ایصالِ ثواب (22رجب کے کُونڈے)

952
0
Share:

ایصالِ ثواب (22رجب کے کُونڈے)

1۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی پیدائش 8 رمضان المبارک 80ھ یا ایک روایت کے مطابق 17ربیع الاول 83ھ کو ہوئی اور اُن کی وفات 15 شوال 148ھ کو ہوئی۔البتہ 22رجب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے وصال کا دن ہے، اسلئے اللہ کریم سے دُعا ہے کہ اُن کے درجات بلند کرے۔

2۔ قرآن خوانی، قل و چہلم، میلاد، گیارھویں شریف، کُونڈے وغیرہ اجتماعی طور پر سب کو بُلا کر کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، اگر مندرجہ ذیل تین کام ہر مسلمان روزانہ شروع کر دے بلکہ قل و چہلم، کونڈے، گیارھویں شریف، عُرس، میلاد وغیرہ پر بدعت کی لڑائی ختم ہو جائے گی۔

(۱) نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جو بندہ عام مومنین و مومنات کے لئے ہر روز(27دفعہ) اللہ کریم سے معافی اور مغفرت کی دعا کرے گا وہ ان لوگوں میں سے ہو جائے گا جن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور جن کی برکت سے دنیا والوں کو رزق دیا جاتا ہے۔(معجم کبیر طبرانی) اسلئے ہر مسلمان روزانہ اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے حضورﷺ کی اُمت کی بخشش کے لئے دُعا کرے تاکہ حضورﷺ کی دُعا”رب ھب لی امتی“ کی طرح دُعا کرنے والے بن جائے اور یہ سب سے آسان ایصالِ ثواب ہے۔

(۲) حضور علیہ الصلوۃ و السلام قربانی کرتے وقت اللہ کریم کے آگے عرض کرتے ”اے اللہ اسے میری طرف سے اور میری آل اور میری امت کی طرف سے قبول فرما۔ (مسلم جلد2) اس حدیث پر “روزانہ” عمل کرتے ہوئے ہر فرض یا نفل نماز، روزہ، زکوۃ (صدقہ)، حج، عُمرہ، جب مرضی خود کھانا کھا کر یا کسی کو کھانا کھلا کر اللہ کریم کے آگے عرض کریں کہ یا اللہ اس پر جو ثواب عطا فرمایا ہے وہ حضورﷺ کی ساری اُمت کو ایصالِ ثواب کرتا ہوں۔ یہ عمل بھی بہت آسان ہے۔

(۳) اسطرح جب چاہیں حضورﷺ کا ذکر (میلاد) صحیح احادیث کے مطابق کریں، ہر صحابی، ولی (گیارھویں شریف)، کسی بھی نبی کا دن اسطرح منائیں کہ اُنہوں نے جو دین کے لئے کام کئے وہ عوام کا ایمان تازہ کرنے کے لئے بتائے جائیں اوراس کا کوئی دن یا وقت مخصوص نہیں ہے۔

3۔ جناب احمد رضا خاں صاحب کے فتاوی رضویہ کے مطابق مُردہ دفنانے کے بعد روٹی کھلانا جائز نہیں ہے، قل و چہلم، جمعراتیں، برسی وغیرہ کی روٹی بھی وہ کھائے جن کو زکوۃ لگتی ہے امیر آدمی نہ کھائے، میلاد پر کھانا کھلائیں یا نہ کھلائیں بلکہ اگر کھانے کے لئے بُلایا یا بندہ کھانے کیلئے Menu پوچھ کر آیاتو اُس کو ثواب نہیں۔ مرگ، قل و چہلم، عرس، ایصالِ ثواب، گیارھویں شریف سے صرف ”کھانا“ نکال دیں اور پھر یہ ساری محفلیں کر کے دیکھیں تو سمجھ آئے گی کہ ہم ریاکاری کر رہے ہیں اور ان سب اعمال کا ثواب ہمارے بڑوں کو نہیں جاتا۔ اسلئے ہر کوئی اپنے طور پر روزانہ کا روزانہ جو”تین طریقے“ سمجھائے ہیں اُس پر عمل کرے۔

4۔ ہم اس پیج پر اسی قانون کے مطابق اہلسنت ہیں اور کھلم کھلا عوام کو سمجھا رہے ہیں، عوام علماء سے پوچھ کر ہماری پوسٹ کی تصدیق کر سکتی ہے۔اذان سے پہلے دورو، نماز کے بعد کلمہ، جمعہ کے بعد سلام، جنازے کے بعد دُعا، قبر پر اذان، پیری مریدی وغیرہ مستحب اعمال ہیں، اگر کوئی نہیں کرتا تو کوئی گناہ نہیں ہے، البتہ فرض سمجھ کر کرتا ہے تو بدعتی ہے، اگر ایسے مستحب اعمال نہ کرنے والے کو دیوبندی یا وہابی بناتا ہے تو سخت گناہ گار ہے۔

5۔ محرم میں قبروں پر مٹی ڈالنا، صفر کو الا بلا کا آنا، 22رجب کوکونڈے، تصوف اور احادیث کی کتابوں میں منگھڑت بات شامل کر کے اُس حدیث کہنا، یہ سب رافضیوں کے کام ہیں۔ البتہ اس دور میں اہلسنت عقائد کی پہچان سب کو کروانی چاہئے کیونکہ ہر کوئی اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر اپنی جماعت کا مُنکر بن رہا ہے۔

Share:

Leave a reply