حضورﷺ کی قبر انور

1404
0
Share:

حضورﷺ کی قبر انور

1۔ گنبد خضراء ہر مسلمان کے دل میں بستا ہے اور ہم جیسے لوگ وہاں کوئی منتیں ماننے نہیں جاتے بلکہ صرف محبوب کی بستی میں محبوب کے پاس چند سانس لینے جاتے ہیں تاکہ محبوب کی شفاعت ملے۔ حضورﷺ کا گنبد خضراء، ریاض الجنتہ، سنہری جالیاں دیکھنا اور حضورﷺ کو سلام پیش کرنا عبادت ہے۔

2۔ پوسٹ پر لگی تصویر حضرت مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ کی قبر انور کی ہے جس کے متعلق جھوٹ کہا جاتا ہے یہ حضور ﷺ کی قبر انور ہے۔ حضورﷺ کی قبر انور کے ساتھ ساتھ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما کی قبروں کو صدیوں سے کسی نے نہیں دیکھا۔اگر کوئی کہتا ہے کہ مدینہ منورہ میں اُس شخص سے ملا جو حضورﷺ کی قبر انور کی صفائی پر مامور ہے تو سب جھوٹ ہے۔

(الف) آپ ﷺ اورحضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما کی قبریں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے حجرے کی چار دیواری کے اندر ہیں۔

(ب) چار دیواری کےارد گرد پانچ کونوں والی دیوار 91ہجری میں حضرت عمر بن عبدالعزیر رحمتہ اللہ علیہ نے بنائی، اُس دیوار کے پانچ کونے اسلئے رکھے کہ خانہ کعبہ سے مشابہت نہ ہو۔

(ج) پانچ کونوں والی دیوار کے ارد گرد پھر پانچ کونوں والی دیوار 881ھ میں بنائی جس پر سبز رنگ کا غلاف ہے، سنہری جالیوں کے اندر جھانکنے والوں کو سبز رنگ کےغلاف میں دیوار نظر آتی ہے جس کوعوام قبر سمجھتی ہے۔ یہ سب دیواریں بغیر دروازے کے ہیں، لہذا کسی کے ان دیواروں کے اندر جانے کا کوئی امکان موجود ہی نہیں ہے۔

(د) نورالدین زنگی رحمتہ اللہ علیہ کی بنائی جو سیسہ پلائی دیوار زمین سےتقریباً 200فٹ نیچے ہے۔

3۔ مسجد نبوی کی زیارت کرنےوالے غورکریں تو معلوم ہو گا کہ مسجد نبوی میں قبلہ کا رُخ جنوب کی طرف ہے لیکن مغرب کی طرف نہیں۔ نبی پاکﷺ کا روضہ مبارک ایک بڑے ہال کمرے میں ہے۔ روضہ مبارک کا دروازہ مشرقی جانب ہے یعنی جنت البقیع کی طرف اور یہ خاص شخصیات کے لئے کھولا جاتا ہے جیسا کہ حال ہی میں چیچن صدر کی وڈیو وائرل ہوئی ہے۔ روضہ رسول ﷺ کے اندر سے زیارت کرنے والے بھی اس پانچ کونوں والی سبز رنگ کےغلاف میں لپٹی دیوار تک جاتے ہیں۔

4۔ 881 ہجری میں حجرہ مبارک کی دیواروں کے بوسیدہ ہونے کے باعث دوبارہ تعمیر کرنا پڑی۔ حضرت نورالدین ابو الحسن السمہودی علیہ الرحمتہ مدینہ منورہ میں موجود تھے جنہوں نے اس تعمیر میں حصہ لیا اور وہ اپنی کتاب ”وفاء الوفاء با اخبار دار المصطفی ﷺ“ میں بیان کرتے ہیں:

14 شعبان 881 ھ کو پانچ دیواری مکمل طور پر ڈھا دی گئی۔ دیکھا تو اندرونی چار دیواری میں بھی دراڑیں پڑی ہوئی تھیں، چنانچہ وہ بھی ڈھا دی گئی۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اب مقدس حجرہ تھا۔ مجھے داخلے کی سعادت ملی۔ میں شمالی سمت سے داخل ہوا۔ خوشبو کی ایسی لپٹ آئی جو زندگی میں کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ میں نے رسول کریم ﷺ اورآپ کے دونوں خلفاء کی خدمت میں ادب سے سلام پیش کیا۔ مقدس حجرہ مربع شکل کا تھا۔ اس کی چار دیواری سیاہ رنگ کے پتھروں سے بنی تھی، جیسے خانہٴ کعبہ کی دیواروں میں استعمال ہوئے ہیں۔ چار دیواری میں کوئی دروازہ نہ تھا۔ میری پوری توجہ تین قبروں پر مرکوز تھی۔ تینوں سطح زمین کے تقریباً برابر تھیں۔ صرف ایک جگہ ذرا سا ابھار تھا۔ یہ شاید حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قبر تھی۔ قبروں پر عام سی مٹی پڑی تھی۔ اس بات کو پانچ صدیاں بیت چکی ہیں، جن کے دوران کوئی انسان ان مہر بند اور مستحکم دیواروں کے اندر داخل نہیں ہوا۔

السمہودی نے اپنی کتاب میں حجرہ نبوی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ”اس کا فرش سرخ رنگ کی ریت پر مبنی ہے۔ حجرہ نبوی کا فرش مسجد نبوی کے فرش سے تقریبا 60 سینٹی میٹر نیچے ہے۔ اس دوران حجرے پر موجود چھت کو ختم کر کے اس کی جگہ ٹیک کی لکڑی کی چھت نصب کی گئی جو دیکھنے میں حجرے پر لگی مربع جالیوں کی طرح ہے۔ اس لکڑی کے اوپر ایک چھوٹا سا گنبد تعمیر کیا گیا جس کی اونچائی 8 میٹر ہے اور یہ گنبد خضراء کے عین نیچے واقع ہے“۔

یہ سب معلومات معروف کتاب ”وفاء الوفاء با اخبار دار المصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم“ کے مؤلف السمہودی نے اپنی مشہور تصنیف میں درج کی ہیں۔ مسجد نبوی، حجرہ شریف اور قبر مبارک کے حوالے سے یہ کتاب سب سے مستند حوالہ ہے۔

5۔ کمنٹ میں چیچن صدرکی روضہ مبارک کی زیارت اور سعودیہ نے جو ویڈیو جاری کی ہیں اس کا لنک موجود ہے، ہر کوئی اس کو دیکھ کر پوسٹ کو بہترین انداز میں سمجھ جائے گا۔ اگر کسی کو لنک نہ ملے تو سوال کر سکتا ہے۔

Share:

Leave a reply