حشر میں ماں کا نام یاامام

Share:

حشر میں ماں کا نام یاامام؟

1۔ اللہ کریم قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ يوم ندعو كل أناس بإمامهم ترجمہ: جس دن تمام لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بُلائیں گے(سورہ بنی اسرائیل 71)

2۔ تفسیر میں ہے: امام ”ام“ کی جمع ہے اسلئے لوگوں کو اُن کی ماؤں کے نام کے ساتھ بلایا جائے گا اور اس کی تین حکمتیں (۱) حضرت عیسی علیہ السلام کی وجہ سے (۲) حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنھما کے شرف کو ظاہر کرنے کے لئے (۳) حرامی بچے کو رسوائی سے بچانے کے لئے۔ یہ قول ان احادیث کے خلاف ہے:

(۱) حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: روزِ قیامت تم اپنے ناموں اور اپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤگے، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھا کرو۔‘‘(مسنداحمد بن حنبل، 5: 194، رقم: 21739، سنن ابي داؤد، 4: 287، رقم: 4948،دارمي، السنن، 2: 38۰، رقم: 2694)

(۲) حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: عہد شکن کے لیے قیامت کے روز ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔‘‘(بخاري، الصحيح، 5: 2285، رقم: 5823،مسلم، الصحيح، 3: 1959، رقم: 1735)

(۳) ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «يوم ندعو كل أناس بإمامهم» ”جس دن ہم ہر انسان کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے“ (بنی اسرائیل: ۷۱)، کے بارے میں فرمایا: ”ان میں سے جو کوئی (جنتی شخص) بلایا جائے گا اور اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا جسم بڑھا کر ساٹھ گز کا کر دیا جائے گا، اس کا چہرہ چمکتا ہوا ہو گا اس کے سر پر موتیوں کا جھلملاتا ہوا تاج رکھا جائے گا، پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس جائے گا، اسے لوگ دور سے دیکھ کر کہیں گے: اے اللہ! ایسی ہی نعمتوں سے ہمیں بھی نواز، اور ہمیں بھی ان میں برکت عطا کر، وہ ان کے پاس پہنچ کر کہے گا: تم سب خوش ہو جاؤ۔ ہر شخص کو ایسا ہی ملے گا، لیکن کافر کا معاملہ کیا ہو گا؟ کافر کا چہرہ کالا کر دیا جائے گا، اور اس کا جسم ساٹھ گز کا کر دیا جائے گا جیسا کہ آدم علیہ السلام کا تھا، اسے تاج پہنایا جائے گا۔ اس کے ساتھی اسے دیکھیں گے تو کہیں گے اس کے شر سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں ایسا تاج نہ دے، کہتے ہیں: پھر وہ ان لوگوں کے پاس آئے گا وہ لوگ کہیں گے: اے اللہ! اسے ذلیل کر، وہ کہے گا: اللہ تمہیں ہم سے دور ہی رکھے، کیونکہ تم میں سے ہر ایک کے لیے ایسا ہی ہے۔(ترمذی 3136)

ذاتی سوچ: اسلئے یہی تفسیر صحیح ہے کہ امام سے مراد تیرا اعمال نامہ ہے، جس نیت سے تو جس کی اتباع کرے گا، کل قیامت والے دن اُسی کے نام سے پُکارا جائے گا، اُسی کے ساتھ تیرا حشر ہو گا۔ البتہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو والدہ کی جانب منسوب کرکے عیسیٰ بن مریم پکاراجائے گااور حضرت آدم علیہ السلام کے نہ والد ہیں نہ والدہ، اس لیے ان کا نام پکارتے وقت والدین میں سے کسی کے نام کی ضرورت نہیں ہوگی۔

3۔ امام وہی ہوتا ہے جس کی لوگ پیروی کرتے ہیں چاہے وہ امام گمراہ ہو یا ہدایت یافتہ۔یہ جاننا بہت آسان ہے کہ تیرا”امام“ کون ہے؟ آپ خود بتا دو کہ تمہارے سپر سٹارز صحابہ کرام ہیں یا تمہارے سپر سٹارز فلموں ڈراموں، گانوں والے سپر سٹارز ہیں۔جس کے ساتھ محبت اُسی کے ساتھ تیرا حشر ہو گا اور وہی ”امام“ ہو گا جس کے طریقے (اسٹائل) پر تو چلتا ہو گا۔

4۔ اہلحدیث حضرات کہتے ہیں کہ ان کے امام حضورﷺ ہیں اور ہم حضورﷺ کے ساتھ ہوں گے، اس بات میں جھوٹ یہ ہے کہ اہلحدیث جماعت سے پہلے چارائمہ کرام کے ماننے والوں نے متفقہ طور پر تقلید کا قانون منظور کیا اور اہلحدیث جماعت کا ”امام“ وہی ہو گا جس نے تقلید کے قانون کو بدعت و شرک کہہ کر چاروں ائمہ کرام کے ماننے والے علماء کرام کو بدعتی ومُشرک کہا۔ اگر حضورﷺ نے تقلید کا حکم نہیں دیا تو حضورﷺ نے غیر مقلد رہنے کا بھی حُکم نہیں دیا۔ علیکم بسنتی کا حکم ہے علیکم بحدیثی کا نہیں۔

Share:

1 comment

Leave a reply