سوال: کعبۃ اللہ کی تعمیر کتنی بار ہوئی؟

1499
0
Share:

یہ وہ مقدس و بابرکت خطہ زمین ہے جسے بیت اللہ ہونے کا شرفِ عظیم حاصل ہوا، جس کی عظمت و رفعت میں کوئی ثانی نہیں اس کے چشمہ فیض سے پورا عالم انسانیت مستفیض ہو رہا ہے یہی بابرکت جگہ ہے جو پوری کائناتِ ارضی کا منبع و سرچشمہ ہےاسی سے ساری زمین کو پھیلایا گیا ہےزمین و آسمان کی پیدائش سے دو ہزار سال قبل اسے وجود بخشا گیاسیدنا حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

’’اللہ تعالیٰ نے ہر چیز سے پہلے پانی پیدا کیا پانی کو ہوا پر ٹھہرایا پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی ہوا بھیجی جس سے پانی میں ہلچل پیدا ہو گئی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے بیت اللہ والی جگہ قبہ نما ایک ٹیلہ پیدا کردیا جہاں دو ہزار سال بعد بیت اللہ شریف تعمیر کیا گیا۔‘‘

(عبد الرزاق، مصنف، 5: 90)

امام بيہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلا ٹکڑا جسے اللہ رب العزت نے زمین سے پیدا کیا وہ بیت اللہ کی جگہ ہے پھر اسی سے زمین کو پھیلایا گیا ہے۔

(محمد طاهر الکردی المکی، التاريخ القويم، 3: 7)

حضرت آدم رضی اللہ عنہ کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے ملائکہ نے کعبہ شریف تعمیر کیا اور وہ اس کا حج بھی کرتے تھے۔

(قاضی ثناء الله پانی پتی، تفسبر مظهری، 1: 508)

حضرت ابوذر سے مروی ہے کہ آپ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے کون سی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اَلْمَسْجِدُ الْحَرَامَ

یعنی بیت اللہ شریف کو اس قدامت کا شرف حاصل ہےسائل نے پھر استفسار کیا کہ بیت اللہ کے بعد کون سی مسجد وجود میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اَلْمَسْجِدُ الاَقْصٰی

دوسرا درجہ بیت المقدس کو حاصل ہےدریافت کیا گیا کہ دونوں کے درمیان کتنے عرصے کا فاصلہ ہے تو ارشاد فرمایا: چالیس برس کا۔

(1. بخاری، الصحيح، کتاب الانبياء، باب قول اللہ تعالی وَوَهَبْنَا لداود، 3: 1260، رقم: 3243

2. قاضی ثناء اللہ پانی پتی، تفسير مظهری، 1: 508)

تاریخی تناظر میں دیکھیں تو یہ بات قرین فہم معلوم ہوتی ہے کہ وہ خطۂ زمین جسے خانہ خدا کی تعمیر کے لئے منتخب کیا گیا۔ کوئی بے آباد و ویران مقام نہ تھا بلکہ مدت سے یہ انسانوں کی بستی بن چکا تھاچونکہ اس مقدس مقام کو آنے والی نسلوں کے لئے تہذیب و ثقافت اور علم و عرفان کا گہوارہ بننا تھا۔

اب تک کعبۃ اللہ کی تعمیر گیارہ مرتبہ ہو چکی ہے:

1۔ ملائکہ سے تعمیر
سب سے پہلے بیت اللہ کی تعمیر اللہ تعالیٰ کے حکم پر فرشتوں نے کی، حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ (امام زین العابدين رضی اللہ تعالی عنہ) سے ایک آدمی نے پوچھا: بیت اللہ کا طواف کب سے ہو رہا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو زمین پر اپنا خلیفہ بنانے کے بارے میں اطلاع دی تو انہوں نے عرض کیا ہم آپ کی تسبیح و تقدیس کرنے والے ہیں اور آپ ہمارے ایسے بشر کو خلیفہ بنا رہے ہیں جو زمین میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ فرشتوں کو اپنی عرض پر نہایت ہی شرمندگی ہوئی، انہوں نے حالت زاری اور تضرع میں عرش الٰہی کا تین دفعہ طواف کیا، اللہ تعالیٰ نے ان پر خصوصی رحمت کرتے ہوئے عرش کے نیچے ’’بیت المعمور‘‘ بنا کر فرمایا: تم اس کا طواف کیا کرو، اس کا ہر روز ستر ہزار فرشتے طواف کرتے ہیں۔ ایک دفعہ طواف کرنے والے دوبارہ نہیں آتے، اس کے بعد فرشتوں سے فرمایا: اب تم زمین پر جاؤ۔

إِبْنُوْا لِی بَيْتًا فِی الْأَرْضِ بِمِثَالِه وَقَدْرِهِ.

’’اسی کی مثل و مقدار کے مطابق زمین پر میرا گھر بناؤ۔‘‘

جب گھر بن گیا تو اللہ تعالیٰ نے زمین پر رہنے والی مخلوق کو حکم دیا:

أَنْ يَّطُوْفُوْا بِهَذَا الْبَيْتِ کَمَا يَطُوْفُ أَهْلُ السَّمَآئِ بِالْبَيْتِ الُمَعْمُوْرِ

(ازرقی، اخبار مکه، 1: 34)

’’اس گھر کا تم بھی اسی طرح طواف کرو جیسے آسمان والے بیت المعمور کا کرتے ہیں۔‘‘

سیدنا آدم رضی اللہ عنہ کی پیدائش سے دو ہزار سال قبل فرشتوں نے بیت اللہ شریف تعمیر کیا زمین پر رہنے والے ملائکہ کو اللہ تعالیٰ نے اس کے طواف اور حج کرنے کا حکم دیا تھا۔

(ملا علی قاری، مرقاة المفاتيح، 5: 263)

2۔ سیدنا آدم رضی اللہ عنہ سے تعمیر
سیدنا آدم اور حضرت حوا علیہما السلام جب زمین پر آئے تو حضرت آدم رضی اللہ عنہ نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیامولا میں اس لذت و سرور سے محروم ہو گیا ہوں جو فرشتوں کے ساتھ بیت المعمور کے طواف میں آیا کرتا تھا۔ کاش ہمیں پھر وہاں لوٹا دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا: اے آدم!

اِبْنِ لِي بَيْتًا بِحِذَاءِ بَيْتِی الَّذِی فِی السَّمَآئِ تَتَعَبَّدُ فِيْهِ اَنْتَ وَوَلَدُکَ کَمَا تَتَعَبَّدُ مَلائِکَتِی حَوْلَ عَرْشِيْ.

(الصالحی، سبل الهدی والرشاد، 1: 147)

’’تم اسی آسمانی گھر (بیت المعمور) کے مقابل زمین پر میرا گھر بناؤ اور اس میں تم اور تمہاری اولاد اسی طرح عبادت کرو جیسے ملائکہ میرے عرش کے ارد گرد کرتے ہیں۔‘‘

ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:

فَطُفْ بِه وَاذْکُرْنِی حَوْلَهُ کَمَا رَاَيْتَ الْمَلاَئِکَةَ تَصْنَعُ حَوْلَ عَرْشِی.

’’اس کا طواف کرو اور اس کے ارد گرد میرا ذکر کرو جیسا کہ تم نے ملائکہ کو میرے عرش کے ارد گرد کرتے دیکھا ہوا ہے۔‘‘

سیدنا آدم رضی اللہ عنہ حضرت جبرائیل امین کی رہنمائی میں مکہ معظمہ پہنچے وہاں جبرائیل رضی اللہ عنہ نے پر مار کر کعبہ کی بنیادیں ظاہر کیں جو انتہائی گہری تھیںپھر فرشتے، پانچ مختلف پہاڑوں سے بڑی بڑی چٹانیں لائے جن میں سے ایک چٹان تیس آدمی مل کر بھی نہیں اٹھا سکتے تھے۔ حضرت آدم رضی اللہ عنہ نے ان پتھروں سے بیت اللہ شریف تعمیر کیا۔

(محمد طاهر الکردی المکی، التاريخ القوم، 3: 12
صالحی، سبل الهدی والرشاد، 1: 147)

3حضرت شیث رضی اللہ عنہ سے بیت اللہ کی تعمیر
امام ازرقی وہب بن منبہ سے روایت کرتے ہیں کہ یاقوت کا وہ خیمہ جو سیدنا حضرت آدم رضی اللہ عنہ کے لئے جنت سے اتارا گیا تھا آپ کے وصال کے بعد اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اٹھا لیا تب انہی بنیادوں پر آپ کی اولاد نے مٹی اور پتھروں سے کعبۃ اللہ تعمیر کیا اور وہ عمارت طوفان نوح تک قائم رہی۔

