احوال حضور نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

946
0
Share:

سلطان الاولیا ٔ، حضرت محمد بن احمد بن علی ،المعروف خواجہ نظام الدین اولیأ، محبوبِ الہیٰ دھلوی رحمۃ اللہ علیہ

احوال حضور نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی
رضی اللہ تعالیٰ عنہ

سیدنا سلطان المشائخ حضور خواجہ سید نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سلسلہ چشتیہ کے معروف بزرگ ہیں
آپ کا شجرۂ نسب سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔
آپ کا اصل نام سید محمد نظام الدین ہے اور والد گرامی کا نام حضرت سید احمد بخاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔

حضور نظام الدین اولیاء کی ولادت 636ھ 19 اکتوبر 1237ء میں ہوئی۔
آپ کے جدِ امجد حضرت سید علی بخاری اور نانا خواجہ عرب بخارا سے ہجرت کرکے بدایوں شریف اترپردیش پہونچے۔

ابھی آپ بمشکل پانچ برس کے ہوئے کہ والد ماجد کا انتقال ہو گیا لیکن آپ کی نیک دل، پاک سیرت اور بلند ہمت والدہ حضرت بی بی زلیخا نے سوت کات کات کر آپ کی پرورش کی۔
آپ نے قرآن کریم کی تعلیم ایک مقری بدایونی سے حاصل فرمائی اس کے بعد حضرت مولانا علاؤ الدین اصولی و حضرت مولانا کمال الدین علیہما الرحمہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی آکر حضرت خواجہ نجیب الدین متوکل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت میں رہے اور یہیں پر حضرت مولانا صوفی شمس الدین خوازمی سے علم دین حاصل فرمایا.

ظاہری علوم کے حصول کے بعد آپ بیس سال کی عمر میں اجودھن موجودہ پاکپتن شریف سیدنا حضور بابا فرید الدین گنج شکر کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور شرف بیعت حاصل کیا.
کچھ عرصہ وہاں رہ کر روحانی تربیت حاصل کی اور پھر حضور بابا فرید نے آپکو خلافت سے نوازا.
پیر و مرشد کے حکم پر ہی دہلی آکر محلہ غیاث پورہ میں مستقل سکونت اختیار کی۔ سلوک و معرفت کی تمام منزلیں حاصل کرنے کے باوجود آپ نے تیس سال تک نہایت ہی سخت مجاہدہ کیا۔ ایک دن آپکے خادم شیخ عبد الرحیم نے عرض کیا کہ حضور آپ سحری میں کچھ نہیں کھاتے ہیں اور افطاری کے وقت بھی کچھ نہیں کھاتے۔ ضعف و نقاہت سے کیا حال ہو گیا ہے۔ یہ سن کر آپ پر گریہ طاری ہو گیا۔ فرمایا: اے عبد الرحیم کتنے فقیر محتاج مسجدوں درسگاہوں اور چبوتروں پر بھوکے پڑے ہوتے ہیں، اس حالت میں میرے حلق سے نوالہ کیسے اتر سکتا ہے.

اللہ تعالٰی نے آپ کو کمال سلوک کے ساتھ ساتھ منصب مجذوبیت بھی عطا فرمایا۔ اہلِ دہلی کو آپ کی بزرگی کا علم ہوا تو آپ کی زیارت اور فیض و برکت کے حصول کی خاطر گروہ در گروہ آنے لگے اور ان کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہونے لگا۔ وقت کے بادشاہ اور امرأ بھی آپ سے عقیدت کا اظہار کرتے لیکن آپ ان کی طرف التفات نہ فرماتے۔ سلطان غیاث الدین بلبن کا پوتا معز الدین کیقباد کو آپ سے اس قدر گہرا تعلق تھا کہ اس نے آپ کی خانقاہ کے قریب موضع کھیلوکری میں اپنا قصر تعمیر کروایا اور وہیں سکونت اختیار کی۔ حضور خواجہ نظام الدین اولیاء بھی اپنی خانقاہ سے سلطان کی نو تعمیر جامعہ مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے جاتے لیکن آپ سلطان سے ملاقات کے لئے کبھی نہ گئے۔

آپ کے لنگر خانہ میں ہزاروں من کھانا پکتا اور ہزاورں کی تعداد میں فقراء اور مساکین آپ کی خانقاہ کے لنگر خانے سے کھانا کھاتے۔ وصال سے قبل آپ علیل ہوئے تو آپ نے وصیت کی گھر اور خانقاہ کے اندر جس قدر اثاثہ ہے سارے کا سارا مساکین اور غرباء میں تقسیم کر دیا جائے۔ آپ کے حکم پر خواجہ محمد اقبال داروغہ لنگر نے ہزا رہا من غلہ بانٹ دیا اور ایک دانہ بھی نہ چھوڑا۔

ایک دن آپ نے محفل میں فرمایا کہ جتنا غم و اندوہ مجھے ہے اتنا اس دنیا میں اور کسی کو نہ ہو گا کیونکہ اتنے لوگ آتے ہیں اور صبح سے شام تک اپنے دکھ درد سناتے ہیں وہ سب میرے دل میں بیٹھ جاتے ہیں پھر فرمایا عجب دل ہو گا جو اپنے مسلمان بھائی کا دکھ سنے اور اس پر اثر نہ ہو۔ ایک مرتبہ غیاث پورہ میں آگ لگی، گرمی کا موسم تھا۔ آپ چلچلاتی دھوپ میں اپنے مکان کی چھت پر کھڑے یہ منظر اس وقت تک دیکھتے رہے کہ جب تک آگ ٹھنڈی نہ ہو گئی پھر خواجہ محمد اقبال کو فرمایا کہ جاؤ ہر متاثرہ گھر والے کو دو تنکے، دو دو روٹیاں اور ٹھنڈے پانی کی ایک ایک صراحی پہنچا کر آؤ کیونکہ آبادی کے لوگ اس حالت میں بہت پریشان ہوں گے۔ جب خواجہ محمد اقبال وہاں پہنچے تو لوگ خوشی سے آبدیدہ ہو گئے۔ ایک تنکہ کی قیمت اس وقت اتنی تھی کہ کئی چھپر ڈلوائے جا سکتے تھے۔
آپ عظیم الشان شاعر بھی تھے اور موسیقی سے بے پناہ رغبت رکھتے تھے اس لئے قوالی آپکی محبوب ترین روحانی غذا تھی, چنانچہ آپ کے مشہور زمانہ وعزیز ترین مرید و خلیفہ سیدنا امیر الشعراء حضور امیر خسرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک قوال ہی تھے.

سرکارخواجہ نظام الدین اولیاء نے 18 ربیع الثانی بروز بدھ 725ھ بمطابق 4 مارچ 1324ء کو طلوعِ آفتاب کے وقت وصال فرمایا۔ مزار شریف سے متصل مسجد کی دیوار پر تاریخ وفات کندہ ہے۔

Share: