حسینی امن پسندی اور یزیدی دہشت گردی

821
0
Share:

امن، اعتدال، رواداری اور اخلاق دین اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔ یہ آفاقی دین آزادئ رائے، اختلاف رائے، جمہوریت اور مشاورت کا درس دیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نہ صرف دہشت گردی (Terrorism) کی سختی سے مزمت کرتا ہے بلکہ کسی بھی دوسرے مذہب (Religion) کے افراد کو جبرواکراہ کی بنیادپر قبول اسلام پر مجبور نہیں کرتا۔

دین اسلام کی امن پسندی، اخوت وبھائی چارہ اور اعتدال وتوازن کی عملی مثال میثاق مدینہ ہے جو نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی مرتبہ مسلمانوں کے ساتھ یہودی، عیسائی اور دیگر عرب قبائل کے درمیان قائم کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کو جس سیاسی و جمہوری فکر سے آشنا کیاگیا وہ دیگر ادیان، مذاہب اور قبائل کے درمیان Tolerance اور Justice پر مبنی تھی۔ دوسرے لفظوں میں ایک قومی ریاست Establish ہوئی جس میں سب کے یکساں حقوق تسلیم کئے گئے۔ اس میثاق مدینہ میں کسی کو دوسروں کے حقوق کی پامالی اور دست درازی کا حق حاصل نہیں تھا بلکہ ان کے درمیان باہمی تعاون اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ اجاگر کیاگیا۔ اس لحاظ سے یہ میثاق Mederate ,Balanced اور Optimism پر مبنی معاشرے کے قیام پر مبنی تھا۔

مسلمانوں کی رواداری، حسن اخلاق اور وسعت ظرفی کی دوسری عملی مثال نجران کے مسیحی پادریوں کے وفد کو مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ٹھہرایا جانا ہے اور جب ان کی عبادت کا وقت آیا تو عالمی امن کے پیامبر رحمۃ للعالمین، رسول رب العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنے مذہب کے مطابق مسجد نبوی میں عبادت کی اجازت مرحمت فرما کر دین اسلام کی امن پسندی، آفاقی فکر اور مابین الادیان احترام اور رواداری پر مہر تصدیق ثبت فرما دی۔

پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسی اسوئہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی معاشرے میں موجود سیاسی تشدد اور ریاستی جبر کی بیخ کنی کرتے ہوئے اختلاف رائے کو عزت و احترام سے قبول کیا، دین اسلام کی امن پسندی کی تیسری مثال امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں پارلیمنٹ میں عورت کے حق مہر کی حد مقرر کرنے کا کیس ہے۔ اس وقت ایک صحابیہ خاتون جو پارلیمنٹ کی ممبر تھی نے کھڑے ہو کر اس بل کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اے امیر المومنین ! جس حق مہر پر اللہ تعالی نے کوئی حد مقرر نہیں کی اس پر کوئی انسان کیسے حد مقرر کر سکتا ہے؟ جب امیر المومنین نے اس سے دلیل طلب کی تو اس خاتون نے قرآن حکیم کی اس آیت کا حوالہ دیا۔

وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلاَ تَأْخُذُواْ مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَاناً وَإِثْماً مُّبِيناًO

(النساء، 4 : 20)

’’اور اگر تم ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تب بھی اس میں سے کچھ واپس مت لو، کیا تم ناحق الزام اور صریح گناہ کے ذریعے وہ مال (واپس) لینا چاہتے ہوo‘‘

مذکورہ آیت کریمہ میں لفظ ’’قِنطَارًا‘‘ سے استدلال کرتے ہوئے خاتون نے کہا کہ اس کا معنی ڈھیروں (بہت زیادہ) ہے لہذا ثابت ہوا کہ عورت کے حق مہر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے خاتون کی اس دلیل پر اس کے حق میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مسئلے پر عورت کی رائے صحیح نکلی اور مرد خطا کھا گیا۔‘‘

پیغمبر امن و اخلاق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم نے بھی دین اسلام کی امن پسندی اور عدل و انصاف کی زندہ مثالیں قائم کیں اور اسلامی معاشرے میں جبر و دہشت گردی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا۔ امیر المومنین خلیفۃ المسلمین حضرت سیدنا مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اپنی زرہ کے مقدمہ میں عدالت میں پیش ہوئے اور گواہ کے طور پر اپنے دونوں بیٹوں سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو پیش کیا مگر قاضی نے باپ کے حق میں بیٹوں کی گواہی تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ خلیفۃ المسلمین نے قاضی کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے جب یہودی کو اپنی زرہ دینا چاہی تو اس نے قدموں میں گر کر کلمہ پڑھ لیا۔ قاضی کے عدل و انصاف اور خلیفۃ المسلمین کی طرف سے فیصلے کے احترام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس نے کہا کہ میں جھوٹا تھا زرہ آپ کی تھی۔

دین اسلام سے بڑھ کر دنیا کا کوئی مذہب اور قانون انسانی اقدار کے تحفظ، عملی مساوات، انسانی حقوق کے احترام اور امن وآشتی کا تصور پیش نہیں کر سکتا جس میں دوران جنگ غیر مسلموں سے حسن سلوک کی تعلیم دی گئی ہے، اس حوالے سے جنگی حکمت عملی پر مشتمل دوران جنگ اسلامی اصولوں کے چند مظاہر درج ذیل ہیں۔

  1. مسلمان جنگ کے دوران غیرمسلم خواتین کو قتل نہیں کریں گے۔
  2. بوڑھوں اور بچوں کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
  3. لاغر اور بیمار انسانوں کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
  4. غیرمسلموں کو ان کی عبادت کے دوران قتل نہیں کیا جائے گا۔
  5. غیر مسلم سفیروں کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
  6. غیر مسلموں کی زمینوں اور عمارتوں کو تباہ نہیں کیا جائے گا۔
  7. غیر مسلموں کی فصلیں اور درخت نہیں کاٹے جائیں گے۔
  8. غیر مسلموں کی زمینوں اور جائدادوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
  9. جب کسی دشمن کو قیدی کر کے باندھ دیا تو اسے بھی قتل نہیں کیا جائے گا۔
  10. سوئے ہوئے دشمن پر حملہ کر کے قتل نہیں کیا جائے گا۔
  11. کسی دشمن کو اذیت ناک طریقے سے قتل نہیں کیا جائے گا۔
  12. کسی دشمن کے خلاف دہشت گردی کا ارتکاب نہیں کیا جائے گا۔

دین اسلام کے ان سنہری جنگی اصولوں کا بنظر عمیق جائزہ لیا جائے تو آج کل ہونے والے غیرمسلموں کی طرف سے مسلم ممالک پر حملوں، اذیت ناک، ظالمانہ اور سفاکانہ دہشت گردی پر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والی نام نہاد سپر پاور اور اس کے اتحادی ممالک مذکورہ انسانی حقوق کی پاسداری کی جہاں دھجیاں اڑا رہے ہیں وہاں بوسنیا، چیچنیا، افغانستان، عراق کے بعد اب پاکستان میں سے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی گہری سازش میں مصروف ہیں۔ اس کھلے عام ظالمانہ اور سفاکانہ دہشت گردی کا آغاز یزیدی دور میں ہوا تھا، بلکہ یزید کی تخت نشینی اور حکومت کا آغاز ہی ظلم وستم اور سیاسی جبر و تشدد کے ذریعے ہوا۔ اس نے اپنی غیر قانونی اور بے اصولی حکومت کو دوام بخشنے اور اپنی مستقل بادشاہت قائم کرنے کے لئے ملوکیت و آمریت سے کام لیتے ہوئے خلفائے راشدین کے قائم کئے ہوئے نہ صرف تمام ریاستی ادارے تباہ و برباد کئے بلکہ مشاورت و جمہوریت کی دھجیاں بکھیر دیں، اس نے قومی خزانے میں لوٹ مار اور اسے ذاتی استعمال میں لانے کو رواج دیا۔ عریانی و فحاشی، شراب نوشی، بدکاری اور قماربازی کو عام کیا۔

قومی بیت المال سے بڑے بڑے محلات تعمیر کرنے کے علاوہ جانوروں اور کتوں کو پالنا شروع کیا۔ شراب و کباب کی محفلوں کا آغاز کیا۔ اس دور میں رشوت کا بازار گرم ہوا۔ قرب شاہی کی دوڑ کا آغاز ہوا۔ نااہل اور جاہل لوگ اپنی دولت کے بل بوتے پر بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوئے، تعلیم وتربیت کی جگہ جہالت و ناخواندگی اور بے راہ روی نے لے لی۔ جھوٹ، دجل، فریب اور دھوکہ دہی کھلے بندوں ہونے لگی۔ بے ہودہ اور اوباش لونڈے اس کے اردگرد منڈلانے لگے، جس کی نشاندہی سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ایک حدیث میں فرما دی تھی۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں اور حضرت امام ابن حجر عسقلانی ’’فتح الباری‘‘ میں نقل کرتے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے اوباش نوجوانوں کی حکومت سے پناہ مانگتے ہوئے فرمایا تھا۔

اللهم انی اعوذ بک من راس الستين وامارة الصبيان

(الصواعق المحرقه : 221)

’’اے اللہ میں 60 ہجری کے آغاز اور بے ہودہ اوباش لڑکوں کی حکومت سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وہ اوباش، بے ہودہ لڑکے قریشی نوجوان تھے جن کا سرغنہ ’’یزید‘‘ تھا جس نے حضور علیہ السلام کی امت کی تباہی و بربادی اور اسلامی اقدار و روایات کا جنازہ نکالا اور خلفاء راشدین کے قائم کئے ہوئے مختلف اداروں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔

یزید کے دور حکومت میں صرف کربلا میں ہی دہشت گردی کا بازار گرم نہیں ہوا بلکہ جب مدینہ والوں نے اس کی بیعت کو توڑنے کا اعلان کیا تو اس نے گورنر دمشق اورگورنر شام کے ذریعے بڑے بڑے لشکر تیار کر کے انہیں مدینہ پر چڑھائی کا اذن دیا اور تین دن کے لئے ان پر اہل مدینہ کا خون حلال کر دیا۔ اسی وجہ سے مشہور واقعہ حرہ پیش آیا جو شہر مدینہ کے ساتھ ہی ایک مقام کا نام ہے جہاں سے یزیدی فوجیں مدینہ میں داخل ہوئیں اور ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کا قتل عام کیا۔ یہ اس ہولناک، کربناک اور اذیتناک واقعہ میں انصار و مہاجرین پر مشتمل 306 صحابہ کرام کو بڑی بے دردی سے شہید کر دیا گیا، جولوگ بچ گئے ان کے بچوں کو یتیم کرنے کا ڈر سنا کران سے جبرا بیعت لی گئی۔ یہ وہ مدینہ ہے جس کے بارے میں سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔

من اراد اهل هذه البلدة بسوء يعنی المدينة اذابه اللّٰه کما يذوب الملح فی الماء

(مسلم صحيح، 2 : 1007 کتاب الحج، رقم : 1376)

’’جو شخص اس شہر والوں (یعنی اہل مدینہ) کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ تعالی اسے (دوزخ میں) اس طرح پگھلا ئے گا جیساکہ نمک پانی میں گھل جاتاہے۔‘‘

یزیدی فوج کی دہشت گردی کا سلسلہ مدینہ میں ختم نہیں ہوا بلکہ یزید کے حکم پر پھر یہ خونی لشکر مکہ کی طرف روانہ ہوا کیونکہ وہاں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیعت یزید کا کھلے عام اعلان کر چکے تھے اور مکہ میں پناہ گزیں تھے۔ ظالم و جابر یزیدی لشکر نے مکہ میں بھی ریاستی دہشت گردی کی انتہا کر دی اور نہ صرف مکہ کا محاصرہ کیا بلکہ اس مکہ مکرمہ پر گولے برسائے گئے جہاں بیت اللہ شریف اور خانہ کعبہ ہے۔ بدبخت یزیدیوں کو خانہ خدا کا بھی لحاظ اور احترام نہ رہا۔ دولت و حکومت کے نشہ میں چور ان سفاک درندوں نے خانہ کعبہ کے غلاف کو جلا ڈالا وہ کعبہ معظمہ اور مسجد حرام جہاں پر ایک نماز پڑھنے کا ثواب ایک لاکھ نماز پڑھنے کے برابر قرار دیا گیا اور جس کے غلاف کعبہ کو تھام کر جو دعا کریں قبول ہوتی ہے اور حجر اسود کو بوسہ دے کر تمام گناہ معاف ہوتے ہیں کی حرمت و عزت کو پامال کیا گیا۔

جس طرح اللہ رب العزت نے بڑے بڑے ہاتھوں سے اپنے گھر کی بربادی کو بچانے کے لئے ابابیلوں کو بھیجا اس طرح یزید کی ریاستی دہشت گردی سے اپنے گھر، مکہ اور تمام مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے یزید کو اسی وقت کربناک اور خوفناک درد میں مبتلا کیا کہ اس نے تین دن تک تڑپ تڑپ کر جان دے دی جس کی وجہ سے یزیدی لشکر نے مکہ میں ظلم و ستم بند کر کے واپسی کی راہ لی مگر یزید نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف اعلان جنگ کر کے فرعون، نمرود اور ہامان کی یاد تازہ کر دی اور اپنے کفر و نفاق کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

یہی وجہ ہے کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جگر گوشہ بتول رضی اللہ عنہا، خون علی رضی اللہ عنہ شہید کربلا امام حسین رضی اللہ عنہ کی نگاہ بصیرت دیکھ رہی تھی کہ یزید کی بیعت کرنے سے مراد ایک جابر، ظالم اور آمر حکمران کو ریاسی دہشت گردی کی اجازت دینا ہے، امام حسین رضی اللہ عنہ کا خون اور غیرت و حمیت اس بات کی اجازت کیسے دے سکتی تھی جس دین کے تحفظ کے لئے ان کے نانا نے سمجھوتہ نہیں کیا تھا اور کفار قریش پر واضح کر دیا تھا کہ اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لا کر رکھ دیں پھر بھی وہ دعوت حق کوترک نہیں کر سکتے۔ اس دین کی خاطر انہوں نے دندان مبارک شہید کروائے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور ہجرت فرمائی۔

شریعت اسلامیہ نے عام مسلمانوں کو رخصت کی اجازت دی تھی مگر امام حسین رضی اللہ عنہ نے عزیمت کی راہ پر چلتے ہوئے ظالم یزیدی حکومت کے خلاف نعرہ حق بلند کیا اور مسلمانوں کو اس کی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ کرنے، اسے حرمین شریفین کی پامالی سے روکنے اور اس کے شر سے خواتین کو بچانے کے لئے کربلا کا سفر اختیار کیا، اپنے جگر کے ٹکڑوں حضرت علی اصغر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ کو قربان کیا اور بالاخر اپنی جان بھی جان آفریں کے سپرد کر دی مگر سر نہیں جھکایا اور سجدے کی حالت میں اللہ رب العزت کے حضور اپنا سر پیش کر کے ہمیشہ کے لئے پیغام دے گئے۔

چڑھ جائے جو سر تیرا نیزے کی نوک
پر تو یزیدیوں کی اطاعت نہ کر قبول

شہید اعظم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے یہ عظیم قربانی اس لئے دی تاکہ احترام انسانیت کو بقا نصیب ہو، دین مصطفی کی اصل روح کا تحفظ ہو، اسلام کے نظام مشاورت و جمہوریت کو دوام ملے، مظلوموں کو قیامت تک ظالموں کے خلاف آواز حق بلند کرنے کے لئے حوصلہ ملے، محکوموں کو اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کا درس ملے، ظلم وجبر پر مبنی نظام کے خلاف آزادی کے متوالوں کو اٹھ کھڑے ہونے کا جذبہ ملے۔ دین اسلام کی امن پسندی، اعتدال پسندی، رواداری اور اخلاقی قدروں کو قیامت تک زندہ کر دیا۔ حضرت سیدہ کائنات رضی اللہ عنہ کے خون کی لاج رکھ لی، حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ کی شجاعت پر مہر تصدیق ثبت کر دی، حضور نبی کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و شفقت اور تربیت کو لازوال کر دیا اور قیامت تک آنے والی انسانیت کو دین اسلام کی غیرت و حمیت پر سمجھوتہ نہ کرنے کا عملی ثبوت دے کر خود کو امر کر لیا، شہادت کا جام پی کر ہمیشہ کے لئے خود کو زندہ کر لیا اسی لئے کہا گیا ہے کہ

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

حضرت امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے قیامت تک کے لئے خودکو زندہ ہی نہیں کیا بلکہ دین اسلام کو زندگی عطا کر دی اور دشمنان اسلام کو سزائے موت سے ہمکنار کر دیا۔ اسی لئے کہا گیا۔

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نہ صرف دین اسلام کے علمبردار تھے بلکہ عدل وانصاف، مساوات انسانی، حریت و آزادی اور انسانی جمہوریت کے علمبردار تھے۔ انہوں نے ریاستی جبر و تشدد اور آمرانہ ذہنیت کے خلاف جہاد کیا یہی وجہ ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ اب صرف ایک ذات یا شخصیت کا نام نہیں رہا بلکہ حسین حق کا نمائندہ، سچائی کا نشان، روشنی کا مینار، علم و حکمت کا نیر تاباں، عدل و انصاف کا پیکر، عظمت و بلندی کی علامت، احترام انسانیت کی مثال، اخلاق و اوصاف حمیدہ کا امین، رواداری، حسن

سلوک اور برداشت کا نام ہے۔

اسی طرح یزید بھی ایک ذات کا نام نہیں رہا بلکہ قیامت تک ہونے والی ظلم و بربریت اور دہشت گردی کا نام یزید ہے۔ ریاستی جبر و تشدد کا نام یزید ہے، جھوٹ، غیبت، بہتان تراشی اور تہمت کا نام یزید ہے، چوری، ڈاکہ زنی اور آبرو ریزی کا نام یزید ہے، عریانی و فحاشی اور بے پردگی کا نام یزید ہے، جہالت و ناخواندگی اور ناانصافی کا نام یزید ہے، آمریت اور ڈکٹیٹرشپ کا نام یزید ہے، انسانی حقوق پر شب خون مارنے کا نام یزیدہے، کرپشن اور بے راہ روی کا نام یزیدہے، خواتین، بچوں اور بوڑھوں کے قاتل کا نام یزید ہے، عبادت گزاروں اور مومنوں کے قاتل کا نام یزید ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم کے قاتل کا نام یزید ہے، ام المومنین حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا کے قاتل کا نام یزید ہے، ریاستی اداروں کوتباہ و برباد کرنے والے بدبخت کا نام یزید ہے۔ شرم و حیا کا جنازہ نکالنے والے کا نام یزید ہے، حتی کہ انسانیت کو تاخت و تاراج کرنے والے کا نام یزید ہے۔

قارئین کرام! آیئے آج ان دو کرداروں کو پہچان کر فیصلہ کریں کہ ہم نے کس لشکر اور گروہ میں شامل ہونا ہے۔ امام حسین انسانیت کی امن پسندی کے نمائندہ تھے اور یزید انسانیت کش، دہشت گردی کا نمائندہ تھا۔ آج ہمیں امن و سلامتی، برداشت، رواداری، اخوت و بھائی چارے اور علم وعمل کی راہ پر چلنا ہے تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی راہ پر چلنا ہو گا اور اگر دہشت گردی، بے راہ روی، عدم برداشت، قتل و غارتگری اور عریانی و فحاشی کی راہ پر چلنا ہے تو یزید کی راہ پر چلنا ہوگا۔ یہ دہشت گردی خواہ ملکی سطح پرہو یا عالمی سطح پر اس کا ازالہ اسوئہ شبیری کو اپنائے بغیر ممکن نہیں ہے اس لئے شاعر کیا خوب کہا تھا۔

شاہ است حسین پادشاہ است حسین
دیں است حسین دیں پناہ است حسین

سرداد نہ داد دست دردست یزید
حقا کہ بنائے لا الہ ہست حسین

Share: