حضرت ادریس علیہ السلام

306
0
Share:

حضرت ادریس علیہ السلام

1۔ہر انسان دُنیا میں سیکھنے سکھانے کے لئے آیا ہے اور سب سے زیادہ حق اس ”تبلیغ“ کا انبیاء کرام نے ادا کیا۔ اللہ کریم نے چند ایک نبیوں کا تذکرہ قرآن میں کیا جن میں سے ایک نام حضرت ادریس علیہ السلام کا ہے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کا تذکرہ قرآن کی دو سورتوں (انبیاء اور مریم) میں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بخاری 3887 میں معراج کی رات حضور ﷺ کا حضرت ادریس علیہ اسلام سے چوتھے آسمان پر ملاقات ثابت ہے۔

2۔ حضرت ادریس علیہ السلام کا نام ”اخنوخ” ہے۔ آپ کے والد حضرت شیث بن آدم علیہما السلام ہیں۔ آپ حضرت نوح علیہ السلام کے والد کے دادا ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد آپ پہلے رسول ہیں۔ حضرت ادریس علیہ السلام حضرت آدم و شیث علیھما السلام کے بعدنبی ہوئے اور قرآن مجید میں آپ کا دو جگہ ذکر یوں آیا ہے:

صابر: وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ كُلٌّ مِنَ الصَّابِرِينَ ترجمہ: حضرت اسماعیل و ادریس و ذوالکفل کا تذکرہ کیجئے یہ سب صبر کے پہاڑ تھے (الأنبياء: 85)

تفاسیر میں آتا ہے کہ کفر و شرک، بدکاری و بے حیائی، زناکاری، شراب نوشی، بتوں اور آگ کی پوجا ہو رہی تھی، آپ نے تبلیغ کی، اس راہ میں بڑی مشکلات دیکھیں، ظلم و ستم سہے، ہجرت کی، جہاد کیا، اسلئے آپ کو صابر فرمایا گیا۔

بلند مقام: وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ ۡ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا وَّرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا ترجمہ: اور کتاب میں ادریس (علیہ السلام) کا بھی تذکرہ کرو بے شک وہ صدیق نبی تھے اور ہم نے اسے بلند مکان پر اُٹھا لیا (سورہ مریم 56 – 57)

مفسرین کرام نے سورہ مریم کی آیت نمبر 57 پر بہت بحث کی ہے اور مختلف روایات ہیں جن میں آتا ہے کہ اس آیت سے مراد ہے: حضرت ادریس علیہ السلام کو (1) نبوت عطا کرنا (2) جنت میں ہونا (3) چھٹے آسمان پر ہونا (4) چوتھے آسمان پر ہونا۔

حتمی بات: ہمارے نزدیک یہ بات تو حتمی ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کو بلند جگہ پر اٹھانے سے ان کے درجات کی بلندی مراد نہیں ہے بلکہ انہیں زمین سے اوپر اٹھا کرلے جایا گیا تھا اور صحیح بات یہی ہے کہ وہ اب زندہ نہیں ہیں، رہا یہ کہ ان کو موت کس جگہ آئی زمین پر یا آسمان پر اور یہ کہ وہ اب جنت میں ہیں یا نہیں، سو اس بارے میں مختلف روایات ہیں اور اس سلسلہ میں ہمارے لئے فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ (تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 57)

تبصرہ: قرآن کریم سے حضرت ادریس علیہ السلام کا آسمانوں پر جانا تو ثابت ہے اور بخاری 3887 معراج کی رات حضور ﷺ کا چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ اسلام سے ملاقات ثابت ہے۔ باقی اصل واقعات کسی بھی معتبر روایات میں موجود نہیں ہیں۔

حیاتی مماتی

1۔ اللہ کریم ہمیشہ سے حی (زندہ) و قیوم (قائم) ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ سب کو پیدا کرتا اور سب کو موت دیتا رہے گا کیونکہ وحدہ لاشریک ہے اسلئے اُس کی ذات و صفات میں کوئی نبی،صحابی و ولی شریک نہیں ہے۔ اللہ کریم کی طرح کسی کی حیات نہیں ہے بلکہ انبیاء کرام، اہلبیت و صحابہ کرام، اولیاء کرام و مومنین اللہ کریم کے حُکم سے وقت مقررہ پرعالم ارواح سے عالم دنیا میں تشریف لاتے رہے اور موت آنے پر اُن کی قبور بنائی گئیں اور وہ عالم برزخ میں تشریف لے گئے۔

2۔ احادیث اورمعراج شریف کی رات حضور ﷺ نے جو کچھ دیکھا اُس پر ایمان لانے کے بعد یہ عقیدہ بنا کہ دنیا سے جانے کے بعد انبیاء کرام اپنی قبروں، عالم برزخ اور آسمانوں میں جسم و روح کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں اور ایسی ”حیاتی“ پر ایمان لاسکتے ہیں مگر کسی کو مشاہدہ (دکھا) نہیں کروا سکتے۔

3۔ یہ کہنا کہ حضورﷺ نعوذ باللہ مر کر مٹی ہو گئے یہ کُفر ہے۔اگر کوئی کہے کہ حضورﷺ کی برزخی زندگی اس عالم دنیا والی زندگی سے مختلف ہے تو بالکل ٹھیک کہتا ہے کیونکہ (انبیاء کرام، صحابہ کرام، اہلبیت، مومنین) عالم دُنیا کی زندگی سے کروڑوں درجہ بہتر عالم برزخ کی زندگی ہو گی۔

4۔ اگر کوئی کہے کہ بعد از وصال انبیاء کرام کا اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ عالم برزخ کی زندگی میں مشغول بندگی ہیں تو یہ اُس کی بات ٹھیک ہے کیونکہ ہم دکھا نہیں سکتے مگر اللہ کریم کے حُکم سے کسی وقت یا ہر وقت تعلق پیدا ہو جائے تو اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

Share:

Leave a reply