اولادِ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ

Share:

اولادِ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قتیلہ بنت عبد العزی، حضرت ام رومان بنت عامر، حضرت اسماء بنت عمیس اور حضرت حبیبہ بنت خارجہ سے نکاح کئے اور آپ کی اولاد میں تین بیٹے عبداللہ، عبدالرحمن اور محمد ہیں اور تین بیٹیاں اسماء، عائشہ اور ام کلثوم شامل ہیں۔

پہلی بیوی: قتیلہ بنت عبدالعزی سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت اسماء رضی اللہ عنھا پیدا ہوئیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو قتیلہ بنت عبدالعزی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا جس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو طلاق دے دی۔ان سے دوبچے یہ تھے:

1۔ حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے ہیں اور حضرت اسماء رضی اللہ عنھا آپ کی حقیقی بہن ہیں۔ سابقون الاولون میں حضرت عبداللہ کا بھی شمار ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ہجرت مدینہ کے وقت کافروں کی جاسوسی کرتے اور شام کو حضرت اسماء کھانا تیار کرتیں تو یہ حضور ﷺ کو کھانا بھی دے کر آتے، اگر کافروں کو ان پر شک ہو جاتا تو ان کا قتل یقینی تھا۔ ”غارِ ثور میں حضرت سیدنا عبداللہ بن ابوبکر، سیدہ اسماء اور حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنھم خبریں پہنچانے، کھانا کھلانے اور دودھ پلانے کی خدمت انجام دیتے رہے“۔(سیرت ابن ہشام ص 194)

حضور ﷺ نے مدینہ منورہ پہنچ کر اپنے غلام حضرت زید بن حارثہ اور ابو رافع رضی اللہ عنھما کو دو اونٹ اور چار سو درہم خرچ دے کر مکہ روانہ کیا تاکہ وہ حضور ﷺ کی دونوں بیٹیوں حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھما، حضرت سودہ بنت زمعہ، زید کی بیوی ام ایمن اور اس کے بیٹے اسامہ بن زید کو مدینہ لے آئیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایک خط حضرت عبداللہ بن اریقط کو اپنے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے نام دے کر بھیجا کہ آپ بھی اپنی (سوتیلی) والدہ ام رومان اور اپنی بہنوں حضرت اسماء اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھما کو لے کر مدینہ آ جائیں۔ (معارج النبوۃ فی مدارج الفتوۃ مصنف ملا معین واعظ الہروی)

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا نکاح حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ (عشرہ مبشرہ) کی بہن حضرت عاتکہ رضی اللہ عنھا سے ہوا اور ان سے ایک بچہ اسماعیل پیدا ہوا مگر چھوٹی عمر میں وفات پا گیا جس کی وجہ سے حضرت عبداللہ بن ابی بکر کی نسل آگے نہ چل سکی۔ حضرت عبداللہ ایک دفعہ اپنی بیوی کی محبت میں اور اُس کے کہنے پر جہاد پر نہ گئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عاتکہ کو طلاق دے دو، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک طلاق دے دی لیکن ان کی محبت اسقدر شدید تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رجوع کر لو۔اُس کے بعد ہر غزوے میں شریک ہوئے۔ (سیرت خلیفہ رسول سیدنا حضرت ابوبکر از طالب ہاشمی صفحہ 592اور 593)، الصحابہ فی المیز الصحابہ تالیف علامہ ابن حجر عسقلانی اردو مترجم محمد احمد شہزاد علوی جلد سوم صفحہ 212)

حضرت عاتکہ رضی اللہ عنھا کا پہلا نکاح حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ، دوسرا نکاح حضرت عبداللہ بن ابی بکر، تیسرا نکاح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ہوا، چوتھا نکاح حضرت زبیر بن العوام اور پانچواں نکاح حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ جن سے انکا نکاح ہوا سب شہید ہوئے، یہاں تک کہ مشہور ہو گیا تھا کہ جس نے شہید ہونا ہے وہ عاتکہ سے نکاح کر لے۔

حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ، غزوہ حنین اور غزوہ طائف میں شرکت کی اور طائف کے محاصرے کے دوران آپ ایک زہریلا تیر لگنے سے زخمی ہو گئے اور وہ زہر اندر ہی اندر کام کرتا رہا اور حضور ﷺ کے وصال کے بعد 11ھ میں آپ وفات پا گئے۔ آپ کی نماز جنازہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور قبر میں حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر، حضرت عمر فاروق اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ اُترے۔ (زرقانی جلد 3 ص 30)

2۔حضرت اسماء رضی اللہ عنھا

حضرت اسماء رضی اللہ عنھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ (عشرہ مبشرہ) کی بیوی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی سوتیلی بہن، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ جو ہجرت سے 27 سال پہلے پیدا ہوئیں اور اسلام لانے میں ان کا نمبر 18واں ہے۔ اسلئے بخاری 3828 ”حضرت اسماء زمانہ جاہلیت کے موحد زید بن عمر و بن نفیل کو جانتی تھیں جو دین ابراہیمی پر تھا، بچیوں کو زندہ دفن کرنے سے بچاتا، ان کو ان کے والدین سے خرید لیتااور پالتا“۔

بخاری 2138 ”حضور ﷺ ہجرت کرنے کے لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر آئے تو حضرت اسماء اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا موجود تھیں“۔ اسی گھر سے ہجرت کے لئے روانہ ہوئے اور بخاری 2979 کھانا یہیں سے تیار ہوتا تو ایک دن توشہ دان (Tiffin) کو اوپر سے باندھنے کے لئے کچھ نہ تھا تو حضرت اسماء رضی اللہ عنھا نے اپنا کمر بند (نالہ، ڈوری، کپڑے) کے دو حصے کر کے باندھا جس سے ان کا لقب ”ذات النطاقین“ ہو گیا۔

حضرت اسماء رضی اللہ عنھا سے ابوجہل نے پوچھا کہ تیرا باپ کہاں ہے، آپ نے کہا معلوم نہیں تو اس نے اس زور سے چہرے پر تھپڑ مارا کہ کان کہ بالی ٹوٹ کر نیچے گر گئی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سارا پیسہ لے کر ہجرت کر گئے کہ راستے میں کام آئے گا تو حضرت اسماء کہتی ہیں کہ میرے دادا ابو قحافہ نے کہا کہ تیرے باپ نے تجھے مشکل میں ڈال دیا ہے، نہ پیسہ ہے اور نہ ہی کوئی غم خوار، دادا ابو قحافہ کو نظر نہیں آتا تھا تو حضرت اسماء رضی اللہ عنھا نے مال کی جگہ پتھر پر ہاتھ رکھا کر کہا کہ پیسہ چھوڑ کر گئے ہیں جس سے ان کو اطمینان ہوا۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 6 ص 350)

بخاری 3909 ”حضرت اسماء رضی اللہ عنھا ہجرت کے وقت حاملہ تھیں جب قباء پہنچیں تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے، حضور ﷺ کی گود میں رکھے گئے، حضور ﷺ نے کھجور چبا کر بچے کے منہ میں رکھی اور برکت کی دعا کی“۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنھا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے عبداللہ، عروہ، منذر، عاصم، مہاجر، خدیجہ، ام حسن اور عائشہ یعنی آٹھ بچے ہوئے۔

حضرت اسماء رضی اللہ عنھا محنتی عورت تھیں، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ غریب تھے اور گھر میں نہ مال تھا اور نہ غلام، ایک گھوڑے اور ایک اونٹنی کے سوا کچھ نہ تھا۔ حضور ﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو بنو نضیر کے علاقے میں کھجوروں کا ایک باغ دیا تھا جو 6 میل دور تھا اور حضرت اسماء رضی اللہ عنھا وہاں سے کھجوروں کی گھٹلیاں لا کر پیس کر اور اونٹنی اور گھوڑے کو چارہ بنا کر کھلاتیں۔ بخاری 5224 ”ایک دفعہ گھٹلیاں لا رہی تھی تو حضور ﷺ پیچھے سے آئے اور فرمایا کہ اسماء اونٹ پر بیٹھ جاؤ لیکن میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کی وجہ سے نہ بیٹھیں“۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک غلام بھیجا جو گھوڑے کو سنبھالنے لگا۔

بخاری 5724 ”حضرت اسماء عورتوں کا بخار پانی ڈال کر ٹھنڈا کرتیں اور فرماتیں کہ حضور ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ بخار کو پانی سے ٹھنڈا کریں“۔ بخاری 1679”حضرت اسماء حج کے دوران رات کو شیطان کو کنکریاں مارنے جاتیں“۔ بخاری 1796 ”جبل حجون سے جب بھی گذرتیں تو یاد کرتیں کہ میں، عائشہ، زبیر نے یہاں سے عمرہ کیا تھا“۔حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سختی کرتے، بیٹی باپ سے شکایت کرتی تو باپ صبر کی تلقین کرتا مگر حضرت اسماء رضی اللہ عنھا کے مزارج میں تیزی تھی، اسلئے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کو طلاق دی اور آپ اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس رہنے لگیں۔

حضرت اسماء رضی اللہ عنھا شریعت کی پابند تھیں، ایک دفعہ مشرکہ ماں ملنے آئی تو پوچھا کہ حضور میری ماں آئی ہے اس سے اچھا سلوک کروں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے اچھا سلوک کرو (بخاری 2620) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں اسماء بنت ابوبکر کا وظیفہ ایک ہزار درہم سالانہ مقرر کیا۔سعید بن عاص کی گورنری کے زمانے میں مدینہ میں چوروں کی کثرت ہو گئی تو حضرت اسماء رضی اللہ عنھا ایک خنجر پاس رکھ کر سوتیں۔

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ میں خلافت قائم کی تو حجاج بن یوسف سے لڑائی ہوئی، حجاج بن یوسف نے کہا کہ ہماری لڑائی ابن زبیر کے ساتھ ہے اور تین آپشنیں ہیں مکہ چھوڑ کر جہاں مرضی چلے جائیں، بیڑیاں پہن کر شام چلیں یا لڑتے ہوئے مریں۔

حضرت اسماء رضی اللہ عنھا سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مشورہ کیا تو انہوں نے حجاج سے مقابلہ کرنے کا کہا اور اپنے بیٹے کا کفن منگوا کر خوشبو لگا کر رکھ لیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھی آپ کو چھوڑ کر چلے گئے۔ قحط سے تنگ آ کر آپ کے دونوں بیٹوں حمزہ اور خبیب نے بھی حجاج سے امان طلب کر لی تو آپ نے والدہ سے پوچھا کہ کیا میں بھی امان لے لوں تو ماں نے کہا کہ اگر حق پر ہو تو لڑو اور اگر دنیا کے لئے حکومت لی تھی تو تم نے برا کیا تھا۔

حضرت اسماء رضی اللہ عنھا بیماربھی تھیں، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت عروہ خبر لینے آئے تو ماں نے کہا کہ دو باتوں میں سے ایک کے ہونے سے پہلے مرنا نہیں چاہتی، عبداللہ کو شہادت نصیب ہو اور مجھے اجر کی امید ہو جائے یا یہ فتح یاب ہو جائے اور مجھے سکون مل جائے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، ہاتھ پاؤں کاٹے گئے اور ان کو جبل حجون کی داہنی گھاٹی میں اُلٹا لٹکا دئے گئے اور ان کے جسم کو اتارا نہیں جا رہا تھا تو کچھ دنوں بعد حضرت اسماء رضی اللہ عنھاشدت غم میں حجاج کے پاس آئیں اور پوچھا: سولی پر چڑھے اس سوار کے اترنے کا وقت نہیں آیا؟ اس نے کہا: ہم دونوں نے اس صلیب پر لٹکنے کا مقابلہ کیا لیکن یہ جیت کر مصلوب ہونے میں کامیاب ہوا۔ اللہ نے اسے دردناک عذاب دیا ہے اور حق کی تائید کی ہے۔

حضرت اسماء رضی اللہ عنھا نے کہا کہ کبھی باطل بھی حق پر غالب آ جاتا ہے، حجاج نے کہا: تیرا بیٹا منافق تھا، اس نے بیت اللہ میں بے دینی کا ارتکاب کیا۔ حضرت اسماء نے فرمایا: وہ شب بیدار، روزہ دار تھا، حضور ﷺ نے اس کو گُڑھتی دی تھی اور خوش ہوئے تھے، اسلئے اس کے مرنے پر خوش ہونے والوں سے بہتر وہ تھے جو ان کی پیدائش پر خوش ہوئے تھے۔ حجاج نے کہا تیری عقل چلی گئی ہے۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنھا نے کہا کہ عقل میری نہیں گئی میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ بنو ثقیف میں ایک جھوٹا نبی اور ایک ہلاک کرنے والاپیدا ہو گا۔ (ترمذی 3944) جھوٹا نبی مختار ثقفی تھا اور ظالم تو ہے۔ اس کے بعد اپنے بیٹے کی میت کے پاس طویل دعا کر کے آنسو بہائے بغیر واپس آ گئیں۔

عبدالملک بن مروان کو حجاج کی بدتمیزی کا علم ہوا تو اسے برا بھلا کہا کہ ایک نیک انسان کی بیٹی سے تمہارا ایسا کرنا بنتا ہے جس پر اس نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی لاش حضرت اسماء رضی اللہ عنھا کے حوالے کی تاکہ دفن کی جا سکے ار حضرت اسماء رضی اللہ عنھا سے کہ ماں کوئی ضرورت ہو تو بتانا۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ میں تمہاری ماں نہیں ہوں، تم نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی دنیا خراب کی اور اس نے تمہاری آخرت تباہ کر دی۔

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے کچھ دنوں بعد حضرت اسماء رضی اللہ عنھا نے 100سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ کے بیٹوں میں حضرت عبداللہ بن زبیر اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے شہرت پائی۔ یا اللہ ان صحابہ اور صحابیات کے صدقے میں ہمیں شعور دے۔

دوسری بیوی: حضرت ام رومان رضی اللہ عنھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دوسری بیوی تھیں جو حضورﷺ کی حیات میں وفات پا گئیں، حضورﷺ خود ان کی قبر میں اترے اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کی (سیر الصحابیات)۔ آپ سے دو بچے حضرت عائشہ اور عبدالرحمن رضی اللہ عنھما ہیں۔

1۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ

حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے سوا سب مسلمان ہو چکے تھے۔ غزوہ بدر میں نعرہ لگایا ”ھل من مبارز“ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکوں میں خون اتر آیا انہوں نے خود بڑھکر مقابلہ کرنا چاہا مگر حضور ﷺ نے اجازت نہ دی (مستدرک حاکم جلد 3 ص474)۔

قبول اسلام کے بعد ایک دفعہ آپ نے اپنے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ غزوہ بدر میں ایک بار آپ میری تلوار کی زد میں آ گئے تھے لیکن میں نے محبت پدری میں آپ کو چھوڑ دیا، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر اس دن تم میری تلوار کی زد میں آ جاتے تو خدا کی قسم میں تجھے کبھی نہ چھوڑتا (اسدالغابہ، حصہ ششم، جلد 2، صفحہ 348)۔

6ھ میں حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے لئے اس سے بڑھ کر خوشی کا اور کوئی دن نہ تھا۔ آپ نے ان کو اپنے پاس مدینہ منورہ بلا لیا، پھر اپنا کاروبار اور گھر کا انتظام و انصرام ان کے حوالے کر دیا (اسدالغابہ، حصہ ششم، جلد 2، صفحہ 349)۔

حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر کا نکاح قریبہ بنت ابو معاویہ سے ہوا جس سے عبداللہ، ام حکیم، عاصمہ، محمد، حفصہ پیدا ہوئیں۔ حضرت قریبہ کا نکاح پہلے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ہوا، انہوں نے طلاق دی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ہوا، انہوں نے بھی طلاق دی تو پھر حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر سے ہوا۔

حضرت عبدالرحمن صلح حدیبیہ کے موقع پر ایمان لائے اور باپ کا کاروبار سب سنبھال لیا۔ بخاری 6141 حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہمانوں کو کھانا نہ کھلانے پر قسم کھائی کہ میں بھی کھانا نہ کھاؤں گا۔۔ کھانے میں برکت ہو گئی اور پھر اس میں سے حضور ﷺ نے بھی کھایا۔

حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ بہادر، جنگجو اور تیرانداز بہت اچھے تھے۔ جنگ یمامہ میں غنیم کے سات بڑے جانبازوں کو نشانہ لگا کر جہنم پہنچایا۔ قلعہ یمامہ میں دشمن کا سردار قلعہ میں داخلے میں رکاوٹ تھا، آپ کے تیر سے مر گیا اور مسلمان اندر داخل ہو گئے (اصابہ جلد 2 ص 168)۔ اسد الغابہ جلد 3 میں ہے کہ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت پر اعتراض کیا جیسا کہ بخاری 4827 میں بھی حدیث موجود ہے۔

حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ اس کے بعد مدینہ چھوڑ کر مکہ چلے گئے اور 53ھ میں وفات پا گئے حالانکہ بالکل صحت مند تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ شاید کسی نے زہر دے دیا مگر ایک تندرست عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے گھر میں آئی اس نے نماز کا ایک سجدہ کیا اور دوسرا نہیں کیا تو ان کا یہ شک دور ہو گیا کہ کسی نے زہر دیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا حج پر آئیں تو اپنے بھائی کی قبر پر گئیں، رونا آ گیا اور کچھ اشعار بھی ان کی جدائی میں پڑھے (مستدرک حاکم جلد 2 ص 476)

2۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا مومنین کی ماں ہیں اور ان کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے سُسر ہیں۔ بخاری 3895 ”حضور ﷺ کو ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا خواب میں دکھا کر فرشتے نہ کہا یہ آپ کی بیوی ہیں“۔بخاری 3772حضرت عمار فرماتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا حضور ﷺ کی دنیا اور آخرت میں بیوی ہیں“۔ بخاری 3770 ”عائشہ کی فضیلت عورتوں پر اسطرح ہے جسطرح تمام کھانوں سے ثرید افضل ہے“۔

بخاری 3896 ”مدینہ پاک کی طرف ہجرت سے تین سال پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کا وصال ہو گیا اور دو سال بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے حضور ﷺ نے 6 سال کی عمر میں نکاح کیا، پھر 9 سال کی عمر میں وہ آپ ﷺ کے گھر تشریف لائیں“۔(اس میں بحث نہیں کہ عمر کیا تھی بلکہ اصل یہ ہے کہ آپ بالغ تھیں جب رخصتی ہوئی اور یہی قانون ہے کہ بالغ ہونے پر نکاح کر دیں)۔

مسلم 6290 ”حضور ﷺنے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا اے میری بیٹی!کیا تم اس سے محبت نہیں کرتی جس سے میں محبت کرتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا پس تم اس (حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا) سے محبت کرو“۔ بخاری 3662 ”آپ ﷺ نے فرمایا میں سب سے زیادہ محبت عائشہ سے کرتا ہوں“۔ بخاری 6201 حضور ﷺ نے فرمایا اے عائشہ یہ جبریل تجھے سلام کہتے ہیں تو عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: اور ان پر بھی اللہ کی رحمت اور سلام ہو“۔ بخاری 3775 حضور ﷺ نے ایک دفعہ ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا: مجھے عائشہ کے بارے میں تکلیف نہ دو، اللہ کی قسم، مجھ پر تم میں سے صرف عائشہ کے بستر پر ہی وحی نازل ہوتی ہے“۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا پر منافقین کی طرف سے بہتان لگا تو اللہ کریم نے قرآن میں سورہ نور کی آیات اُتار کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو پاک صاف قرار دیا اور بخاری 4141 میں مکمل وضاحت موجود ہے۔ بخاری 336 ”تیمم کی آیات بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے ہار گُم ہو جانے کی وجہ سے نازل ہوئیں۔

بخاری 3774 حضور ﷺ کے آخری آیام حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے گھر میں ان کے ساتھ تھے“ اور وفات حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی گود میں ہوئی بخاری 4449“۔

ترمذی 3883 حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم کو جب بھی کسی حدیث میں اشکال ہوتا تو ہم نے عائشہ رضی اللہ عنھاسے پوچھا اور ان کے پاس اس کے بارے میں علم پایا“۔ بخاری 3771 حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی وفات کے قریب بیماری پرسی کی اور آپ کی تعریف کی“ اور مسند احمد میں ہے ”حضرت عائشہ نے فرمایا: اے عباس مجھے چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں چاہتی ہوں کہ میں بھولی ہوئی گمنام ہوتی“۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا 17 رمضان المبارک 58ھ میں وصال کیا اور آپ کا جنازہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھایا (البدایہ و النہایہ، لابن کثیر، جلد 4، جز 7، ص 97)

تیسری بیوی: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تیسری بیوی حضرت حبیبہ بنت خارجہ رضی اللہ عنھا ہیں جن سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے وصال کے چند دن بعد ایک بیٹی حضرت ام کلثوم رحمتہ اللہ علیھا پیدا ہوئیں۔ (تہذیب التہذیب 12/477) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت حبیبہ رضی اللہ عنھا کا نکاح حُبیب کے ساتھ ہوا (الطبقات الکبیر)۔ اہلتشیع بھی کہتے ہیں کہ بعد وفات ابوبکر حبیبہ بنت خارجہ حبیب بن ساخر کے نکاح میں آئیں (ناسخ التواریخ ص 721)

حضرت ام کلثوم بنت ابی بکر کا نکاح حضرت طلحہ (عشرہ مبشرہ) رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو ا جو جنگ جمل میں شہید ہوئے تھے، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے حضرت ام کلثوم سے زکریا، یوسف اور عائشہ پیدا ہوئیں۔ اس کے بعد ان کا نکاح عبدالرحمن بن عبداللہ سے ہوا جن سے ابراہیم، موسی، ام حمید و ام عثمان پیدا ہوئے۔ (ابن سعد الطبقات الکبری) حضرت ام کلثوم بنت ابوبکر نے اپنی بہن حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایات بیان کی ہیں۔

حضرت ام کلثوم بنت حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نکاح حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوا جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی بیٹی تھیں اور حضرت ام کلثوم بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نکاح حضرت طلحہ بن عبیداللہ سے ہوا جیسے ناسخ التواریخ ص721 پر اہلتشیع لکھتے ہیں: بہر حال ام کلثوم بنت ابی بکر طلحہ بن عبداللہ کے نکاح میں آئیں ان سے دو بچے بھی پیدا ہوئے لڑکے کا نام زکریا اور لڑکی کا نام عائشہ رکھا تھا۔

چوتھی بیوی: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی چوتھی بیوی حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنھا ہیں جن کا پہلا نکاح چچا ابو طالب کے بڑے بیٹے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ سے ہوا جن سے محمد، عون اور عبداللہ پیدا ہوئے۔ ان کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ہوا جن سے محمد پیدا ہوئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نکاح ہوا جن سے یحیی اور محمد اصغر پیدا ہوئے۔

حضرت محمد بن ابوبکر کی ولادت 25 ذی قعد 10ھ کو ذوالحلیفہ میں حضور ﷺ کے حج پر جاتے ہوئے ہوئی۔ ان کی پیدائش کے چند ماہ بعد حضورﷺکا وصال ہو گیا۔ کچھ کہتے ہیں صحابی ہیں اور کچھ کہتے ہیں تابعی ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنھا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پالا اور ان سے محبت کرتے تھے۔

نکاح: حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے نکاح کے حوالے سے اتنا ملتا ہے کہ ”یزدگرد“ ایرانی بادشاہ کی تین بیٹیاں جب گرفتار ہو کر آئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو خرید کر ان میں سے ایک کا نکاح حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے کیا،جن سے حضرت محمد المعروف زین العابدین رحمتہ اللہ علیہ پیدا ہوئے۔ دوسری کا نکاح حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے ہوا جن سے حضرت قاسم رحمتہ اللہ علیہ پیدا ہوئے اور تیسری کا نکاح حضرت عبداللہ بن عمر سے ہوا۔

مخالفین عثمان: تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی گورنمنٹ کی مخالفت میں حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ قاتلین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے متعلق آراء یہ ہیں (1) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے میں ان کا بھی ہاتھ ہے (2) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑے ہوئے تھے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے شرم دلائی توشرمندہ ہو کر واپس آ گئے اور توبہ کر لی۔

بد دُعا: ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ظلما شہید کیا گیا ہے اور فرماتیں کہ ”اللہ تعالی محمد بن ابی بکر سے ان کا بدلہ لے، اللہ تعالی بنو تمیم کو ذلیل و رسوا کردے، اللہ تعالی بنو ہذیل کا خون بہائے، اللہ تعالی اشتر کو اپنے تیر سے ہلاک کرے اور ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کی بد دعا نہ پہنچی ہو (المجم الکبیر للطبرانی ج 1، حدیث 133، التاریخ الاوسط للبخاری ج 1 ح 384، تثبیت الامامتہ و ترتیب الخلافتہ لابی نعیم الاصبھانی ج 1 ح 140، مجمع الزوائد 9ح 14567)

جنگیں: حضرت محمد بن ابوبکررضی اللہ عنہ جنگ جمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور جنگ صفین میں کچھ کہتے ہیں موجود تھے اور کہتے ہیں کہ جنگ صفین میں اسلئے شامل نہیں تھے کہ اُس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو مصر کا گورنر بنا یا ہوا تھا۔ جنگ صفین کے بعد جب حضرت علی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنھما میں صُلح ہو ئی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس کوفہ تشریف لے آئے۔

وفات: ایک گروپ کہتا ہے کہ اُس کے بعد قاتلین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ میں حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بھی تھے تو اُن سے بدلہ لینے کے لئے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ ایک کہتا ہے کہ مصراور کوفہ باغیوں کا گڑھ تھا اورحضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ان سے متاثر تھے، اسلئے فاتح مصر، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ اس کو سمجھاؤ، جس سے دو گروپ کے درمیان مقابلہ ہوا اور حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے یا قتل کر دئے گئے۔ باقی ابو مخنف کی جھوٹی روایات ہیں کہ گدھے کی کھال میں ڈال کر جلایا گیا، بڑی بے دردی سے مارا گیا۔

قانون: عقیدہ تاریخ سے نہیں بلکہ قرآن و سنت سے بنتا ہے ورنہ کوئی بھی بتا دے کہ کونسا راوی اور کونسی تاریخ کی کتاب مستند ہے جس سے عقیدہ بنتا ہے۔ اگر عقیدہ قرآن و سنت سے بنتا ہے تو اہلسنت علماء حضور کے وصال کے بعد صحابہ کے صحابہ کے ساتھ مسائل، صحابہ کے اہلبیت سے معاملات اور اہلبیت کے اہلبیت سے مشاجرات پر خاموش ہیں کیونکہ ہر ایک کے حق میں قرآن و سنت موجود ہے۔

تحقیق: اسی طرح اپنی اولادوں کو دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث یا شیعہ نہیں بنانا بلکہ قرآن و سنت پر چلنے والا مسلمان بنانا ہے، اسلئے تحقیق کرنے کے لئے مذہبی جماعتوں سے سوال ہیں:

سوال: کیا دیوبندی اور بریلوی جماعتیں خلافت عثمانیہ، چار مصلے، اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے عقائد پرمتفق نہیں ہیں جن کو سعودی عرب کے وہابی علماء نے بدعتی و مشرک کہا؟ دونوں جماعتوں کا اختلاف صرف دیوبندی علماء کی چار کفریہ عبارتوں کا نہیں ہے؟ اگر یہ بات درست نہیں تو دونوں طرف کے علماء اکٹھے ہو کر بتا دیں کہ اختلاف کیا ہے اورکس کتاب میں لکھا ہے تاکہ اتحاد امت ہو۔ کیا علماء بتانا پسند کریں گے اور عوام پوچھنا پسند کرے گی؟

سوال: اہلحدیث جماعت بالکل “صحیح احادیث“ کے مطابق نماز ادا کرتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کس “ایک“ نے کس دور میں ”صحیح احادیث“ کے مطابق اہلحدیث جماعت کو نماز ادا کرنا سکھایا کیونکہ حضور، صحابہ کرام اور تابعین کے دور تک تو بخاری و مسلم لکھی نہیں گئیں اس سے پہلے اہلحدیث تھے مگر اہلحدیث جماعت نہیں تھی؟ کیا کوئی اہلحدیث جماعت سے اس کے مجتہد کا نام پوچھ کر بتا سکتا ہے؟

سوال: اہلتشیع بے بنیاد مذہب اسلئے ہے کہ قرآن و سنت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اہلتشیع کا تعلق نہ تو صحابہ کرام سے ہے جنہوں نے قرآن اکٹھا کیا اور نہ ہی اہلبیت (حضرات علی، فاطمہ، حسن و حسین و دیگرامام رضی اللہ عنھم) کا تعلق ان کتابوں (الکافی، من لا یحضرہ الفقیہ، تہذیب الاحکام، استبصار) اور اہلتشیع علماء (زرارہ، ابوبصیر، محمد بن مسلم، جابر بن یزید، ابوبریدہ) سے ہے، اسلئے اہلتشیع ختم نبوت کے منکر اور ڈپلیکیٹ علی کے حوالے سے اپنے دین کی عمارت بے بنیاد بنا کر بیٹھے ہیں۔

Share:

Leave a reply