سوال : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضری کے آداب کیا ہیں؟

569
0
Share:

جواب : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضری کے آداب یہ ہیں :

جب شہرِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں داخلہ کا وقت آئے تو زائر مدینہ غسل اور وضو کرے، اچھی سے اچھی پوشاک پہنے، نوافل ادا کرے، توبہ کی تجدید کرے اور پیدل چلتا ہوا اندر داخل ہو کر تصویر عجز بن جائے کہ وہ شہنشاہ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار اقدس میں حاضری کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔

علامہ ابن قیم الجوزیہ نے اپنے شہرہ آفاق ’القصیدۃ النونیۃ‘ میں زیارت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آداب بیان کیے ہیں، وہ کہتے ہیں :

٭ جب ہم مسجد نبوی میں حاضر ہوں تو سب سے پہلے دو رکعت نماز تحیۃ المسجد ادا کریں۔

٭ پھر باطناً و ظاہراً انتہائی عاجزی و انکساری کے ساتھ حضوری کی تمام تر کیفیتوں میں ڈوب کر قبر انور کے پاس کھڑے ہوں۔

٭ یہ احساس دل میں جاگزیں رہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قبرانور میں زندہ ہیں سماعت بھی فرماتے ہیں اور کلام بھی فرماتے ہیں، پس وہاں کھڑے ہونے والوں کا سر ادباً و تعظیماً جھکا رہے۔

٭ بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یوں کھڑے ہوں کہ رعبِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پاؤں تھر تھر کانپ رہے ہوں اورآنکھیں بارگاہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گریہ مسلسل کا نذرانہ پیش کرتی رہیں اور وہ طویل زمانوں کی مسافت طے کرکے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کھو جائیں۔

٭ پھر مسلمان حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں وقار و ادب کے ساتھ ہدیہ سلام پیش کرتے ہوئے آئے جیسا کہ صاحبانِ ایمان و صاحبان علم کا شیوہ ہے۔

٭ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور کے قریب آواز بھی بلند نہ کرے، خبردار! اور نہ ہی سجدہ ریز ہو۔

٭ یہی زیارت افضل اعمال میں سے ہے اور روزِ حشر اسے میزانِ حسنات میں رکھا جائے گا۔

(ابن قيم، القصيدة النونيه : 181)

اس کے بعد زائر یہ دعا کرے :

اَللّٰهُمَّ قَدْ سَمِعْنَا قَوْلَکَ وَأَطَعْنَا أَمْرَکَ وَقَصَدْنَا نَبِيَّکَ مُسْتَشْفِعِيْنَ به إِلَيْکَ مِنْ ذُنُوْبِنَا، اَللّٰهُمَّ! فَتُبْ عَلَيْنَا وَاسْعَدْنَا بِزِيَارِتِه وَادْخِلْنَا فِي شَفَاعَتِه، وَقَدْ جِئْنَاکَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ ظَالِمِيْنَ أَنْفُسَنَا مُسْتَغْفِرِيْنَ لِذُنُوْبِنَا، وَقَدْ سَمَّاکَ اﷲُ تَعَالٰی بِالرُّئُ وْفِ الرَّحِيْمِ، فَاشْفَعْ لِمَنْ جَائَ کَ ظَالِمًا لِنَفْسِه مُعْتَرِفًا بِذَنْبه تَائِبًا إِلٰی رَبه.

’’اے اللہ ہم نے تیرا فرمان سنا اور تیرے احکام کی تعمیل میں تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہیں، جو تیری بارگاہ میں ہمارے گناہوں کی شفاعت کریں گے، اے اللہ ہم پر رحم و کرم فرما اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی برکت سے ہمیں خوش بخت بنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت ہمیں نصیب فرما۔ یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وآلک وسلم! ہم آپ کی بارگاہ میں اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہوئے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے حاضر ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’روف و رحیم‘ بنایا ہے۔ پس وہ جو اپنی جانوں پر ظلم کرکے اپنے رب کی بارگاہ میں اپنا گناہوں کا اقرار کرکے اس سے معافی مانگتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور حاضر ہوا اس کی شفاعت فرمائیے۔‘‘

اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے لئے، اپنے ماں باپ، شیخ، اساتذہ، اولاد، اعزا و اقرباء، دوستوں اور سب مسلمانوں کے لئے شفاعت مانگیں، اور بار بار عرض کریں :

اَسْئَلُ الشَّفَاعَةَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اﷲ عليک و آلک وسلم.

پھر اگر کسی نے بارگاہ رسالت مآب میں سلام عرض کرنے کے لئے کہا ہو تو شرعاً اس کی طرف سے سلام پہنچانا لازم ہے اور یوں عرض کرے : السلام علیک یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن فلاں بن / بنت فلاں (نام و ولدیت)

Share: