خواجہ شمس الدین سیالوی رحمت اللہ علیہ

936
0
Share:

خواجہ شمس الدین سیالوی:سلسلہ چشتیہ اور دربار سیال شریف کے روحانی پیشوا تھے انہیں شمس العارفین کہا جاتا ہے

ولادت۔

خواجہ شمس الدین سیالوی بن خواجہ محمد یار 1214ھ/1799ء میں سیال شریف ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے آباء و اجدادکئی پشتوں سے دنیاوی عزت و جاہ اور علم و تقویٰ میں ممتاز تھے ۔آپ کے جد اعلیٰ موسیٰ پاک شہید ملتانی کے خلیفۂ مجاز تھے۔ آپ کا سلسلۂ نسب پچاس واسطوں سے عباس علمدار شہید کر بلاسے جا ملتا ہے ۔

تعلیم و تربیت۔

شمس الدین سیالوی سات سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرلیا، علم دین کی تحصیل کے لیے پنڈی گھیپ اورپشاور تشریف لے گئے ، مولانا حافظ درازسے فقہ و حدیث کا درس لیا مولانا حافظ دراز خوشاب ، پنجاب کے رہنے والے تھے اور پشاور میں مستقل قیام پزیر ہو گئے تھے، شمس العارفین نے پشاور ہی میں ان سے علم حاصل کیا

علم باطن۔

خواجہ محمد سلیمان تونسوی ( پیر پٹھان)سے شرف بیعت سے مشرف ہوئے۔ چھ ماہ تک دربار مرشد میں رہے اور باطنی تو جہات سے مستفیض ہوئےسال میں کئی دفعہ پا پیا دہ مرشد کامل کے دربار میں حاضری دیتے اور کم و بیش چالیس دن تک وہاں قیام کرتے ۔چودہ مرتبہ پیر پٹھان کی معیت میں تونسہ شریف سے مہار شریف کا سفر اس اس شان نیاز سے کیا کہ مرشد کامل گھوڑی پر سوار ہوتے اور آپ اپنے مرشد کا قرآن مجید،رحل اور دیگر وظائف سر پر رکھے ، پانی کا کوزہ دائیں ہاتھ میں ، مصلّٰی اور عصا بغل میں دبائے ساتھ ساتھ دوڑ تے جاتے تھے، 36 سال کی عمر میں جب آپ کا قلب انور عبادت در یاضت اور پیر کامل کی نگاہ کیمیا اثر کی برکت سے رشک شمس و قمر بن چکا تھا۔پیر پٹھان سلیمان زماں خواجہ محمد سلیمان تونسوی نے خرقہ خلافت عطا کیا سب سے پہلے آپ کے دست اقدس پر والدین کریمین بیعت ہوئے ، اس کے بعد میاں چٹھہ کسب دار ، شیخ عبد الجلیل قریشی، عبداللہ دین دار اور میاں فضل احمد قریشی مرید ہوئے

عادات و خصائل۔

آپ حسن اخلاق کے پیکر تھے،آپ کے قائم کردہ لنگر سے ہر مسافر مفلس اور مسکین بہرہ ور ہوتا اور آپ ہر در مند کی دکھ بھری داستان سنتے اور حسب حال اس کا مداوا فرماتے ، شریعت مقدسہ کی اتباع اور پیروی میں اپنی مثال آپ تھے، نماز جماعت ادا کرتے اور مریدین کو بھی اتباع سنت مطہرہ کا سختی سے حکم دیتے ، آپ نے رشد و ہدایت کا پیغام اعلیٰ پیمانے پر عوام و خواص تک پہنچا یا اور بے شمار مریدین کو درجۂ کمال تک پہنچایا۔

خلفاء

تاریخ مشائخ چشت میں آپ کے 35 خلفاء کے نام درج ہیں ،آپ کے خلفاء میں مندرجہ ذیل حضرات آسمان علم و عرفان پر مہر ماہ بن کر چمکے جن کے ذکر اور فیض سے قیامت تک دلوں کی دنیا مستینر ہوتی رہے

خواجہ محمد الدین سیالوی (فرزند اجمند)
پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی ۔
پیر غلام حیدر شاہ جلالپوری۔
پیر معظم الدین مرولوی

وفات

شمس العارفین کا وصال 4صفر ، 6جنوری 1300ھ/ 1883ء بروز جمعہ صبح صادق کے وقت ہوا

Share: