اچھی نظر یا بُری نظر کا لگنا

1413
0
Share:

اچھی نظر یا بُری نظر کا لگنا

تمام مسلمان خود سے سوال کریں کہ نظر لگنا حق ہے لیکن کیا اچھی نظر بھی لگتی ہے یا صرف بُری نظر ہی لگتی ہے، اگر اچھی نظر لگے تو کیا فائدہ ہوتا ہے اور اگر بُری نظر لگے تو کیا نقصان ہوتا ہے، کیا نظر صرف مسلمان کو لگتی ہے یا کافر کو بھی لگتی ہے؟ قرآن و احادیث سےکچھ سبق حاصل کرتے ہیں:

1۔ اور کہا اے میرے بیٹو! ایک دروازے سے داخل نہ ہونا اور جُدا جُدا دروازوں سے جانا، میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا، حُکم تو سب اللہ کا ہی ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے (الیوسف۔67) حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو نظر بد سے بچنے کے لئے طریقہ سکھایا لیکن ساتھ میں توکل بھی سکھایا۔ اپنی اولاد کی اس طرح تربیت کرنی چاہئے۔

2۔ اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بد نظر لگا کر تمہیں گرا دیں گے(القلم۔51) عرب میں بہت سے بندے ایسے تھے کہ جو دعوی کر کے نظر لگاتے تھے کافروں نے ایک ایسے بندے کو پیسے دے کر قائل کیا کہ حضورﷺ کو بھی نظرِ بد لگائیں لیکن حضورﷺ نے لاحول ولا قوۃ پڑھا اور اُس کی نظرِ کا اثر ہی نہ ہوا حالانکہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ پر جادو ہو گیا لیکن یہاں نظر نہیں لگی۔اسلئے ایمان رکھیں اللہ کے حُکم سے سب کچھ ہو گا ورنہ ساری زندگی کچھ نہیں ہو گا۔

3۔ اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں(سورہ البقرہ)

اللہ کریم نے کافر اور مسلمان کو ضرور آزمانا ہے، چاہے کوئی لاکھ کہے کہ ہم آزمائش کے قابل نہیں ہیں، اسلئے آزمائش آنے پر کافر مسلمان بھی ہو سکتا ہے اور مسلمان کافر بھی ہو سکتا ہے۔ یہ آزمائش تقدیر میں لکھی ہوتی ہے اسلئے تقدیر کا مُنکر مسلمان نہیں رہتا اور آزمائش آنے پر کُفر بکنے والا کافر بھی ہو جاتا ہے، اسلئے صبر کرنے والوں کے لئے بشارتیں رحمت، برکت و جنت کی ہیں۔

احادیث اور ڈر

رسول اللہﷺنے فرمایا: نظر کا لگنا حق ہے۔ اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جانی والی ہوتی تو وہ نظر ہوتی (صحیح مسلم) ایک اور حدیث پاک میں آیا کہ میری امت میں اللہ کی کتاب (لوح محفوظ)، اس کے فیصلے اور تقدیر کے بعد سب سے زیادہ تعداد نظرِ بد کے اثرات سے مرنے والوں کی ہو گی۔ (السلسلتہ صحیحتہ) اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا نظرِ بد ایک اچھے بھلے انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہنڈیا میں داخل کر دیتی ہے (السلسلتہ صحیحتہ)

ان احادیث اور سُنی سنائی باتوں کی وجہ سے جاہل عوام نظر لگنے سے نہیں بلکہ (1) غریبی (2) بیماری سے بہت ڈرتی ہے حالانکہ ایمان والی ہوتی تو بیماری اور غریبی کے لئے مندرجہ ذیل احادیث پر عمل کر کے صبر و شُکر کرتی:

1۔ نبی کریم ﷺ حضرت ام السائب رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس تشریف لے گئے۔ فرمایا، تجھے کیا ہو گیا ہے جو کانپ رہی ہے؟ عرض کی، بخار آ گیا ہے اللہ عزوجل اس میں برکت نہ کرے۔ فرمایا، بخار کو بُرا نہ کہو کہ یہ تو آدمی کی خطاؤں کو اس طرح دُور کرتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو۔ (ابن ماجہ)

2۔ نبی کریم ﷺ دعا فرماتے تھے ’’اے اللہ،مجھے مسکین زندہ رکھنا،مسکینی کی حالت میں موت عطا فرما اور مسکینوں کی جماعت کے ہمراہ حشر میں زندہ فرما‘‘( سنن الترمذی)

بیماری: ہر بیماری کیلیے دواء ہے جب دواء بیماری کو پہنچتی ہے، بیماری اﷲ عزوجل کے حکم سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔ (مسلم،المستدرک) اسلئے بیماروں کے لئے نصیحت ہے کہ بیماری میں کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس جائیں لیکن پیروں یا عاملوں کے پاس نہ جائیں، اگر کوئی پیر یا عامل کہتا ہے کہ میں ہر بیماری کا علاج کرسکتا ہوں تو اُس پیر یا عامل سے عرض ہے کہ رضا کارانہ طور پر اپنے شہر کے کسی بھی ہسپتال میں جا کر علاج کرے ورنہ جھوٹا ہے۔

جھاڑ پھونک: رسول اﷲﷺ نے تین چیزوں کیلیے جھاڑ پھونک کی اجازت دی (1) نظربد (2) بچھو وغیرہ کے کاٹے پر (3) پھوڑے پھنسی کیلیے۔(مسلم، نسائی) اسلئے ہر ایک بندہ اپنے مسجد کے مولوی صاحب، خطیب صاحب، امام مسجد، پیر صاحب سے پوچھ لے کہ دَم درود، تعویذ دھاگے کرنے کیلئے کس مدرسے، اسکول، کالج، خانقاہ سے مفت تعلیم دی جاتی ہے اوربے نمازی، ان پڑھ، جاہل یا کون کون اس تعلیم کا اہل ہو سکتا ہے تاکہ اپنی فیملی یا گھر والوں کو خود دم کرنا سیکھیں، اگر علماء نہیں سکھاتے یا بتاتے تو گناہ گار ہیں۔

دَم درود یا تعویذ دھاگے سے پہلے

1۔ کیا آپ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں، اگر نہیں پڑھتے تو پیروں اور عاملوں سے ایسا تعویذ ضرور لیں کہ جس سے آپ نمازی بن جائیں۔
2۔ کیا آپ حقوق العباد ادا کرتے ہیں، اگر نہیں تو عاملوں یا پیروں سے تعویذ لیں جس سے حق حقوق پورا کرنے لگیں۔
3۔ کیا آپ بیماری اور غریبی پر صبر کرتے ہیں یا نہیں، اگر نہیں تو عاملوں اور پیروں سے ایسا تعویذ لیں کہ آپ کو صبر و شُکر اس قدر مل جائے کہ غم غم نہ لگے۔
4۔ کیا آپ کو حضورﷺ کی روزانہ کی دُعائیں یاد ہیں جو انہوں نے لباس پہنتے ،آئینہ دیکھتے ، بازار جاتے ، گھر داخل ہوتے ،باتھ رُوم، مسجد،وغیرہ کی پڑھیں، اگر نہیں تو یاد کریں، اگر عربی نہیں آتی تو اُردو میں کریں، اُن دعاؤں کو یاد کرنادَم درود اور تعویذ دھاگا کروانے سے زیادہ بہتر ہے۔
5۔ ہر ایک چھوٹے بڑے کو اسلام علیکم، جزاک اللہ خیرا، اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے، اللہ تمہیں برکتیں دے، اللہ تمہیں مجھ سے زیادہ دے کی ہمیشہ اور روزانہ ’’دُعائیں‘‘ دینا شروع کر دیں تاکہ آپ کی نظر کسی کو نہ لگے، اگر آپ اپنوں یا غیروں کو دعائیں نہیں دیتے تو آپ کی نظرہر ایک کو لگ سکتی ہے۔

تعویذ دھاگے، دَم درود اور شرک

عوف بن مالک رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ ہم لوگ زمانہ جاہلیت یعنی اسلام سے پہلے کے دور میں دَم کیا کرتے تھے، تو ایک دفعہ ہم نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، ہم لوگ جاہلیت کے دور میں اپنے مریضوں پر دَم کیا کرتے تھے، اب آپ اِس معاملے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟تو رسول اللہﷺ نے اِرشاد فرمایا: مجھے وہ کچھ بتاؤ جو تُم دَم کرتے ہو، اگر دَم(کے الفاظ اور طریقے وغیرہ)میں کوئی شرک نہیں تو دَم کرنے میں کوئی حرج نہیں(صحیح مُسلم) نبی کریمﷺ نے دَم کی اجازت دی لیکن یہ بھی سمجھایاکہ شرکیہ الفاظ سے دَم درود جائز نہیں ہے۔ عوام کو کون سکھائے گا کہ شرکیہ الفاظ کونسے ہوتے ہیں؟

1۔ مسلمان بھی عیسائی گرجا گھروں میں پادری سے “شرکیہ” الفاظ سے دُعائیہ شفائیہ عبادات میں شامل ہو کر دم کرواتے ہیں اور اللہ کے حُکم سے شفا بھی ہو جاتی ہے مگر ایمان بھی چلا جاتا ہے۔اسلئے بہت سے مسلمان عیسائی ہو چُکے ہیں مگر کوئی بھی مسلمان یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اُس کے پاس کوئی عیسائی دَم کروانے آیا تو وہ مسلمان ہو گیا۔

2۔ بے نمازی، داڑھی مُنڈھے عاملوں سے بھی شفا ہو جائے گی مگر دینداری نہیں ملے گی۔

3۔ اہلسنت عقیدہ رکھنے والے پیر کے پاس جانے سے شفا نہ بھی ملے مگر ایمان ضرور مل جائے گا۔

4۔ اگر کسی سچے پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دیا تو وہ دَم درود سے بے نیاز کر کے صبر، شُکر کی سیڑھی ایسے چڑھائے گا کہ مقام رضا پر مسلمان کھڑا نظر آئے گا۔یہی مومن کا اصل ہتھیار ہے۔

دَم درود اور اُجرت

نبی کریم ﷺ کے کچھ صحابہ کرام کا قبائل عرب میں سے ایک قبیلہ پر گذر ہوا۔ انہوں نے ان صحابہ کرام کی مہمان نوازی نہ کی۔ اسی اثناء میں ان لوگوں کے سردار کو سانپ یا بچھّو کا ڈنگ لگا۔ بستی والوں نے کہا تمہارے پاس کوئی دواء یا دم کرنے والا ہے؟ صحابہ کرام نے جواب دیا : تم نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی (کھانا نہیں کھلایا) ہم (بھی) دم نہیں کریں گے جب تک بکریوں کا پورا ریوڑ ہمیں نہ دو اب ان لوگوں نے بکریوں کا ریوڑ ان حضرات کو دیا حضرت ابو سعید خُدری رضی اﷲ عنہ نے سورہ فاتحہ پڑھ کر دم، جھاڑ شروع کر دیا۔ لعاب دہن جمع کر کے زخم پر لگاتے جاتے۔ وہ شخص ٹھیک ہو گیا۔ بکریوں کا ریوڑ ان کے سپرد کرنے لگے تو صحابہ کرام کہا ہم نبی اکرمﷺ سے پوچھے بغیر نہیں لیں گے۔ پھر سرکار ﷺ سے پوچھا آپ ہنس پڑے۔ فرمایا : تجھے کیسے پتہ چل گیا کہ یہ دم ہے ؟ لو ! اور میرا حصہ مجھے دو!(بخاری، الصحيح)

1۔ یہ ایک علمی مسئلہ ہے کہ تعویذ دھاگے، دَم درود پراُجرت لینا جائز ہے لیکن کیا اس کھیل میں عام و خاص دُنیا کی کمائی کر رہے ہیں یا اللہ کریم سے جنت کا حقدار بن رہے ہیں۔
2۔ کیا خاص لوگ بتا سکتے ہیں کہ دَم درود، تعویذ دھاگے، کرامت، کشف، مستجاب الدعوات ہونا ’’ولی‘‘ کی شرائط میں شامل ہے، اگر نہیں ہے تو آج کل کے پیریہ بتا دیں کہ ولی کی شائط میں کیا شامل ہے اور اُس کے مطابق کسی کو اپنا مرید کر کے دکھائیں۔
3۔ قیامت والے دن جس مسجد و محراب، مدارس و خانقاہوں میں علم نہیں دیا ہو گا اُن کو عوام کو بے ایمانوں کے حوالے کرنے کے جُرم میں سزا ضرور ہو گی۔

Share:

Leave a reply