سوال: جنت البقیع کسے کہتے ہیں؟

704
0
Share:

جواب : جنت البقیع مدینہ منورہ کا عظیم قبرستان ہے، جو مسجد نبوی کی مشرقی سمت میں ہے، باب جبریل سے نکل کر سڑک پر آئیں تو سامنے جنت البقیع کا احاطہ نظر آتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہاں دس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آرام فرما ہیں اور تابعین، تبع تابعین اور اولیاء و علماء و صلحاء وغیرھم بھی بے شمار ہیں۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بقیع کے شمال مشرقی گوشہ کے قریب مدفون ہیں۔ یہیں پر ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا کی قبر مبارک ہے۔ اُم المومنین حضرت میمونہ رضی ﷲ عنہا کے علاوہ دیگر امہات المومنین اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تینوں صاحبزادیاں حضرت زینب رضی ﷲ عنہا، حضرت رقیہ رضی ﷲ عنہا، سیدہ النساء حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا اور صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ اسی مقامِ ادب پر محوِ استراحت ہیں۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ، حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہما، حضرت حلیمہ سعدیہ رضی ﷲ عنہا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھیوں کے مزارات بھی بقیع کے احاطہ میں ہیں۔ بقیع کی مشرقی دیوار سے باہر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسد کے مزارات ہیں۔

حضرت عثمان بن مظعون، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت خنیس بن حذافہ، حضرت اسد بن زرارۃ رضوان ﷲ علیہم اجمعین کے مزارات بھی یہیں ہیں۔

شیخ القرآء امام نافع اور امام مالک رضی اللہ عنہ بھی یہیں مدفون ہیں۔ ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے مزار بھی احاطہ میں موجود ہیں جو جنگ احد میں زخمی ہوئے اور مدینہ منورہ میں آ کر وفات پا گئے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر جنت البقیع تشریف لے جاتے اور اہل بقیع کے لئے مغفرت کی دعا فرماتے۔ مسجد نبوی اور روضہ اطہر کی حاضری کے بعد پہلی فرصت میں جنت البقیع کی زیارت کرنی چاہئے۔

Share: