حبِّ رسول ؐ کا معیار اور تقاضے

670
0
Share:

حُبِّ رسول ؐ کا معیار اور تقاضے
رسول اللہ ؐ کی محبت جوہرایمان اور حقیقت ایمان ہے ، آپ ؐ کا ارشاد ہے :”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد ، والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں (اور دوسری حدیث میں ) آپ ؐ نے خاندان اور مال کا بھی ذکر فرمایا، (صحیح مسلم : 69-70)”۔ان احادیثِ مبارکہ میں مومن کے لیے رسول اللہ ؐ کی اَحَبِیَّتْ یعنی سب سے زیادہ محبوب ہونے (Superlative Degree) کولازم قرار دیا گیا ہے ۔ اس کی شرح میں علماء نے فرما یا : جس شخص کے دل میں نفسِ محبت رسول نہیں ،وہ نفسِ ایمان سے محروم ہے اور جس کے دل میں کمالِ محبت رسول نہیں ہے ، وہ کمالِ ایمان کی سعادت سے محروم ہے ۔
محبتِ رسول ؐ کا دعویٰ تو ہر ایک بڑھ چڑھ کر کرتاہے ، لیکن قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کی کسوٹی بھی بیان فرمائی ہے ، جیسے : دنیا میں چیزوں کے لیے کوالٹی کنٹرول اور معیارات یعنی Standardizationکے پیمانے ہیں ، اسی طرح ایمان کو جانچنے کے معیارات بھی قرآن و حدیث میں بیان فرمائے گئے ہیں ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ”(اے رسول ؐ !)آپ فرما دیں : اگر تمہارے آباء (واجداد) ، تمہارے بیٹے (بیٹیاں) ، تمہارے بھائی(بہنیں ) ، تمہاری بیویاں (یا شوہر)تمہارا خاندان، تمہارا کمایا ہوا مال ، (تمہاری ) تجارت جس کے خسارے میں جانے کا تمہیں کھٹکا لگا رہتا ہے اور تمہارے پسندیدہ مکانات، (اگر یہ سب چیزیں جداجدا اور مل کر بھی ) تمہیں اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں ، تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے (عذاب کا ) فیصلہ صادر فرماد ے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت (سے فیض یاب ) نہیں فرماتا ، (التوبہ : 24)”۔
اس آیتِ مبارکہ میں تقابل کے طور پر جن چیزوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ، وہ سب انسان کے محبوب رشتے اور پسندیدہ چیزیں ہیں ۔ اگر ان سے محبت کی نفی کو ایمان کے لیے لازم قرار دیا گیا ہو تا تو خلافِ فطرت ہوتا اور اسلام دین فطرت ہے ۔ ان چیزوں کے محبوب ہونے کو ایمان کی ضد قرار نہیں دیا گیا بلکہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول مکرم اور اس کی راہ میں جہاد کے مقابلے میں محبوب ترین ہونے کو ایمان کے منافی فرمایا گیا ہے ۔ گویا تمہارا محبوب کوئی بھی ہو سکتا ہے ، لیکن محبوب ترین صرف تین چیزیں ہونی چاہییں،یعنی اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی صفات ،اس کے رسولِ مکرم ؐ کی ذاتِ گرامی اورراہِ خدا میں جہاد ۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ کیسے جانا جائے کہ فلاں شخص کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سب سے زیادہ محبوب ہیں یا کوئی اور چیز ؟۔
پس جب نفس کی خواہشات ، مرغوبات اور مرضیات(Demands) اللہ کے حکم سے متصادم ہو جائیں تو پھر پتاچلے گا کہ انسان رب کے حکم کو ترجیح دیتا ہے یا اپنے اور اپنے پیاروں کے نفسانی مطالبات کو، مثلاً: ایک شخص کے بیوی بچوں کی فرمائشیں اس کی آمدنی کے حلال ذرائع سے پوری نہیں ہوتیں ، تو وہ ان کو پورا کرنے کے لیے رشوت یا حرام ذرائع کا سہارا لیتا ہے ، تو گویا عملاً اس نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو پسِ پشت ڈال دیا اور اپنے پیاروں کی فرمائشوں کی تکمیل کو ترجیح دی ، تو پھر عمل کی دنیا میں یہی چیزیں محبوب ترین قرار پائیں ۔ درحقیقت ایمان کی حقیقی آزمائش یہی ہے اور اس مرحلہئ امتحان سے ہمیں دن میں کئی بار دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا:”کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا، جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا رکھا ہے ، (الفرقان:43)”۔ گویا باری تعالیٰ کے حکم کے مقابل اپنے نفس کی خواہشات کو ترجیح دینا اسے خدا ہی تو بنا نا ہے ، یہ بھی کوئی بندگی ہے کہ سجدہ تو اللہ کے حضور کرے اور حکم نفس کا یا غیر اللہ کا مانے ، یہ معبود بنانا نہیں تو اورکیا ہے ۔ پھر سیاقِ کلام میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم ؐ کی کمال محبوبیت کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کا ذکر فرماکر یہ واضح فرمادیا کہ محبت رسول اور محبت الٰہی کی منزل اتنی آسان نہیں کہ نعت خوانوں اور قوالوں پر نوٹ نچھاور کر کے لوگ بزعم خویش عاشق رسو ل بن جائیں ، یہ معراج عزیمت ، استقامت کے جادہئ مستقیم پر گامزن رہنے والوں کو نصیب ہوتی ہے، علامہ اقبال نے کہا ہے :
یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
اورکئی اہلِ قلم نے اس شعر کو بھی علامہ اقبال کی طرف منسوب کیا ہے:
چو می گویم مسلمانم بلرزم کہ دانم مشکلات لاالٰہ را
یعنی جب میں زبان سے اقرار کرتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں تو لرز جاتا ہوں ، کیونکہ کلمہئ لاالٰہ الا اللہ کی راہ میں استقامت کے ساتھ کھڑے رہنے کی صورت میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ، میں ان سے بخوبی آگاہ ہوں ،معبودانِ باطلہ کا صرف لفظی انکار حقیقتِ ایمان اور کمالِ ایمان کے لیے کافی نہیں ہے،بلکہ خداوندِ برحق کے احکام کے مقابل ان کی ترجیحات کوٹھکرانا ہوتا ہے،جب باطل کے مقابل ایمان کے تقاضے سربلند رکھے جائیں تودعوائے ایمان صرف اُسی صورت میں سچا ثابت ہوتا ہے، اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا :”(اے مسلمانو!)کیا تمہارا گمان یہ ہے کہ تم (کسی آزمائش کے بغیر ) یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے ، حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کومتمیز نہیں فرمایا جنہوں نے کامل طریقے سے جہاد کیا اورانہوں نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو اپنا محرمِ راز نہ بنایا ہواور اللہ تمہارے سب کاموں کی خوب خبر رکھتا ہے، (التوبہ : 16)”۔
پھر جس طرح دنیاوی معاملات میں Counter Checkیعنی جانبِ مخالف سے کسی چیز کی حقیقت اور فعالیت کو جانچنے کا انتظام ہوتاہے ، اسی طرح قرآن نے ایمان اور محبتِ رسول ؐ کے لیے بھی یہ کسوٹی رکھی ہے ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :”(اے رسول ؐ!) آپ اُن لوگوںکو جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں ایسا نہ پائیں گے کہ وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول سے عداوت رکھتے ہیں ، خواہ وہ ان کے باپ (دادا) یا بیٹے (بیٹیاں) یا بھائی ( بہنیں ) یا قریبی رشتے دار ہی (کیوں نہ )ہوں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی پسندیدہ رو ح سے ان کی مدد فرمائی اور اللہ انہیں جنت کے ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے دریا جاری ہیں ، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، یہ اللہ کی جماعت ہے ، سنو! اللہ کی جماعت ہی کامیابی پانے والی ہے ، (المجادلہ : 22)”۔ رسول اللہ ؐ کی محبت کا مرکز و محور اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ہے اور قرآن مجید نے محبوبیتِ باری تعالیٰ کا شِعار اتباعِ رسول اللہ ؐ کو قرار دیا ہے ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ”(اے رسول !) کہہ دیجیے ! (اے اللہ کے بندو!) اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری فرمانبرداری کرو (اس کے نتیجے میں ) اللہ تعالیٰ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا ، (آل عمران : 31)”۔
پس رسول اللہ ؐ کی محبت کے لیے تعظیم ِ رسول، اتباعِ رسول اور اطاعتِ رسول لازم ہے ۔ کسی شخص کے دل میں محبتِ رسول ہے یا نہیں ، اسے اطاعتِ و اتباعِ رسول کی میزان اور کسوٹی پر پرکھا جائے گا ، صرف دعوائے محبتِ رسول کا فی نہیں ہے ۔ ہر دعویٰ دلیل چاہتا ہے اور حُبِ رسول کی ظاہری دلیل اطاعتِ رسول ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہئ اعراف میں رسول اللہ ؐ کے اوصاف بیان کرنے کے بعد فرمایا : ”سو جو لوگ اُن پرایمان لائے اور آپ کی تعظیم کی اور آپ کی نصرت کی اور اس نور (قرآنِ مجید ) کی پیروی کی جو ان کے ساتھ اُتارا گیا ، بس یہ لوگ فلاح پانے والے ہیں ، (الاعراف : 157)”۔ یعنی رسول اللہ ؐ کی حیثیت محض ایک حاکمِ مجاز کی نہیں ہے کہ قانوناً اس کا حکم مان لیا ، خواہ دل میں اس کے بارے میں ملال ہی کیوں نہ ہو۔لہٰذاآپ کی تعظیم و توقیر بھی لازم ہے اور آپ کے فرامین کو نہ صرف ظاہری طور پر ماننا ضروری ہے بلکہ لازم ہے کہ آپ کے کسی بھی حکم کے بارے میں دل میں نہ ملال پیدا ہو اورنہ آئینہئ دل میں بال آئے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”(اے رسول !) آپ کے رب کی قسم !(دعوائے ایمان کے باجود) یہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ یہ آپس کے تنازعات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں ،پھر آپ کے فیصلے پر دل میں کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں (بلکہ اسے دل وجا ن سے قبول کریں ) اور سراپا تسلیم ور ضا نہ بن جائیں ،(النسآئ: 65)”۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”اے اہلِ ایمان ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو ، (النسآء :59)”۔ یعنی ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم ؐ کی اطاعت لازم ہے اور پھراطاعتِ رسول کواطاعتِ الٰہی کامعیار وکسوٹی قرار دیتے ہوئے یہ قولِ فیصل جاری فرما دیا :”اور جس نے رسول کی اطاعت کی، سو اس نے (درحقیقت)اللہ کی اطاعت کی ، (النسآء : 80)” اور فرمایا : ”اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو اس نے بڑی کامیابی کوپا لیا ، (الاحزاب: 71)”۔ نبی ؐ نے فرمایا:” جس میں یہ تین خصلتیں ہوں ،اُس نے ایمان کی حلاوت کو پالیا:(١)یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ اُن کے ماسوا ہرچیز کے مقابلے میں سب سے زیادہ محبوب ہوں (٢) اور یہ کہ مسلمان کسی سے محبت کرے تو اس کا مُحرِّک صرف اللہ کی ذات ہونی چاہیے (٣) اور یہ کہ (اسلام قبول کرنے کے بعد)واپس کفر کی طرف لوٹنا اسے ایسا ہی ناگوار ہوجیسے آگ میں ڈالا جانا،(صحیح البخاری:16)”۔
یہاں تک ہم نے اس موضوع پراختصار کے ساتھ گفتگو کی تھی ، کیونکہ تفصیلات کا احاطہ کالم کی تحدیدات میں ممکن نہیں ہوتا، لیکن ہمارے ایک کرم فرما علامہ غلام محمد سیالوی نے کالم کے بارے میں پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمائش کی کہ اس پر مزید لکھا جائے اور انہوں نے بعض امور کی نشاندہی کی، میں ان کا شکر گزار ہوں اور ان کی فرمائش کی تعمیل میں چند مزید گزارشات پیش خدمت ہیں:
قرآن کریم کی سورہئ توبہ:24میں اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ یہ معیار بیان فرمایا کہ انسان اپنے متعلقات کے ساتھ درجہ بدرجہ محبت کا تعلق رکھ سکتا ہے اور اس کی نفی نہیں فرمائی، لیکن یہ کڑا معیار مقرر فرمادیا کہ ان تمام چیزوں کی محبت مل کر بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم ؐ کی ذواتِ عالی صفات اور اللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب نہیں ہونی چاہیے ، اس کا فیصلہ اس وقت ہوجاتا ہے جب اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور اس کے تقاضوں کا غیر اللہ کی محبت اور مطالبات سے ٹکراؤ ہوجائے، تو پھر پتا چلتا ہے کہ عملاًانسان کے نزدیک محبوب ترین کون ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”آپ ایسی قوم نہیں پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں(اور )اللہ اور اس کے رسولِ مکرم ؐ کے دشمنوں سے محبت بھی کرتے ہوں، خواہ وہ (دشمنانِ خدا)اُن کے باپ (دادا)، بیٹے، بھائی بہن اور رشتے دار کیوں نہ ہوں”، پھر فرمایا: ”(جو اس معیارِ محبت پرپورا اتریں تو)یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی طرف کی روح سے اُن کی مدد فرمائی اور انہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے دریا رواں ہیں ، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، اللہ اُن سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ،یہی لوگ اللہ کی جماعت ہیں ،سنو!بے شک اللہ کی جماعت ہی فلاح پانے والی ہے،(المجادلہ:22)”۔ الغرض قرآنِ کریم نے مثبت اور منفی دونوں معیار متعین فرمادیے ، حدیث مبارک میں ہے: ”ملائکہ نبی ؐ کے پاس آئے اور آپ اس وقت سورہے تھے ،آپ ؐ کے بارے میں (ملائکہ کاآپس میں مکالمہ ہوا)،بعض نے کہا:” یہ سورہے ہیں اور بعض نے کہا: بے شک آنکھ سورہی ہے اور دل بیدار ہے” ۔پھر بعض نے کہا: ”تمہارے اس صاحب کے لیے ایک مثال ہے ،سو وہ مثال بیان کرو،تو (دوسرے فرشتوں نے )کہا:ان کی مثال اُس شخص کی سی ہے ، جس نے ایک گھر بنایا اور اس میں دعوت طعام کا اہتمام کیا اور(اس دعوت کی طرف بلانے کے لیے )ایک داعی بھیجا ، سو جس نے اس داعی کے بلاوے پر لبیک کہاوہ گھر میں داخل ہوگیااور طعام کو نوش کیااور جس نے اس کی پکار پر لبیک نہ کہا ،وہ گھر میں داخل نہ ہوا اور دعوتِ طعام سے محروم رہا۔ پھر انہوں نے کہا: اس کی تاویل بیان کرو تاکہ سمجھ میں آئے ،تو بعض نے کہا:” بے شک وہ سورہے ہیں اور بعض نے کہا: بے شک آنکھ سورہی ہے اور دل بیدار ہے اوربعض نے کہا: یہ گھر (جو بنایا گیا )جنت ہے اور اس کی طرف دعوت دینے والے (سیدنا) محمد ؐ ہیں، سو جس نے محمد ؐ کی اطاعت کی ،تو اس نے (در حقیقت) اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد ؐ کی نافرمانی کی ،تو اس نے (درحقیقت) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور محمد ؐ لوگوں(یعنی اہلِ حق واہلِ باطل) کے درمیان فرق کا پیمانہ ہیں، (یعنی جو آپ سے محبت واطاعت واتباع کے رشتے میں جڑا رہا وہ جنتی قرار پائے گااور جس نے آپ سے یہ رشتہ قائم نہ کیا وہ جنت سے محروم رہے گا)، (مختصر صحیح الامام البخاری:2698)”۔
مگر آج کل ہم نے حقیقت کو چھوڑ کرمَظاہر اور ظواہر کو اپنا مطلوب ومدّعا بنا لیا جو زیادہ سہل اور بے عملی کی طرف لے جانے والا ہے، آج کل مصنوعی اور جعلی عاشقانِ رسول کی بھرمار ہے،وہ مختلف انداز سے اپنے آپ کو عاشقِ رسول اور محب رسول ؐظاہر کرتے رہتے ہیں، مثلاً: نعلین شریف کا نقشہ اپنے سینوں ، ٹوپیوں اور پگڑیوں پر سجائیں گے، جب کہ اس کے بارے میںنہ تو سید المرسلین ؐ کا کوئی حکم ہے ، نہ آپ ایسا کرنے پر ناراض ہوں گے اورنہ قرونِ ثلاثہ مشھود لہا بالخیر (یعنی وہ ابتدائی تین صدیاں جن کے خیر ہونے کی شہادت آپ ؐ نے خود دی ہے ،(صحیح مسلم:2533)میں ان کے بارے میں کوئی ایجابی(Obligatory) یا ترغیبی(Motivative) حکم ملتا ہے۔ مگر داڑھی مبارک توآپ ؐ کی محبوب سنت ہے اور نہ رکھنے والے کو آپ ناپسند فرماتے ہیں،پس یہ خود ساختہ عاشقانِ رسول نعلین پاک کا نقشہ تو ٹوپی ،جیب یا پگڑی پر سجا لیتے ہیں ،لیکن سنتِ رسول چہرے پر سجانے کے لیے بہت کم تیار ہوتے ہیں۔ نیز صحابہئ کرام نے سینوں پر یا پگڑیوں پر نعلین کا نقشہ لگاکر عشق ومحبت رسول کا اظہار نہیں کیا تھا، بلکہ آپ کے اسوہئ مبارکہ کو اختیار کر کے اطاعت واتباعِ رسول کے جادہئ مستقیم کو اپنا شعار بنایا تھااوراسی شعار کی بدولت اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دین اوراپنے رسول مکرم ؐ کی شریعت کو اُس وقت کی دنیا پر غالب کرنے اور اس عہد کے باطل کو مغلوب کرنے کے اعزاز سے نوازا تھا اورآج ہم اُن کے مقابلے میں افرادی قوت، بحری وبری جغرافیائی وسعت ، مالی وسائل ،جدید اسلحہ اور مسلّح افواج کی بھاری تعداد کے اعتبار سے اُن کے مقابلے میں بدرجہا زائد ہیں، لیکن بے توقیر ہیں۔
اسی طرح آج کل زمینوں اورپلاٹوں پر قبضہ کرنے والا مافیا، رشوت خوراور خوردنی اشیا میں ملاوٹ کرنے والے نعت خوانیوں اور میلاد النبی ؐ کی بڑی بارونق محفلیں منعقد کرکے اپنے آپ کو عاشقِ رسول ظاہر کرتے ہیں اور لوگ ان محافل میں کثرت سے شرکت کرتے ہیں ، مگر فرائضِ دین اورارکان اسلام میں سے نماز ،زکوٰۃ ،روزہ اور حج کی ادائیگی کو اہمیت نہیں دیتے جس کے بارے میں بروز قیامت پرسش ہوگی،جب کہ محافل کے بارے میں توکوئی سوال نہیں ہوگا، اگرچہ یہ محافلِ مقدسہ اگر دینی وروحانی ماحول میں برپا ہوں ،ان میں کوئی خلافِ شرع بات نہ ہو، فرائض وواجبات وسنن کی پابندی ہو تو یہ فی حدِّ ذاتہٖ شریعت کی نظرمیں نہایت پسندیدہ ہیں اور نبی کریم ؐ کی محبت کا ایک مَظہرِ جمیل ہیں۔
ابوبکر بن سلیمان بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب نے(ایک پابندِ صلوٰۃ نوجوان یعنی اُن کے والد)سلیمان کو فجر کی نمازِ(باجماعت) میں نہ پایا تو اُن کے گھر ان کی والدہ شفاء اُمِّ سلیمان کے پاس گئے اور ان سے پوچھا: (کیا بات ہے )آج میں نے سلیمان کو فجر کی نماز میں نہیں دیکھا ،انہوں نے عرض کیا: وہ رات گئے تک نوافل پڑھتے رہے ،پھر (رات کے پچھلے پہر)اُن پر نیند غالب آگئی (اوروہ فجر کی جماعت میں حاضر نہ ہوسکے )،اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اگر سلیمان فجر کی جماعت میں حاضر ہوئے ہوتے تواُن کے ساری رات نوافل میں قیام کے مقابلے میں یہ سعادت میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہوتی،(موطاامام مالک:432)”۔
غور کیجیے!حضرت سلیمان تارکِ صلوٰۃ نہیں بلکہ پابندِ صلوٰۃ تھے ،لیکن رات بھر نوافل میں مشغول رہنے کی وجہ سے اُن سے فجر کی جماعت چھوٹ گئی تو حضرت عمر فاروق نے اسے ناپسند فرمایا اور ہمارے ہاں رات بھر جلسوں میں شرکت کرنے والوں میں سے اکثرتارکِ جماعت ہی نہیں تارکِ نمازبھی ہوتے ہیں۔
آج کل ان محافل کی رونق بڑھانے کے لیے عمرے کے ٹکٹوں کا اعلان کیا جاتا ہے ،بعض کاروباری ادارے بھی اپنی پروڈکٹ کی سیل پروموشن کے لیے عمرے کے ٹکٹوں کا اعلان کرتے ہیں، حالانکہ شریعت میں اس کا حکم نہیں ہے ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی کو حج یا عمرہ کرانا نیک کام نہیں ہے ،اچھا کام ہے ضرور کرائیے، لیکن اگر کوئی کسی نیک آدمی کو عمرہ کرانا بڑی سعادت سمجھتا ہے ،تو اس کے لیے جلسوں میں نمود اور تشہیر کی کیا ضرورت ہے ،اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ،عمرہ کرنے والے اورکرانے والے کو ہونا چاہیے، ریا سے تو اجر باطل ہوجاتا ہے ،حدیث پاک میں ہے: رسول اللہ ؐ نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ”شرکِ اصغر” کا خوف ہے، صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! شرکِ اصغر کیا ہے؟، آپ ؐ نے فرمایا: ریا کاری، قیامت کے دن جب لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا دی جارہی ہوگی ،تو اللہ تعالیٰ (ریاکاروں سے)فرمائے گا: جاؤ ، تم اپنا اجر اُن سے مانگو جن کے سامنے تم دکھاوے کے لیے عبادت کرتے تھے، ذرا دیکھوکیا ان کے پاس تمہارے لیے کوئی جزا ہے، (مسند احمد:23630) ”۔میں پہلے بھی لکھتا رہا ہوں کہ ہر مسلمان کو حج یا عمرہ کرانا ضروری نہیں ہے ، لیکن مسلمان بچے کو اچھا مسلمان بنانا ریاست ،معاشرے ، خاندان اور نظامِ تعلیم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے اور اسی سے ہم غافل ہیں۔قیامت کے دن جن چیزوں کی بابت باز پرس ہوگی ،اُن کی ایک جھلک اس حدیث میں ملاحظہ فرمائیے :
رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ”ﷲ تعالیٰ قیامت کے دن (اپنے بندے سے) فرمائے گا: اے بنی آدم!میں بیمار تھامگرتونے میری عیادت نہ کی،(بندہ) عرض کرے گا: اے پَرْوَردْگار! میں تیری عیادت کیسے کرتا؟، تو تو ربُّ العالمین ہے(اور ان عوارض سے پاک ہے)، ﷲتعالیٰ فرمائے گا:کیا تو نہیں جانتاکہ میرا فلاں بندہ(تیرے سامنے) بیمار ہواتھا، تو نے اس کی عیادت نہ کی،تجھے معلوم ہے کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا؟،(پھرﷲتعالیٰ فرمائے گا:)اے بنی آدم!میں نے تجھ سے کھانا مانگا ،تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا، (بندہ ) عرض کرے گا: اے پَرْوَردْگار!میں تجھے کیسے کھلاتا؟،تو تو رب العالمین ہے (اور بیماری وبھوک وپیاس ایسی مخلوق کی حاجات سے پاک ہے) ، اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگاتھا، تو نے اسے نہ کھلایا، اگر تو (میرے اس محتاج) بندے کو کھلاتا، توتو اُسے میرے پاس ہی پاتا(یعنی مجھے اپنے قریب ہی پاتا)، (اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا:) اے بنی آدم ! میں نے تجھ سے پانی مانگا، تو نے مجھے نہ پلایا، بندہ عرض کرے گا :اے پَرْوَردْگار! میں تجھے کیسے پانی پلاتا ؟، تیری ذات تو ربُّ العالمین ہے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تجھ سے (دنیا میں)میرے فلاں پیاسے بندے نے پانی مانگاتھا،تو نے اسے نہ پلایا ، اگر تو نے اسے پانی پلایا ہوتا، تو اسے میرے پاس ہی پاتا، (مسلم: 2569)”۔
محدّثینِ کرام نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا: اس حدیثِ قدسی کا منشایہ ہے کہ بیمار کی عیادت، بھوکے محتاج کوکھانا کھلانا اور پیاسے کوپانی پلانا، یہ امور براہِ راست بندوں کی حاجت براری ہے اور اگر اللہ کی رضا کے لیے یہ کام کیے جائیں تو بالواسطہ ﷲتعالیٰ کی عبادت اور اس کے حبیبِ مکرم ؐ کی سُنَّتِ جلیلہ ہے۔اس حدیث میں بندوں کی حاجات کی ترتیب یہ رکھی گئی ہے : بیمار کی عیادت ، بھوکے کو کھانا کھلانا اور پیاسے کو پانی پلانا۔کس وقت کون سی نیکی دوسرے کے مقابل میں اجر کے لحاظ سے مقدم ہے ، اس کا مدار اُس وقت کے حالات پر ہے ،حدیث پاک کی رُو سے ایک فاحشہ عورت محض پیاس سے بلکتے ہوئے ایک کتے کو پانی پلانے پر مغفرتِ باری تعالیٰ کی حق دار بن گئی ۔
اﷲتعالیٰ کا یہ ارشاد : ”اے بنی آدم ! اگر تو بیمارکی عیادت کرتا ، بھوکے کو کھانا کھلاتا اور پیاسے کو پانی پلاتا تو، مجھے اس کے قریب ہی پاتا”۔ یعنی ان کاموں سے اﷲتعالیٰ کی رِضا اور اس کا قُرب حاصل ہوتاہے، بندہ اللہ کے قریب ہوجاتاہے اور اللہ کی رحمت بندے پر سایہ فگن ہوجاتی ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے دکھی بندوں کے دکھوں کا مداوا کرنے والوں کو اپنا قُرب عطا کرتاہے ۔حدیثِ قدسی ہے، اﷲتعالیٰ فرماتا ہے:”میں اپنے ان بندوں کے قریب ہوتاہوں ، جوخَشیتِ الٰہی سے لرز اٹھتے ہیں اور بے بسی وبے کسی کے عالم میں شکستہ دل ہوکر مجھے پکارتے ہیں،(مرقاۃ،ج:3،ص:1123)”۔
حضور ؐ بھی صحابہ سے محافل اور عمرے وغیرہ کروانے کے بارے نہیں پوچھتے تھے، بلکہ اس طرح کے سوالات کرتے تھے:”(ایک بار آپ نے صحابہ سے دریافت فرمایا:)آج تم میں سے کون روزے سے ہے، حضرت ابوبکر نے عرض کیا:یارسول اللہ! میں،پھر فرمایا:آج تم میں سے کون جنازے میں شریک ہوا، حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا:یارسول اللہ ! میں،پھر فرمایا:آج تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا،حضرت ابوبکر نے عرض کیا: یارسول اللہ!میں نے، پھر فرمایا: آج تم میں سے کس نے مریض کی عیادت کی، حضرت ابوبکر نے عرض کیا:یارسول اللہ! میں نے، رسول اللہ ؐ نے فرمایا: جس شخص میں یہ ساری خصلتیں جمع ہوجائیں، وہ جنت میں داخل ہوگا،(صحیح مسلم:1028)”۔اب تو مغربی ممالک سے فتووں کی صورت میں شکایات آرہی ہیں کہ پیروں ،نعت خوانوں اور واعظوں کی تصاویر سے مساجدکے درودیوار اٹے ہوئے نظر آتے ہیںاور یہ مناظر برطانیہ ،یورپ اور امریکہ وکینیڈا میں صرف اہلِ پاکستان کی مساجد میں نظر آتے ہیں ،نمود ونمائش ، حبِ نفس اور ریاکاری کا کلچر اس قدر غالب آگیا ہے کہ اس کے اندر سے اخلاص اور للّٰہیت کی علامات کو ڈھونڈنا مشکل نظر آتا ہے۔
Mufti Muneeb-ur-Rehman

Share: