عوامی سوال و جواب

سوال: اگر غسل کے دوران پیشاب یا ہوا خارج ہو جائے تو کیا غسل ہو جائے گا یا دوبارہ کرنا ہو گا؟
جواب: غسل کے دوران پیشاب یا ہوا خارج ہونے پر وضو ٹوٹے گا، غسل دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وضو کرتے ہوئے ہوا خارج ہو جائے تو وضو دوبارہ کرنا ہوگا۔

سوال: اگر کوئی شخص باجماعت نماز میں رکوع کے بعد شامل ہوا تو کیا اس کو رکعت مل گئی یا نہیں؟
جواب: اگر امام کے رکوع میں ہاتھ چھوڑنے سے پہلے نمازی اللہ اکبر کہہ کر گھٹنوں پر ہاتھ رکھ لیتا ہے تو اُسے رکوع مل گیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کے لئے آؤ اور ہم سجدہ میں ہوں تم بھی سجدہ کرو اور اسے شمار نہ کرو اور جس نے رکوع پا لیا تو اس نے نماز (رکعت) پا لی۔ (ابو داود 893)

سوال: چھپکلی، سانپ، بچھو کو مارنا کیسا ہے؟ کیا چھپکلی کو مار کر نہانا چاہئے؟
جواب: حضورﷺ نے فرمایا: سانپ اور بچھو کو نماز میں بھی قتل کر ڈالو (ابن ماجہ) جس نے سانپ مارا اسکے لئے سات نیکیاں ہیں اور جس نے چھپکلی کو مارا اس کے لئے ایک نیکی ہے (مسند احمد)چھپکلی مارنے کے بعد غسل کرنے کی کوئی حدیث نہیں ہے، اگر کوئی کہتا ہے ایسی حدیث ہے تو وہ جھوٹا ہے۔

سوال: کیا پرندوں کو قید رکھنا جائز ہے؟
جواب: پرندے رکھنا اور ان کو پالنا شرعاً جائز ہے۔حضرت ابو عمیر رضی اللہ عنہ نے ایک چڑیا پال رکھی تھی(بخاری و مسلم) پرندے اور پالتو جانور کو پالنے والے کو چاہئے کہ ان کی خوراک کا خیال رکھے کیونکہ ایک عورت صرف اسلئے جہنم میں گئی کہ اس نے ایک بلی باندھ رکھی تھی لیکن اسے نہ تو کھانا کھلایا اور نہ ہی اسے زمین میں کھلا چھوڑ دیا کہ وہ حشرات الارض سے پیٹ بھر لے (بخاری)۔

سوال: شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر نمازادا کرنی پڑ جائے تو کیا حکم ہے؟
جواب: واضح رہے کہ نمازی کے سامنے الماری، کھڑکی یا دیوار میں نصب شیشے میں نمازی کا عکس ہے کوئی تصویر نہیں ہے، اسلئے نماز بلا کراہت ہو جائے گی۔ البتہ نمازی کی توجہ اسطرف نہیں جانی چاہئے۔

سوال: عورت کے لئے بالوں کا جوڑا بنانا کیسا ہے؟
جواب: عورت کے لئے بالوں کو جمع کر کے ”سر کے اوپر“ جوڑا باندھنا جائز نہیں ہے جیسا کہ حدیث پاک میں بھی ہے کہ ایسی عورت جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گی۔ البتہ اگر کسی نے اسطرح بالوں کا جوڑا بنایا کہ نماز کی حالت میں وہ بال ڈھکے ہوئے تھے تو نماز کا فرض ادا ہو جائے گا اور اگر عورت کے چوتھائی حصہ سے زیادہ بال کھلے ہوں تو نماز نہیں ہو گی۔ باقی عورت کا گدی (سر کا پچھلا حصہ)پر بالوں کا جوڑا باندھنا جائز ہے بلکہ حالت نماز میں بہتر ہے کیونکہ بالوں کا پردے میں زیادہ سہولت ہے۔

سوال: اگر کسی نے بھول کر سجدہ سہو کیا تو اس کا کیا حکم ہے؟ یا یہ سوچا کہ سجدہ سہو واجب ہوا حالانکہ سجدہ سہو واجب نہیں ہوا تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر کسی پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوا تو محض شک و شبہ کی بنیاد پر سجدہ سہو نہیں کرنا چاہئے،اور اگر غلطی سے سجدہ سہو کر لیا تو نماز ہو گئی، دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: چار رکعت والے فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا واجب ہے یا نہیں؟ کیا خاموش بھی رہ سکتے ہیں؟

1۔ ہرفرض، واجب، سنت اور نفل ”نماز“ کی ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد سورۃ ملانی ضروری ہے اور اگر بھول کرنہ ملائی تو ”سجدہ سہو“ کرنا پڑے گا۔ البتہ فرض نمازیں (ظہر، عصر، عشاء) کی آخری دو رکعتوں میں اور مغرب کی آخری ایک رکعت میں سورۃ نہیں ملاتے بلکہ ان خالی رکعتوں میں الحمدشریف پڑھنا افضل ہے، اگر تسبیح کوئی کر لیں تب بھی جائز، اگر خاموش رہے تب بھی جائز ہے اور فرض کی ان رکعتوں میں اگر الحمد شریف کے ساتھ سورۃ مل بھی جائے تو ”سجدہ سہو“ نہیں کرتے۔

2۔ یہ بھی یاد رہے کہ کہ فرض نماز جو امام پڑھاتا ہے اور عوام امام کے پیچھے ادا کرتی ہے اُس میں عوام تو الحمد شریف اور سورت نہیں پڑھتی، البتہ امام جب فرض نماز پڑھاتا ہے یا عوام اپنی علیحدہ پڑھے تو اُس کے لئے یہ مسئلہ ہے کہ فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا افضل ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے:”ان النبیﷺ کان یقرأ فی الظھر فی الأولیین بأم الکتاب، وسورتین، وفی الرکعتین الأخریین بأم الکتاب“بے شک نبیﷺ ظہر کی پہلی دورکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دوسورتیں تلاوت فرماتے تھے اور آخری دورکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ تلاوت فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری، کتاب الاذان ،باب یقرأ فی الاخریین، ج1، ص107، مطبوعہ کراچی )

3۔ امام اگر فرض کی آخری دو رکعتوں میں کچھ بھی نہ پڑھے، خاموش رہے، تب بھی نماز ہو جائے گی:أن عبد اللہ بن مسعود کان لا یقرأ خلف الامام فیما جھر فیہ، وفیما یخافت فیہ فی الأولیین، ولا فی الأخریین، واذا صلی وحدہ قرأ فی الأولیین بفاتحة الکتاب وسورة، ولم یقرأ فی الأخریین شیئا“ ترجمہ: بے شک عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے جہری اور خفی دونوں نمازوں میں پہلی دو رکعتوں اورآخری دو رکعتوں میں قراءت نہیں کرتے تھے اور جب تنہا نماز پڑھتے تو پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اورساتھ میں سورت کی قراءت کرتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں کچھ نہیں پڑھتے تھے۔ (مؤطا امام مالک، باب افتتاح الصلاة، ص 62، مطبوعہ المکتبة العلمیہ)

مصنف عبد الزراق میں ہے:”عن عبید اللہ بن أبی رافع قال کان یعنی علیا یقرأ فی الأولیین من الظھر والعصر بأم القرآن وسورة، ولا یقرأ فی الأخریین “ترجمہ: عبید اللہ بن ابی رافع رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعت میں سورہ فاتحہ اور ساتھ میں سورت کی قراءت کرتے تھے اور آخری رکعتوں میں کچھ نہیں پڑھتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق، کتاب الصلاہ، باب کیف القراء ة فی الصلاة، ج 2، ص100، مطبوعہ المکتب الاسلامی ،بیروت)

حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”ما قرأ علقمة فی الرکعتین الأخریین حرفاقط“ ترجمہ: حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ(فرض کی) آخری دو رکعتوں میں ایک حرف بھی نہ پڑھتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق، کتاب الصلاہ، باب کیف القراءة فی الصلاة، ج 2، ص 100، مطبوعہ المکتب الاسلامی، بیروت)

4۔ امام اگر فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں تسبیح پڑھے تو تب بھی جائز ہے جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقرأ فی الأولیین، ویسبح فی الأخریین “ترجمہ : کہ (نمازی) پہلی دورکعتوں میں قراءت کرے اورآخری دو رکعتوں میں تسبیح کرے۔ (مصنف ابن ابی شیبة، کتاب الصلاہ، من کان یقول یسبح فی الاخریین، ج1، ص 327، مطبوعہ ریاض)

درمختار میں ہے:”واکتفی المفترض فیما بعد الأولیین بالفاتحة فانھاسنۃ علی الظاھر ولو زاد لابأس بہ (وھو مخیر بین قراءة) الفاتحة (وتسبیح ثلاثا) وسکوت قدرھا “ترجمہ:چار رکعت فرض پڑھنے والے کے لیے پہلی دو رکعت کے بعدسورہ فاتحہ پڑھنا کافی ہے اور یہ بظاہرسنت بھی ہے اور اگر سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت بھی ملا لی توکوئی حرج نہیں اورنمازی کوسورہ فاتحہ پڑھنے اور تین مرتبہ تسبیح کہنے اوراس مقدار چپ رہنے میں اختیار ہے۔ (درمختار،کتاب الصلاۃ،ج 02، ص 270، مطبوعہ کوئٹہ)

سوال: نماز وتر کے متعلق کچھ سمجھا دیں؟
جواب: ماز وتر ایک علیحدہ نماز ہے جس کے بارے میں ابو داود 1419 میں ہے کہ وتر حق ہے جو اسے نہ پڑھے ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں اور ابوداود 1416 میں ہے کہ وتر پڑھا کرو اسلئے کہ اللہ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے“۔ اسلئے وتر ایک علیحدہ جماعت ہے جو اہلسنت کے نزدیک تین رکعت ادا کرنا واجب ہے۔

2۔ بخاری 541 حضورﷺ نے نماز وتر اول شب، کبھی نصف شب اور کبھی آخر شب میں اور آخر میں نبی کریم ﷺ کا وتر صبح کے قریب پہنچا“۔ اسلئے وتر کی نماز عشاء کی نماز سے لے کر فجر کی اذان سے پہلے پہلے ادا کرنا بہتر ہے اور افضل تہجد کے ساتھ اداکرنا ہے۔

3۔ نماز وتر میں تیسری رکعت میں سورت فاتحہ کے بعد کوئی بھی سورت ملائی جاتی ہے اور اُس کے بعد ہاتھ بلند کر کے اللہ اکبر کہا جاتا ہے اور پھر دُعائے قنوت پڑھی جاتی ہے۔ دُعائے قنوت سے پہلے ہاتھ بلند کرنا سُنت ہے، اگر ہاتھ بلند نہ کئے تو نماز ہو جائے گی مگر تکبیر یعنی اللہ اکبر کہنا واجب ہے، اگر اللہ اکبر نہ کہیں گے تو سجود سہو کرنا ہو گا یعنی نماز کے آخر میں التحیات عبدہ و رسولہ تک پڑھ کر، درود سے پہلے ایک طرف سلام پھیریں، اُس کے بعد دو سجدے کریں اور پھر التحیات، درود، دعا پڑھکر سلام کریں، یہ طریقہ سجود سہو کرنے کا ہے۔

4۔ دُعائے قنوت احادیث میں مختلف ہیں، اسلئے کوئی بھی دُعائے قنوت پڑھ سکتا ہے، اگر کوئی بھی دُعائے قنوت نہیں آتی تو یاد کرے اور اس دوران کوئی بھی دُعا جیسے ربنا اتنا فی الدنیا حسنتہ و فی الاخرہ حسنتہ وقنا عذاب النار پڑھ لے، اگر یہ بھی نہیں آتی تو تین مرتبہ ربی اغفرلی کہہ لیں نماز وتر ہو جائے گی۔

5۔ اگر دُعائے قنوت پڑھنا بھول کر رکوع میں چلا گیا تو آخر پر سجود سہو کر لے نماز ہو جائے گی۔ اگر کسی کی نمازیں قضا ہوں تو اُس میں فجر کے دو فرض، ظہر کے چار فرض، عصر کے چار فرض، مغرب کے تین فرض اور عشاء کے چار فرض کے ساتھ تین وتر واجب بھی قضا کرے گا۔

Share:

Leave a reply