حساب کتاب

975
0
Share:

حساب کتاب

1۔ ایک بزرگ کا سُنا کہ جب وہ کسی کی تربیت کرتے تو ایک سال تک اُس کوپانچ نمازوں کے ساتھ100نفل بھی پڑھنے کا حُکم دیتے۔ دوسرے سال اُس سے مسجد یا درگاہ پر آئے مسلمان کی جوتیاں سیدھی کرواتے، اُس کے کپڑے دھلواتے اور اُس کے کھانے پینے کا بندوبست کرواتے۔ تیسرے سال اُسکو حُکم دیتے کہ اپنے خیالات کا شریعت کے مطابق ”حساب کتاب“ کرے تاکہ شیطانی اور الہامی خیال میں فرق کر نا سیکھ جائے۔

2۔ اسلئے ہر مسلمان کی ایک منزل ”احتساب“ کرنا ہے یعنی اپنا محاسبہ کرنا ہے، اپنے اعمال، اپنی نیت و سوچ کا ”حساب کتاب“کرتے رہنا ہے تاکہ حشر کے دن حساب کتاب دینے میں آسانی ہو۔

3۔ ہمارے ابو جان اگر امی جان کو گھر کے خرچے کے لئے پیسے دیتے تو اُن سے پائی پائی کا حساب مانگتے۔ ہماری والدہ کو بعض اوقات یاد نہ رہتا تو وہ کچھ چیزوں کی کمی بیشی کر کے حساب کتاب پورا کر دیتیں اور والد صاحب یہ سارا حساب کتاب ایک ڈائری میں لکھتے تھے۔

4۔ ہمارے والد صاحب خود اپنا حساب کتاب بھی رکھتے، ایک دفعہ گھر میں آئے کہنے لگے کہ میں گوالے سے دودھ لے کر آیا ہوں لیکن میرے پاس پیسے کم تھے، اگر میں مر گیا تو اس کو پندرہ روپے دے دینا کیونکہ موت کا وقت نہیں ہے، اسلئے جس کا دینا ہے جلدی دینا چاہئے۔

5۔ ابو جان کی وفات کے بعد ڈائری کھولی کہ شاید ابو جان نے کسی کے پیسے دینے ہوں مگر دو بندوں سے پیسے لینے تھے، ایک نے کہا کہ میں نے تمہارے والد صاحب کے تین ہزار روپے دینے ہیں لیکن دئے نہیں اور دوسرا مُکر گیا۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی کا قرضہ مقررہ وقت پر ادا نہیں کرتا تو اُس کو ہر روز اتنے ہی پیسے صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے، اسلئے میں نے وہ پیسے لئے نہیں اور اسطرح اپنے والد صاحب کے ”ایصال ثواب“ پر لگا دئے جو کہ قیامت تک ہوتا رہے گا۔ میرا احتساب کا طریقہ کچھ اسطرح سے ہے کہ غور کرتا ہوں:

(۱) چوبیس گھنٹوں میں کتنے گھنٹے اچھے گذارے ہیں اور چوبیس گھنٹے اچھے گذارنے میں رکاوٹ کیا ہے۔(۲) اپنی زبان سے کتنے بندوں کے خلاف بات کر کے ان کے کردار کو گندہ کیا یا کتنے بندوں کے بُرے کردار کا دوسروں کو بتا کر اُن کے شر سے دوسروں کو محفوظ رکھا۔ (۳) اپنے پیسوں کا استعمال اسطرح کرتا ہوں کہ ہر انسان کی مدد کر کے اُسے اچھا مسلمان بناتا ہوں تاکہ دین اسلام کو فائدہ ہو کیونکہ بہت سے لوگوں کا مال لوگوں پر لگتے دیکھا جس سے انسان اور نہ ہی اسلام کو فائدہ ہوا بلکہ اُن کو ذاتی فائدہ ہوا جس کا کل قیامت والے دن کوئی فائدہ نہیں۔

(۴) مجھے کبھی کار، خوبصورت مکان،قیمتی کپڑوں وغیرہ کی خواہش کبھی نہیں ہوئی کیونکہ خواہش اور ضرورت میں فرق سمجھتا ہوں ورنہ اللہ کریم سے مانگنے پر کیا کچھ نہیں مل سکتا۔(۵) حقوق اللہ میں، روزانہ نماز ادا کرتا ہوں، اگر قضا ہو جائے تو فورا ادا کر لیتا ہوں۔آج تک کوئی روزہ قضا نہیں ہوا۔فرض حج کر لیا ہوا ہے، زکوۃ کبھی دینے کی نوبت نہیں آئی اور قربانی کچھ دوست مجھے بتا کر میری طرف سے خودکر دیتے ہیں۔(۶) حقوق العباد میں پہلی اپنی ذات، پھر بیوی بچے، رشتے دار اور دوستوں سے ان کی محبت کے مطابق محبت کرتا ہوں اور ہر احساس کرنے والے کا احساس کرتا ہوں۔اسلئے الحمد للہ تمام تعلق رکھنے والے اسلام پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی اصل کامیابی ہے۔

کراونا: ہمیں موت سے ڈر نہیں لگتا اسلئے کراونا کو امتحان سمجھ رہے ہیں، اپنے لئے مجاہدہ سمجھ رہے ہیں، حفاظتی تدابیر کر رہے ہیں، موت ایمان کی حالت میں آئے باقی کیسے آئے گی اس کا گلہ کوئی نہیں ہے.

Share:

Leave a reply