اللہ پاک کے قریب کرنے والی باتیں(تزکئیہ نفس والی باتیں)

236
0
Share:

تزکئیہ نفس والی باتیں

1۔ دُنیا کے کام کرتے ہوئے پریشانی آئے، کسی پر اعتماد ہو مگر کام پڑنے پر وہ انکار کر دے، تیرے ساتھ کِیا ہوا کوئی وعدہ توڑ دے، کوئی سہارا نہ بنے، رزق کم پڑ جائے اور بیوی بچے بھی تنگ کریں جس سے تم دُکھی ہو، پریشانی بڑھتی جائے لیکن ایسی حالت میں بھی تو کسی کا گلہ نہ کرے، سب کو اسباب (مجبور) سمجھ کر نہ تو اللہ سے تعلق توڑے اور نہ تو نماز چھوڑے، اِس یقین کے ساتھ کہ یہ سب کچھ اللہ کریم کی طرف سے ہو رہا ہے اور بالکل ٹھیک ہو رہا ہے اس کو توکل کہتے ہیں۔

2۔ دین کا درد اُس کو ہوتا ہے جو دیندار ہو۔

3۔ موسیقی روح کی غذا ہے مگر گندی اور بد روح کی، اچھی اور پاکیزہ روح کی غذا اللہ کا ذکر ہے۔

4۔ اللہ کی مرضی کو اپنی مرضی ماننے پر سکون کے ساتھ ساتھ رضائے الہی ملتی ہے۔

5۔ کوئی اللہ تعالی کی نافرمانی جان بوجھ کر کرتا ہے اور کوئی غفلت کی وجہ سے کرتا ہے مگر دونوں اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں۔

6۔ نافرمان کوئی بھی ہو اللہ تعالی کے حکم کا منکر ہوتا ہے جس سے رحمت دور ہو چُکی ہوتی ہے اور اللہ کا غضب قریب مگر سمجھ کل آئے گی۔

7۔ کچھ لوگ کہتے ہیں اسلام میں داڑھی ہے داڑھی میں اسلام نہیں ہے، ایسے لوگوں سے پوچھا جائے ایسے اسلام میں تو کہاں ہے؟ داڑھی نبی کریم ﷺ کے چہرے کا نور، نبی کریم ﷺ کی صورت جیسی صورت بنانے کا حُکم ہے، اسلام میں داڑھی رکھنا سنت موکدہ اور اہلسنت حنفی کے نزدیک واجب ہے۔ جس کے اسلام میں داڑھی نہیں تو ہو سکتا ہے کہ اس کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق بھی نہ ہو۔ یہ سب شیطانی سوچ ہیں۔

8۔ اپنے والدین کیلئے دعا نیکو کار کرے یا گناہ گار، والدین کا درجہ بُلند ہوجاتا ہے۔

9۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا حُکم کس کا ہے اور جو دین کا چور ہو اُس کی۔۔۔

10۔ توبہ بکھرے ہوئے انسان کو سمیٹ لیتی ہے، توبہ جُھکی نظر کو اُٹھنے کے قابل بنا دیتی ہے، توبہ مقامِ بندگی پر دوبارہ لے آتی ہے، توبہ سے روح تک صاف ہو جاتی ہے، توبہ کے مقام پر گرے ہوئے آنسو ساری زندگی یاد رہتے ہیں، توبہ اس کے سامنے کرو جو توبہ کی عظمت کو جانتا ہو، توبہ صرف معافی اور استغفار کی تسبیح کرتے رہنا نہیں بلکہ اپنے آپ کو بدلنا اور جو کام غلط ہوا چھوڑ دینے کا نام ہے، توبہ مسلمانی میں آگے بڑھنے کا نام ہے، توبہ عشق کی بنیاد ہے، توبہ وہ جذبہ جو ایمان والے کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے۔

تحقیق: فتنہ اور فرقہ واریت سے بچنے کے لئے، اپنا جواب کل قیامت والے دن دینے کے لئے سوال کریں کیونکہ اپنی اولادوں کو دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث یا شیعہ نہیں بنانا بلکہ قرآن و سنت پر چلنے والا مسلمان بنانا ہے.

Share:

Leave a reply