حضرت آدم رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے پہلے تعمیر کعبہ کی سعادت حضرت شیث رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوئی۔

(محمد طاهر الکردی المکی، التاريخ القوم، 3: 32
صالحی، سبل الهدی والرشاد، 1: 148)

4۔ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ سے بیت اللہ کی تعمیر
سیدنا حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ فلسطین سے مکہ معظمہ میں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہما السلام سے ملاقات کے لئے تشریف لاتے رہے۔ جب تیسری بار بیت اللہ کی تعمیر کے سلسلہ میں تشریف لائے تو حضرت اسماعیل رضی اللہ عنہ جن کی عمر اس وقت بیس سال تھی چاہِ زمزم کے قریب ایک درخت کے نیچے بیٹھے تیر بنا رہے تھےطویل عرصے کی جدائی کے بعد والد گرامی کے چہرہ اقدس کی زیارت سے خوشی کی لہر دوڑ گئی انتہائی تعظیم و تکریم سے خوش آمدید کہاابتدائی گفت و شنید کے بعد حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ نے اپنے فرزند ارجمند کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

’’بے شک تیرے رب نے مجھے اس کا گھر (بیت اللہ) کی تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے عرض کیا (ابا جان) آپ اللہ کے حکم کی اطاعت میں جلدی کریں۔ ارشاد فرمایا رب کائنات نے اس عظیم کام میں تجھے میری مدد کرنے کا حکم دیا ہے۔ عر ض کیا میں حاضر ہوں آپ کر گزریے۔‘‘

(محمد طاهر الکردی المکی، التاريخ القوم، 3: 40)

اللہ تعالیٰ کے یہ دونوں مقرب بندے اس امرِ عظیم کی تکمیل کے لئے کمربستہ ہو گئے ایک عزم اور ولولہ کے ساتھ تعمیر کعبہ کا ارادہ کیا اس عزم اور ولولے میں احساسِ بندگی اور عاجزی کا عنصر غالب تھامگر ابھی تک یہ حقیقت منکشف نہ ہوئی تھی کہ بیت اللہ شریف کا حدود اربعہ کیا ہے دیواروں کی لمبائی و چوڑائی کتنی ہےکیونکہ طویل مدت اور سیلاب نے اس کے قدیم نشانات کو ختم کردیا تھا۔

سو قدرتِ خداوندی سے ان مکرم بندوں کی رہنمائی کے لئے اچانک ایک بدلی نمودار ہوئی جس سے یہ صدا آرہی تھی کہ جس قدر طول و عرض اس بدلی کے سایہ کا ہے۔ اسی قدر جگہ میں آپ بیت اللہ کی دیوار کھڑی کریں اس میں کمی بیشی نہ ہونے پائے۔

(محمد طاهر الکردی المکی، التاريخ القوم، 3: 42)

بعض روایات میں مذکور ہے کہ حضرت جبرائیل امین نے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے لئے بنیادوں کی نشاندہی کی تھی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک مجسم ہوا آئی جس کا نام ’’ریح الخجوج‘‘ تھا اس نے بیت اللہ کی جگہ کے گرد طواف کر کے اس کی حدود کو واضح کیا تھا۔ اس وقت یہ جگہ ایک ابھرے ہوئے سرخ ٹیلے کی طرح تھی۔

(ازرقی، اخبار مکه، 1: 60)

غرضیکہ باپ اور بیٹے نے کعبہ کی نشان زدہ بنیادوں کی کھدائی شروع کردی کچھ دیر بعد قدیم بنائے آدم رضی اللہ عنہ بھی ظاہر ہو گئی جس پر انہوں نے تعمیر کرنا تھی۔ کام کا آغاز ہوا چشمِ فلک نے دیکھا کہ حضرت اسماعیل رضی اللہ عنہ ایک مزدور کے بھیس میں پتھر لانے کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں جبکہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ ایک معمار کی حیثیت سے اپنے مقدس ہاتھوں سے دیوار چن رہے ہیں۔ مٹی، گارا یا چونے کی مدد کے بغیر ہی پتھر جوڑے چلے جا رہے ہیں اور وہ پتھر اس قدر بڑے اور وزنی ہیں کہ تیس آدمی مل کر بھی نہیں اُٹھا سکتے۔ اس تعمیر میں کام آنے والے پتھر پانچ مختلف پہاڑوں، طور سینا، طور سیتا، کوہ لبنان، کوہ جودی اور کوہ حرا سے فرشتے لے کر آئے تھے۔ بنیادوں میں کوہ حرا کے پتھر استعمال ہوئے جب دیواروں کی بلندی کچھ زیادہ ہو گئی اور پتھر لگانے میں دشواری محسوس ہونے لگی تو سیدنا حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ نے حضرت اسماعیل رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ کوئی ایسا پتھر تلاش کرو جس پر کھڑے ہو کر بآسانی تعمیر مکمل کی جا سکے۔ سیدنا حضرت اسماعیل رضی اللہ عنہ کی نظر انتخاب جس پتھر پر پڑی وہ یاد گار پتھر تھا جسے قرآن حکیم میں ’’مقام ابراہیم‘‘ کے مبارک اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ اس پتھر نے اپنے مزاج کی سنگینی اور سختی کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ کے نقشِ پا کا اس قدر گہرا اثر قبول کیا کہ زمانے کے حوادث بھی اسے نہ مٹا سکے جس کا نظارہ آج بھی مسلمانانِ عالم بچشم نم خود کر رہے ہیں۔

(ازرقی، اخبار مکه، 1: 62)

اس عظیم الشان تعمیر کے دوران حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ اور حضرت اسماعیل رضی اللہ عنہ انتہائی عاجزی وانکساری اور شکر گزاری اور احسان مندی کے جذبات سے سرشار ہو کر اپنے فریضے میں مگن رہے اور یہ دعا مانگتے رہے:

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمَ.

(البقرة، 2: 127)

’’اے ہمارے رب! تو ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے، بے شک تو خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔‘‘

5۔ قبیلہ جرہم سے تعمیر
شیخ ازرقی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جب سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی تعمیر کردہ عمارت کعبہ منہدم ہو گئی تو قبیلہ جرہم نے کعبہ کی تعمیر انہی بنیادوں پر کر دی۔ مسعودی نے مروج الذہب میں ذکر کیا ہے کہ جس شخص کی سربراہی میں یہ تعمیر مکمل ہوئی اس کا نام حارث بن اعضاض الاصفر تھا۔

(الاعلام باعلام بيت اللہ الحرام: 48)

6۔ عمالقہ سے تعمیر
چھٹی تعمیر قوم عمالقہ نے کی، اس کے برعکس بھی مروی ہے کہ پانچویں تعمیر عمالقہ نے اور چھٹی جرہم نے کی، امام ابن ابی شيبہ، اسحاق بن راہویہ اور ابن جریر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم کی تعمیر کردہ عمارت منہدم ہو گئی۔

فَبَنَتْهُ الْعَمَالِقَةُ، ثُمَّ انْهَدَمَ فَبَنَتْهُ جُرْهُمُ.

(صالحی، سبل الهدی والرشاد، 1: 163)

’’تو اسے عمالقہ نے بنایا (یہ تعمیر) پھر منہدم ہوئی تو قبیلہ جرہم نے تعمیر کیا۔‘‘

7حضرت قصی بن کلاب سے تعمیر
قاضی مکہ زبیر بن بکار اپنی کتاب ’’نسب قریش‘‘ میں لکھتے ہیں جب قصی بن کلاب کعبہ کے متولی بنے تو انہوں نے اس کی ایسی تعمیر کروائی:

لَمْ يَبْنِهِ أَحَدٌ مِّمَنْ بَنَاهَا قَبْلَهُ مِثْلَهُ.

(علامه قطب الدين، اعلام العلماء: 47)

’’کہ اس سے پہلے ایسی تعمیر کسی نے نہیں کروائی۔‘‘

قریش میں قصی پہلا آدمی تھا جسے کعبۃ اللہ تعمیر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اجداد میں سے تھا اور آپ سے تقریباً 130 سال پہلے اس کی حکومت قائم ہوئی تھی۔

(محمد طاهر الکردی المکی، التاريخ القوم، 3: 129)

8۔ قریش سے تعمیر
قریش نے جب محسوس کیا کہ عمارتِ کعبہ سیلاب کی وجہ سے کمزور ہو چکی ہے تو انہوں نے اس کی نئی تعمیر کے فیصلہ کا اعلان کیا اور اس موقع پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد گرامی کے ماموں جناب ابو وھب جو بڑے حقیقت شناس اور دور اندیش انسان تھے اپنی قوم سے مخاطب ہوئے:

’’اے گروہِ قریش! وعدہ کرو کہ کعبہ کی تعمیر پر تم بالکل پاکیزہ حلال اور صاف کمائی ہی خرچ کرو گے اور غارت گری اور بدکاری کا ایک پیسہ بھی اس پر نہیں لگاؤ گے۔‘‘

(ابن کثير، البدايه والنهايه، 2: 301)

تمام قبائل نے وعدہ کیا اور کعبہ معظمہ کے ایک ایک حصے کی تعمیر اپنے ذمہ لے لی۔ تعمیر کعبہ بہت بڑی سعادت تھی۔ سب لوگ مزدوروں کی طرح لگ گئے چھوٹے بڑے کا امتیاز مٹ گیا۔ ہر کوئی اپنے حصے کا کام کرنے میں مصروف رہا۔ یہ وہ بابرکت عمل تھا جس میں خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی حصہ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پتھر لا لا کر دیتے رہے۔ یہاں تک کہ اس باہمی تعاون اور اتحاد و یگانگت کی فضا میں تعمیر کعبہ مکمل ہوئی۔

9۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے تعمیر
خلفاء راشدین کے دور میں مسجد حرام میں توسیع تو ہوئی مگر بیت اللہ تعمیر قریش کے مطابق ہی رہا۔ تریسٹھ ہجری میں یزید حکمران بنا، اس نے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کی جانب بیعت سے انکار کرنے والوں سے جنگ کرنے کے لئے ایک لشکر جرار بھیجا چونکہ اہالیان مکہ اور مدینہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر چکے تھے اس لئے انہوں نے یزید کی بیعت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ نتیجتاً فریقین کے مابین جنگ چھڑ گئی۔ شب و روز لشکر والوں نے منجیق سے پتھر پھینکے جس کی وجہ سے کعبہ کی بعض دیواریں گر گئیں اور اس کی چھت و غلاف جل گئے۔

(علامه قطب الدين، اعلام العلماء، 69)

ادھر سے یزید کی موت کی خبر آنے پر لشکر واپس ہو گیا، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے تمام کعبہ کی تعمیر نئے سرے سے کروائی چونکہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ذہن میں تھا اس لئے انہوں نے اسے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی قائم کی ہوئی بنیادوں کو ہی پیش نظر رکھا یعنی حطیم کو کعبہ کی عمارت میں شامل کر دیا، دروازہ زمین پر رکھا اور مشرق و مغرب کی جانب دو دروازے بنا دیئے۔ حضرت یزید بن رومان سے منقول ہے کہ اس موقعہ پر وہ موجود تھا۔

فَأَدْخَلَ فِيْهِ مِنَ الْحَجَرِ، وَقَدْ رَاَيْتُ أَسَاسَ إِبْرَاهِيْمَ حِجَارَةً کَأَسْنِمَةَ الْإِبِلِ.

(صالحی، سبل الهدی والرشاد، 1: 165)

’’تو حطیم کو پھر شامل کر دیا گیا اور میں نے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی رکھی ہوئی بنیاد کے پتھروں کو دیکھا وہ اونٹ کی کہان کی طرح تھے۔‘‘

اس عظیم الشان کام کی بحسن و خوبی تکمیل پر سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ الوہیت میں اظہار تشکر کے لئے تنعیم سے چل کر لوگوں کی ایک بہت بڑی جمعیت کے ساتھ عمرہ ادا کیا اور اس سعادت عظیم کے حصول پر بارگاہ خداوندی میں سجدہ شکر بجا لائے۔

10۔ حجاج بن یوسف سے تعمیر
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیر کردہ عمارت تقریباً دس سال تک قائم رہی۔ جب آپ رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے تو 74ھ میں حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو کعبہ کی اس تعمیر کے بارے میں لکھا اور کہا اس تعمیر کو اہل مکہ پسند نہیں کرتے تو اس نے یہ آرڈر جاری کیا:

