کوئی شرعی نہ آئی ہو اور اذان بھی قطعاً ذکر خدا ہے۔پھر خدا جانے کہ ذکر خدا سے ممانعت کی وجہ کیا ہے۔ہمیں حکم ہے کہ ہم ہر سنگ و درخت کے پاس ذکر الٰہی کریں۔قبرِ مومن کے پتھر کیا اس حکم سے خارج ہیں۔خصو صاً بعد دفن ذکر خدا کرنا تو خود حدیثوں سے ثابت او ر بہ تصر یح ائمہ دین مستحب و لہٰذا امام اجل ابو سلیمان خطا بی دربارئہ تلقین فرماتے ہیں:ہم اس میں کو ئی حدیث مشہور نہیں پاتے او را س میں کچھ مضائقہ نہیں ہے کہ اس میں نہیں ہے مگر خدا کا ذکر اور یہ سب کچھ محمود ہے۔

دلیل 15:امام اجل ابو زکریا نووی شارح صحیح مسلم کتاب الا ذ کا میں فرماتے ہیں: مستحب یہ ہے کہ دفن سے فارغ ہو کر ایک سا عت قبر کے پاس بیٹھیں اتنی دیر کہ ایک اونٹ ذبح کیا جائے اور اس کا گو شت تقسیم ہو اور بیٹھنے والے قرآن مجید کی تلاوت اور میت کے لئے دعا اور وعظ و نصیحت اور نیک بندوں کے ذکر و حکا یت میں مشغول رہیں۔شیخ محقق مو لانا عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ لمعات شرح مشکوٰۃمیں زیر حدیث امیر المومنین عثمان غنی اللہ تعالیٰ عنہ کہ فقیر نے دلیل ششم ذکر فرماتے ہیں: بتحقیق میں نے بعض علما ء سے سنا کہ دفن کے بعد قبر کے پاس کسی مسئلہ فقہ کا ذکر مستحب ہے‘‘۔ اشعۃ اللعمات شرح فارسی مشکوٰۃ میں اس کی وجہ بیان فرماتے ہیں’’کہ باعث نزول رحمت است ‘‘ (نزول رحمت کا باعث ہے) اور فرماتے ہیں’’مناسب حال ذکر مسئلہ فرائض است ‘‘(ذکر مسئلہ فرائض مناسب حال ہے)اور فرماتے ہیں کہ اگر ’’ختم قرآن کنند ادلیٰ وافضل باشد‘‘(اگر قرآن پاک ختم کریں تو یہ اولیٰ اور بہتر ہے)۔ جب علماء کرام نے حکایت اہل خیرو تذکرہ صالحین وختم قرآن و بیا ن مسئلہ فقہیہ و ذکرِ فرائض کو مستحب ٹھہرایا حالانکہ ان میں بالحضوص کو ئی حدیث وارد نہیں بلکہ وجہ صرف وہی کہ میت کو نزول رحمت کی حاجت اور اِن امور میں ا مید نزول رحمت تو اذان کہ بشہادت احادیث مو جب نزول رحمت و دفع عذاب ہے کیو نکر جائز بلکہ مستحب نہ ہوگی۔

بحمدﷲ: یہ پندرہ دلیلیں ہیں کہ چند سا عت میں فیض قدیر سے قلب فقیر پر فا ئض ہو ئیں ناظر منصف جانے گا کہ ان میں کثرت تو محض استخراج فقیر ہیں اور باقی کے بعض مقد مات اگرچہ بعض اجلہ علما ئے اہل سنت و جماعت رحمہم اللہ تعالیٰ کے کلام میں مذکور مگر فقیر غفر اللہ تعالیٰ لہ نے تکمیل تر تیب و تسجیل تقریب سے ہر مقد مہ منفردہ کو دلیل کامل اور ہر مذکو رضمنی کو مقصود مستقل کردیا و الحمد ﷲ رب العالمین

ہم پر ان اکابر کا شکر واجب جنہوں نے اپنی تلاش و کوشش سے بہت کچھ متفرق کو یکجا کردیا اور اس دشوار کام کو ہم پر آسان کردیا۔

تنبیھات جلیلہ

تنبیہ اول: ہمارے کلام پر مطلع ہو نے والا عظمت رحمت الٰہی پر نظر کرے کہ اذان میں انشا ء اللہ الرحمن اس میت اور ان احیا ء کے لئے کتنے منا فع ہیں سات فا ئدے میت کیلئے

(1)… بحولہٖ تعالیٰ شیطان رجیم کے شرسے پناہ۔
(2)… بد ولت تکبیر عذاب نارسے امان۔
(3)… جواب سوالات کا یاد آجانا۔
(4)… ذکر اذان کے باعث عذاب قبر سے نجات پانا۔
(5)… بہ برکت ذکر مصطفی ﷺنزول رحمت۔
(6)… بدولت اذان دفع و حشت۔
(7)… زوال غم حصول سرورو فرحت ۔اور پندرہ احیاء کیلئے، سات تو یہی سات منافع اپنے بھائی مسلمان کو پہنچانا کہ ہر نفع رسانی جدا حسنہ ہے او رہر حسنہ کم از کم دس نیکیاں۔ پھر نفع رسانی مسلم کی منفعتیں خدا ہی جا نتا ہے۔
( 8)… میت کیلئے تدبیردفع شیطان سے اتباع سنت۔
(9)… تد بیر آسانیٔ جواب سے اتبا ع سنت۔
(10)… دعا ء عند ا لقبرسے اتباع سنت۔
(11)… بقصد نفع میت قبر کے پاس تکبیر یں کہہ کر اتباع سنت۔
(12)… مطلق ذکر کے فوائد ملنا جن سے قرآن وحدیث مالامال۔
(13)… ذکر مصطفی ﷺکے سبب رحمتیں پانا۔
(14)… مطلق دعا کے فوائد ہاتھ آنا جسے حدیث میں مغز عبادت فرمایا۔
(15)… مطلق اذان کے برکات ملنا جن میں منتہائے آواز تک مغفرت اور ہر ترو خشک کی استغفا رو شہادت اور دلوں کو صبر و سکون وراحت ہے۔ اورلطف یہ کہ اذان میں اصل کلمے سات ہی ہیں۔
ﷲ اکبر اشھد ان لا الہ الاﷲ اشھد ان محمد اً رسولﷲ حی الصلٰوۃ حی علیٰ الفلاحﷲ اکبر لا الہ الاﷲ اور مکررات کو گنئے تو پندرہ ہو تے ہیں میت کے لیے وہ سات فائدے اور احیاء کیلئے پندرہ انہی سات اور پندرہ کے برکات ہیں۔ والحمد اللہ رب العالمین !تعجب کرتا ہوںکہ حضرات مانعین نے میت و احیا ء کو ان فو ائد جلیلہ سے محروم رکھنے میں کیا نفع سمجھا ہے؟ ہمیں تو مصطفی ﷺنے یہ ارشاد فرمایا ہے:’’تم میں سے جس سے ہو سکے اپنے بھائی مسلمان کو نفع پہنچا ئے لازم اور مناسب ہے کہ پہنچائے ۔ رواہ احمدو مسلم عن جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ تعالیٰ عنھما ۔پھر خدا جانے اس اجازت کلی کے بعد جب تک خاص جذئیہ کی شرع میں نہی نہ ہو مما نعت کہاں سے کی جاتی ہے واللہ المو افق۔

تنبیہ دوم:حدیث میں ہے نبی ﷺفرماتے ہیں:مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے رواہ البیھقی عن انس وا لطبرا نی فی الکبر عن سھل بن سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنھما اور بے شک جو علم نیت جانتا ہے ایک ایک فعل کو اپنے لیے کئی کئی نیکیاں کر سکتا ہے مثلاًجب نماز کیلئے مسجد کو چلا اور صرف یہی قصد ہے کہ نماز پڑھوں گا تو بے شک اس کا یہ چلنا محمود ہر قدم پر ایک نیکی لکھیں گے اور دوسرے پر گناہ محوکریں گے۔ مگر عالم نیت اس ایک ہی فعل میں کئی نیتیں کرسکتا ہے۔

(1)… اصل مقصودیعنی نماز کو جا تا ہوں۔
(2)… خانہ خدا کی زیارت کروںگا۔
(3)… شعارِ اسلام ظاہر کرتا ہوں۔
(4)… داعی اللہ کی اجابت کرتا ہوں۔
(5)… تحیۃ المسجد پڑھنے جاتا ہوں۔
(6)… مسجد سے خس وخاشاک و غیرہ دور کروں گا۔
(7)… اعتکاف کرنے جاتا ہوں کہ مذہب مفتی بہ پرا عتکاف کے لئے روزہ شرط نہیں۔ اور ایک سا عت کا بھی ہو سکتا ہے جب سے دا خل ہو با ہر آنے تک اعتکاف کی نیت کرلے انتظار نماز و ادائے نماز کے ساتھ اعتکاف کا بھی ثواب پا ئے گا۔
(8)… امر الٰہی خذوا زینتکم عند کل مسجد(جب مسجد میں جائو) کے امتثال کو جاتا ہوں۔
(9)… جو و ہاں علم والا ملے گا اس سے مسائل پوچھوں گا، دین کی باتیں سیکھوں گا۔
(10)… جاہلوں کو مسئلے بتاؤں گا، دین سکھا ؤنگا۔
(11)… جو علم میں میرے بر ابرہو گا اس سے علم کی تکرار کروںگا۔
(12)… علماء کی زیارت۔
(13)… نیک مسلمانوںکادیدار۔
(14)… دوستوں سے ملاقات۔
(15)… مسلما نوں سے میل۔
(16)… جو رشتہ دا ر ملیں گے ان سے بکشادہ پیشیانی مل کر صلہ ٔ رحم۔
(17)… اہل اسلام کو سلام۔
(18)… مسلمانوں سے مصافحہ کروں گا۔
(19)… ان کے سلام کا جواب دو ں گا۔
(20)… نماز جماعت میں مسلمانوں کی برکتیں حاصل کرونگا۔
(21.22)…مسجد میں جاتے نکلتے حضور سید عالم ﷺ پر سلام عرض کروں گا۔بسم ﷲ الحمد ﷲ والسلام علی رسول ﷲ۔
(23.24) …دخول و خرو ج میں حضور و آل حضور وازواج حضور پر درود بھیجوں گا کہ اللھم صل علی سیدنا محمدوعلیٰ ال سید نا محمدوعلی ازواج سیدنا محمد ۔
(25)… بیمار کی مزاج پرسی کروں گا۔
(26)…اگر کوئی غمی والا ملا تعزیت کروں گا۔
(27)… جس مسلمان کو چھینک آئی اور اس نے الحمد ﷲ کہا اسے ’’یرحمک ﷲ‘‘ کہوں گا۔
(28.29)…امر با لمعرف و نہی عن المنکرکروں گا۔
(30)… نما زیوں کے وضو کو پانی دوں گا۔
(31.32)… خود مؤذن ہے یا مسجد میں کوئی مؤذن مقرر نہیں تو نیت کرے کہ اذان و اقامت کہوں گا۔اب اگر یہ کہنے نہ پا یا۔ دوسرے نے کہہ دی تا ہم اپنی نیت پر اذان و اقامت کا ثواب پا چکا: ﷲ تعالیٰ اسے اجر عطا فرمائے گا)۔
(33)…جو راستہ بھو لا ہوگا راستہ بتا ؤں گا۔
(34)…اندھے کی دستگیری کروں گا ۔
(35)… جنازہ ملا تو نما ز پڑھوں گا۔
(36)…موقع پایا تو ساتھ دفن تک جاؤں گا ۔
(37)…دو مسلمانوں میں نزع ہو ئی توحتی الو سع صلح کراؤں گا۔
(38.39)…مسجد میں جاتے وقت داہنے اور نکلتے وقت بائیں پاؤں کی تقدیم سے اتباع سنت کروں گا۔
(40)… راہ میں لکھا ہوا کاغذ پاؤں گا اٹھا کر ادب سے رکھ دوں گا۔
الٰی غیر ذالک من نیات کثیرۃ تو دیکھئے جواِن ارادوں کے ساتھ گھر سے مسجد کو چلا وہ صرف حسنہ نماز کیلئے نہیں جاتا بلکہ ان چالیس حسنات کیلئے جاتا ہے تو گویا اس کا یہ چلنا چالیس طرف چلنا ہے اور ہر قدم چالیس قدم ۔پہلے اگر ہر قدم ایک نیکی تھی اب چالیس نیکیاں ہونگی۔ اسی طرح قبر پر اذان دینے والے کو چا ہیئے کہ ان پندرہ نیتوں کا تفصیلی قصد کرے تاکہ ہر نیت پر جدا گا نہ ثواب پا ئے اور ان کے ساتھ یہ بھی ارادہ ہو کہ مجھے میت کیلئے دعا کا حکم ہے۔ اس کی اجابت کا سبب حاصل کرتا ہوں اور اس سے پہلے عمل صالح کو تقدیم چاہیئے یہ ادب دعا بجا لا تا ہوں ۔الٰی غیر ذالک مما یستخرجہ العا رف النبیل وﷲا لھا دی الٰی سوآء السبیل بہت لوگ اذان تو دیتے ہیں مگر ان منا فع دینیا ت سے غافل ہیں۔ وہ جو کچھ نیت کر تے ہیں اسی قدر پائیں گے۔ فانما الا عمال با لنیا ت و انمالکل امریئٍ مانویٰ۔

تنبیہ سوم: جہال منکرین یہاں اعتراض کرتے ہیں کہ اذان تو اعلام نماز کے لیے یہاں کو نسی نماز ہو گی جس کیلئے اذان کہی جاتی ہے مگر یہ ان کی جہالت انہیں کو زیب دیتی ہے وہ نہیں جا نتے کہ نماز میں کیا کیا اغراض و منا فع ہیں اور شرع مطہر نے نماز کے سوا کن کن مواضع میں اذان مستحب فرمائی ہے ازانجملہ گوش مغموم میں اور دفع وحشت کو کہنا تو یہیں گذرا اور بچے کے کان میں اذان دینا سنا ہی ہو گا۔ ان کے سوا اور بہت مواقع ہیں۔

Share:

Leave a reply