’’ابن زبیر نے جو لمبائی میں اضافہ کیا اسے قائم رکھا جائے اور جو حطیم والا حصہ شامل کیا ہے اسے خارج کر دیا جائے اور جو دوسرا غربی دروازہ بنایا اسے بھی بند کر دیا جائے، لہذا حجاج بن یوسف نے دوبارہ اسے قریش کی تعمیر کے مطابق ہی کر دیا۔‘‘

سنت ابراہیمی اور خواہش مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مطابقت تعمیر ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو حاصل تھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ عبد الملک بن مروان حدیث حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بے بہرہ اور بے خبر تھا۔

ایک مرتبہ ایک وفد کے ساتھ حارث بن عبد اللہ خلیفہ کے پاس آئےدوران گفتگو خلیفہ عبد الملک بن مروان نے کہا: میرا خیال ہے کہ تعمیر کعبہ کے بارے میں ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کوئی ایسی حدیث اپنی خالہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنی ہو گی جس کی روشنی میں سابقہ تعمیر کی گئی تھی۔ حارث بن عبد اللہ نے کہا ہاں ہاں ضرور سنی ہو گی یہ حدیث تو میں نے بھی اُم المومنین سے سنی ہے۔

خلیفہ نے سوال کیا تم نے کیا سنا تھا۔

انہوں نے کہا: اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ ایک مرتبہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: عائشہ! تیری قوم نے بیت اللہ کو تنگ کر دیا ہے اگر تیری قوم کا زمانہ شرک قریب نہ ہوتا تو میں نئے سرے سے تعمیر کر کے اس کی کمی کو پورا کر دیتا۔

عائشہ میرے ساتھ چل میں تجھے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی اصل بنیادیں دکھاتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حطیم میں سے سات ہاتھ اندر کا حصہ بیت اللہ میں شامل تھا اور اس جگہ ابراہیمی بنیادیں تھیں اور میں چاہتا ہوں کہ اس کے دو دروازے ایک مشرق میں اندر جانے کے لئے اور ایک مغرب میں باہر جانے کے لئے بنا دوں۔

عائشہ تمہیں معلوم ہے تیری قوم نے اتنا اونچا دروازہ کیوں رکھا؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ و رسولہ اعلم، آپ نے ارشاد فرمایا: محض اپنی بڑائی، تکبر اور نخوت کی وجہ سے انہوں نے ایسا کیا ہے تاکہ وہ جسے چاہیں کعبہ شریف میں داخل ہونے دیں اور جسے چاہیں اس سعادت سے محروم رکھیں۔

جس آدمی کے اندر داخل ہونے پر وہ خوش نہ ہوں اسے دھکا دے کر نیچے گرا دیتے اور جس کا داخلہ ان کی خواہش کے مطابق ہوتا اس کی دستگیری کرتے۔

خلیفہ نے کہا: حارث کیا تم نے یہ حدیث خود سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سنی تھی؟ حارث نے اثبات میں جواب دیا تو خلیفہ عبد الملک بن مروان کچھ دیر اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے سوچتا رہا اور کہا کاش! میں بیت اللہ کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا اس کے گرانے اور تبدیل کرنے کا فرمان جاری نہ کرتا۔

(مسلم، الصحيح، کتاب الحج، باب نقض الکعبة وبنآءِ ها، 2: 972، رقم: 1333)

11۔ سلطان مراد خان عثمانی سے تعمیر
اس تعمیر کے 966 سال بعد سیلاب سے کعبہ شریف منہدم ہوا تو 1040ھ میں سلطان مراد خان عثمانی نے اسے تعمیر کیااس کے بعد علامہ طاہر کردی لکھتے ہیں:

’’(سلطان مراد کی تعمیر کردہ) یہی عمارت ہمارے زمانے تک قائم چلی آ رہی ہے۔‘‘

(محمد طاهر الکردی المکی، تاريخ القويم، 3: 301)

اس کے بعد کعبہ کی تعمیر نہیں ہوئی البتہ اس میں اصلاحات اور مرمت کا کام ہر دور میں ہوتا رہا ہے

Share: